• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پختونخوا بلدیاتی انتخابات: معاشی بدحالی تحریک انصاف کو لے ڈوبی

خیبر پختونخوا کے 17اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ پرتشدد واقعات ،دھاندلی کےالزامات اور امیدواروں کی شکوں شکایات اور شدید بدانتطامی کے سائے تلے مکمل ہوگیا ہے، جس میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں عوام نے حکمران جماعت کو بدترین سیاسی شکست سے دوچار کرکے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جے یو آئی نے میدان مارکر سٹی مئیر پشاور کا تاج اپنے سر سجالیا ہے۔ 

اس کے علاوہ پشاور کی چھ دیگر تحصیلوں میں تحصیل مئیر ؍چیئرمین شپ کی دو نشستیں بھی جے یوآئی نے اپنے نام کرلی ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر پی ٹی آئی، تیسرے نمبرپر اے این پی سبقت لینے میں کامیاب رہی تاہم پاکستان پیپلزپارٹی چوتھےنمبر پررہی ،، غیر حتمی اورغیر سرکاری نتائج کے مطابق بلدیاتی انتخابات میں بحیثیت مجموعی جے یوائی ف کو برتری حاصل رہی ہے۔

جبکہ پی ٹی آئی دوسرے ،اے این پی تیسرے اور پی پی پی چوتھے نمبر پررہی ،تاہم حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت میں واضح کمی سامنے آئی ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج آنے میں تاخیر کےباعث سٹی کونسل پشاور کے میئر شپ کی نشست پر حکمران جماعت کے علاوہ پی پی پی ،جے یو آئی کی جانب سےکامیابی کے متضاد دعوے سامنے آئے،جن کے مطابق جے یوآئی اور پی پی پی دونوں کی جانب سے سٹی کونسل پشاور جو سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنارہا پر بھاری ووٹوں کے ساتھ کامیابی کے متضاد دعوے کئے گئے ،جبکہ حکومتی امیدوار کی خاموشی اور 69آر اوز کے مبینہ طورپر لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی جس کی وجہ سٹی کونسل پشاور کے میئر شپ کے امیدوار کے حوالےسے’’ دھند‘‘ سی چائی رہی۔

جماعتوں کی جانب سے پشاور کے میئر شپ کاتاج اپنے سر سجانے کےلے ایڑی چوٹی کا زور لگایاگیا،مختلف پولنگ سٹیشنوں سے موصول ہونےوالے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق سٹی میئر پشاور کا تاج اپوزیشن جماعت جے یوآئی ف کے سرسجانے کا فیصلہ دیاہے مگر حکومتی خاموشی اور کچھ وقت کےلئے آروز کی مبینہ عدم دستیابی سے نظر آرہاہے کہ صوبائی حکومت بھی سٹی کونسل پشاور کی میئر شپ کی نشست آسانی کےساتھ اپوزیشن کو دینے کے موڈ میں نہیں ،مگر جے یوآئی کے امیدوار زبیرعلی کو11ہزار سے زائد کی اکثریت سے آگے رہے جسے کور کرنا ممکن نہیں ہوگا،اور انہیں پشاور میں اپوزیشن کے میئر کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہوگا۔

نہ صرف سٹی کونسل پشاور کی سیٹ پرحکمران کاجماعت کو شکست کاسامناہے بلکہ پشاور کی چھ دیگر تحصیلوں میں حکمران جماعت بری طرح پٹ چکی ہے اور چھ میں سے صرف دو نشستیں حکمران جماعات کے حصے میں آسکی ہیں، غیر سرکاری اورغیر حتمی نتائج کے مطابق دو نشستیں اے این پی ،دو جے یو آئی لے چکی ہیں، مگراب تک کی صورت حال کے مطابق صوبے کے سترہ اضلاع میں ہونےوالے ان بلدیاتی انتخابات جے یوآئی اور اے این پی کی مقبولیت میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی کارکردگی مایوس کن رہی،صوبے میں جب ان انتخابات کاعمل شروع ہوتے ہی مختلف اضلاع میں پرتشدد واقعات کا آغا ز ہوگیا۔ 

جس کا پہلانشانہ ڈیرہ اسماعیل میں اے این پی کے سٹی میئر کے امیدوار عمر خطاب شیراتی ایڈوکیٹ بنے،جنہیں نامعلوم افراد نے پولنگ سے ایک روز قبل گولی مارکر شہید کیا ،توباجوڑ میں اے این پی کے امیدوار کی گاڑی کو بم دھماکے سے نشانہ بنایاگیا،اسی طرح کئی پولنگ سٹیشنوں پر ہلڑبازی اور توڑ پھوڑکے شکایات موصول ہوئیں، پشاور شہر میں سٹی میئر کے ایک پولنگ سٹیشن پر تو مبینہ دھاندلی کی انتہاکرتے ہوئے پولنگ ڈے سے ایک روز قبل رات کےا ندھیرے میں بیلٹ پیپرز پر مہریں لگانے جیسا افسوسناک واقعہ بھی سامنے آیا جس کی صوبائی الیکشن کمشنر نے تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے،اس سے ظاہر ہے کہ الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے پرامن انعقاد کے جو دعوے کئے تھے وہ تمام غلط ثابت ہوئے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید