• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ کووِڈ-19وبائی مرض سے نبرد آزما ہونےکے لیے طبی فضلے کی شکل میں 80لاکھ ٹن سے زیادہ پلاسٹک تیار کرنے کی ضرورت تھی اور اس میں سے تقریباً 2ہزار ٹن سے زائد پلاسٹک اور فضلہ گزشتہ کئی مہینوں کے دوران پہلے ہی سمندر میں داخل ہوچکا ہے۔ وبائی مرض سے متعلق سمندر میں پھیلنے والے پلاسٹک کے حجم کا حساب لگانے کے لیے، سائنسدانوں نے ان راستوں کا نقشہ بنایا جو بالآخر سمندر سے جا ملتے ہیں اور بتایا کہ دنیا بھر کے بڑے طبی مراکزمیں استعمال کے بعد پلاسٹک فضلہ ان راستوں سے گزرتے ہوئے مقامی آبی ذخائر میں جائے گا۔ محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ دنیا بھر کے369بڑے دریا طبی مراکز سے پلاسٹک کو بہاکر سمندر تک لے جاتے ہیں۔

تحقیق سے پتا چلا کہ، وبائی مرض کے آغاز سے لے کر اگست 2021ء تک، پلاسٹک کا تقریباً نصف فضلہ (46فی صد) ایشیا سے آیا، جہاں ماسک پہننا زیادہ عام ہے، جب کہ بقیہ زیادہ تر فضلہ یورپ اور شمالی وجنوبی امریکا سے آیا۔ محققین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو 2100ء تک، وبائی مرض سے جُڑا تقریباً تمام پلاسٹک فضلہ ساحلی خطوں یا سمندر کے اندر پہنچ جائے گا۔ 

یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ طبی فضلے میں زیادہ تر پلاسٹک فضلہ شامل ہوتا ہے، جب کہ وبا سے بچاؤ کے لیے ذاتی تحفظ کا سامان، آن لائن شاپنگ کے باعث اضافی پیکیجنگ اور ٹیسٹنگ کٹس، وبائی امراض سے متعلق 15 فیصد سے بھی کم فضلے پر مشتمل ہوتی ہیں۔

مطالعہ کے مصنفین، جن کا تعلق امریکا اور چین کے اداروں سے ہے، ماحولیاتی طور پر باضابطہ طبی فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے انتظام کے طریقوں پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ، ’’یہ سمندری ماحول کے لیے ایک دیرپا مسئلہ ہے‘‘۔مزید برآں، وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اس طرح کے پروٹوکول کے قیام میں تعاون اور مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ بلاشبہ، عالمی سطح پر جب پلاسٹک فضلے کو روکنے کی بات کی جاتی ہے تو صرف وبائی مرض سے ہی اس کی پیداوار واحد وجہ نہیں ہے۔ اندازہ ہے کہ 2030ء تک امریکی پلاسٹک کی صنعت ماحولیات کو کوئلے سے زیادہ نقصان پہنچائے گی۔

سمندری پلاسٹک کے اثرات

برطانیہ کی کارڈف یونیورسٹی اور ایکسٹر یونیورسٹی کی گرین پیس ریسرچ لیبارٹریز کے تحت ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ آبی پرندے پانی سے کیڑے پکڑ کر اپنے گھونسلوں میں بچوں کو کھلا تے ہیں۔ تحقیق کرنے پر ان پرندوں کے معدے میں پلاسٹک کے باریک ذرات بڑی تعداد میں پائے گئے ۔ آبی پرندے اپنی خوراک کے لیے پانی میں پائے جانے والے کیڑوں اور حشرات پر انحصار کرتے ہیں۔ مگر اب ان کیڑوں کی خوراک میں وہ پلاسٹک بھی شامل ہو چکا ہے جو کوڑے کرکٹ کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے اور وہ ندی نالوں میں بہتا ہوا دریاؤں اور پھر سمندروں میں پہنچ جاتا ہے۔

اس عمل کے دوران پلاسٹک مسلسل ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتا ہے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور ذرات میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کئی برسوں سے سمندروں سے ایسی مچھلیاں مل رہی ہیں جن کے پیٹ میں بڑی مقدار میں پلاسٹک کے ٹکڑے پائے جاتے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کا فضلہ آبی حیات کی افزائش اور صحت کے لیے مسلسل ایک چیلنج بنتا جارہا ہے۔ اب سائنس دانوں کو ان پرندوں کے بچوں کے معدے میں بھی پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات مل رہے ہیں جن کی خوراک ان کے سرپرست پرندے پانی سے ڈھونڈ کر لاتے ہیں۔ پانی میں مختلف حجم کے لاتعداد کیڑے پائے جاتے ہیں۔ وہ مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کے ساتھ ساتھ ان پرندوں کی بھی خوراک بنتے ہیں جو پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

انسانی لاپرواہی سے پھینکا گیا پلاسٹک کا فضلہ ناصرف براہِ راست مچھلیوں اور آبی حیات کی خوراک بن کر ان کی نسلوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے بلکہ آبی پرندوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچے بھی اس کا نشانہ بن رہے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پلاسٹک کے پانچ ملی میٹر سائز کے ذرات جنھیں مائیکرو فائبر کہا جاتا ہے، ندی نالوں میں بہتے ہوئے دریاؤں یا سمندروں میں پہنچ کر دیگر چیزوں کے ساتھ کیڑوں کی خوراک بن جاتے ہیں جنہیں آبی پرندے شکار کر لیتے ہیں۔

’پلاسٹک سسٹم‘ کی ضرورت

کئی لوگ جس طرح خریداری کرتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں اور اپنی روز مرہ زندگی گزارتے ہیں، وہ اس سب میں بدلاؤ لارہے ہیں۔ سمندروں اور ساحلوں کو پلاسٹک سے صاف کرنے کے لیے کروڑں ڈالر خرچ کیے جارہے ہیں۔ تاہم یہ سب کوششیں، اس وقت تک بے سود ثابت ہوتی رہیں گی، جب تک ہم اپنی موجودہ روش جاری رکھتے ہوئے، پلاسٹک کو آلودگی کا حصہ بناتے رہیں گے۔ یاد رکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ محض ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بناکر اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا، ہم پلاسٹک کی آلودگی کے مسئلے سے ری سائیکلنگ اور ساحلوں کی صفائی کے ذریعے نہیں نمٹ سکتے۔ 

ہمیں اس مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ہوگا اور اسے وہاں ختم کرنا ہوگا، جہاں یہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ماحولیات اور معاشی فوائد پر سمجھوتہ کیے بغیر پلاسٹک کے فوائد سے استفادہ کرتے رہیں، تو ہمیں ایک مشترکہ مفاد کے حصول کے لیے ’پلاسٹک سسٹم‘ کو اپنے فوائد کے مطابق تشکیل دینا ہوگا، جس پر محققین بھی متفق ہیں۔

ختم کریں(Eliminate)

کچھ پلاسٹک ایسا بھی ہے جس کی یقیناً ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ جیسے کہ ایک بار استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے اسٹرا(Straw)، پلاسٹک کے چھرے، تھیلیاں، کانٹے اور چمچے، کپ اور گلاس، پیکیجنگ مٹیریل اور ایسے آئٹمز جن کا بہتر اور ماحول دوست متبادل موجود ہے۔

جدت پیدا کریں(Innovate)

جو پلاسٹک تیار اور استعمال کیا جاتا ہے، اسے اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ وہ تمام پلاسٹک بآسانی اور بحفاظت دوبارہ استعمال کے لائق بنایا جاسکے یا وہ زمین میں حل ہونے کی خصوصیت رکھتا ہو۔

گردش میں رکھیں (Circulate)

ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ استعمال کیا جانے والا پلاسٹک معیشت کا حصہ بنا رہے اور وہ کبھی بھی کچرے یا آلودگی کا حصہ نہ بنے۔

اس سلسلے میں ایلن مک آرتھر فاؤنڈیشن نے UN Environment کے اشتراک سے ’نیو پلاسٹکس اکانومی گلوبل کمٹمنٹ‘ کا آغاز کیا ہے۔ اس کمٹمنٹ پر دنیا بھر سے 250سے زائد اسٹیک ہولڈرز نے دستخط کررکھے ہیں، جن میں پروڈیوسرز، برانڈز، ریٹیلرز، انویسٹرز، ری سائیکلرز، حکومتیں اور غیرسرکاری تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ کمٹمنٹ ’سرکلراکانومی‘ کے بنیادی اور منفرد اصول پر مبنی ہے:معاشی ترقی کا ایک ایسا نظام ترتیب دیا جائے، جہاں ضیاع اور آلودگی کو ختم کیا جاسکے، ایک ہی پراڈکٹ اور مٹیریل کو بار بار اور مستقل استعمال میں رکھا جاسکے اور فطری نظام کی پیداوار کا عمل جاری رکھا جاسکے۔

اس کمٹمنٹ میں ختم کریں (Eliminate)، جدت پیدا کریں (Innovate) اورگردش میں رکھیں (Circulate) کے لائحہ عمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تاکہ معیشت میں پلاسٹک کا مؤثر اور کارآمد استعمال جاری رہےاور یہ آلودگی بڑھانے میں حصہ دار نہ بنے۔

کاروباری طبقے اور پالیسی سازوں کے درمیان ٹھوس اور وقت کے پابند اقدامات پر اتفاق ہونا، ایک بے مثال اشتراکی کوشش ہے، جو تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک مقصد کے حصول اور مطلوبہ ضروری اقدامات کے لیےمستقبل کا منصوبہ، نقشہ اور رہنما دستاویز فراہم کرتی ہے۔

اس کمٹمنٹ پر ابھی دنیا بھر سے پلاسٹک پیکیجنگ تیار کرنے والی 20فی صد کمپنیوں نے دستخط کیے ہیں، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس میں مزید کمپنیوں، حکومتوں اور غیرسرکاری تنظیموں کا شامل کیا جائے۔

پلاسٹک کے لیے ’سرکلر اکانومی‘ کی اس کمٹمنٹ کو ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (WWF)، ورلڈ اکنامک فورم اور کنزیومر گڈز فورم کی رضامندی حاصل ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کو احساس ہے کہ پلاسٹک کی آلودگی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مٹیریل سائنس، پراڈکٹ ڈیزائن اور ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی میں جدت ناگزیر ہوگی۔ جدت کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ناگزیر ہوگی تاکہ آلودگی کا حصہ بننے والے پلاسٹک کو اکٹھا کرکے اسے دوبارہ استعمال کے قابلِ بنانے کے لیے ضروری انفرااسٹرکچر تعمیر کیا جاسکے۔ 

مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے کمٹمنٹ پر دستخط کرنے والے تمام اسٹیک ہولڈرز، سالانہ بنیاد پر پیشرفت رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہیں۔ حرفِ آخر یہ کہ اس وقت سوال یہ نہیں ہے کہ کیا ہم پلاسٹک کی آلودگی سے پاک دنیا تخلیق کرسکتے ہیں یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ ایسی دنیا کو تخلیق کرنے کے لیے ہم کیا کوششیں کرسکتے ہیں اور کتنی کریں گے۔