تہران سمیت پورے ایران میں یوم القدس پر ریلیاں نکالی گئیں، جن میں صدر سمیت اعلیٰ قیادت نے شرکت کرکے امریکی دعوے کو جھوٹا ثابت کردیا۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیاں، وزیر خارجہ عباس عراقچی، قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی اور ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے ریلی میں شرکت کی۔
تہران میں انقلاب اسکوائر پر القدس ریلی میں دھماکا ہوا تاہم بے خوف شہری نعرہ تکبیر بلند کرتے رہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت بھی یوم القدس کی ریلیوں میں شریک ہوئی، ایرانی صدر مسعود پزشکیاں تہران میں ریلی میں شریک ہوئے، صدر سے لوگوں نے ہاتھ ملائے، سیلفیاں بھی بنوائیں۔
القدس ریلی میں ایران کے سیکریٹری نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی نے بھی شرکت کی، وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی تہران میں ریلی میں شریک ہوئے۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں انقلاب اسکوائر کے قریب علاقے میں دھماکا ہوا، دھماکے کے وقت انقلاب اسکوائر پر القدس ریلی میں ہزاروں افراد شریک تھے۔
علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ القدس ریلی پر حملہ اسرائیل کی کمزوری اور کنفیوژن کو ظاہر کرتا ہے، امریکی صدر ٹرمپ نہ سمجھ سکے کہ ایرانی قوم مضبوط، آگاہ اور پرعزم ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کا دفاعی نظام ختم ہونے اور رہنماؤں کے انڈر گراؤنڈ جانے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایران پر مزید سخت حملوں کی بھی دھمکی دے دی۔
انہوں نے کہا کہ آج سب سے سخت حملے ہوں گے ، آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پردنیا کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، امریکی سینٹ کام کا دعویٰ ہے کہ ایران میں 6 ہزار اہداف کو نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔