• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 گزشتہ برس پاکستان کی سیاست گزشتہ برسوں کی سیاست سے کچھ زیادہ مختلف نہیں رہی۔ بعض مسائل اور معاملات 2020 کے معاملات اور مسائل کا اور بعض ہماری روایتی سیاست کا تسلسل تھے۔اب جب 2021اختتام کو پہنچ چکا ہےتو ایسے میں پیچھے پلٹ کر دیکھنے پر ذہن کے پردے پر ایک کے بعد دوسرے واقعے کے مناظر ابھرتے اور غائب ہوتے رہتے ہیں۔ 

کورونا کے معاملے پر سیاست،براڈ شیٹ کیس کی گونج،سینیٹ کے اورمختلف علاقوں میں ضمنی انتخابات،ڈسکہ میں ضمنی انتخاب پرالیکشن کمیشن کی رپورٹ،پی ڈی ایم کی سیاست کے اتار چڑھاو،بجٹ،منہگائی، بدعنوانیوں کے بارے میں حکومت کا بیانیہ اور نیب کی کارروائیاں، کنٹونمنٹ بورڈز اور خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات ،پنڈورا پیپرز کا معاملہ،نیب پر حزبِ اختلاب کی مسلسل تنقید، بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی ، آزاد کشمیر میں انتخابات، خورشید شاہ کی رہائی اور آغا سراج درانی کی گرفتاری، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ، ایک جھٹکے میں درجنوں قوانین کی پارلیمان سے منظوری، الیکشن کمیشن اور حکومت میں کھینچا تانی، تحریک لبیک کا دھرنا اور حکومت سے معاہدہ،قومی اسمبلی میں سارا سال شور شرابا، نیب کے چیرمین کے عہدے کی میعاد میں توسیع اور الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر کا مسئلہ، رانا شمیم کا بیان اور ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو،وغیرہ وغیرہ ایسے معاملات اور موضوعات تھے جنہوں نے گزشتہ برس سیاسی میدان وقتا فوقتا گرمائے رکھا۔

لیکن دراصل حکومت اور حزبِ اختلاف کے پاس سیاست کےلیے صرف ایک ایک نکاتی بیانیہ ہی تھا۔ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے تمام عہدے داران اور وزرا سارا سال ہر مسئلے کی وجہ ماضی کے حکم رانوں کی بدعنوانیوں اور ان کے ادوارِ حکومت میں لیے گئے قرضوں کو قرار دیتے رہے۔ یہ صاحبان ہر جلسے اور ہر مذاکرے میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے راہ نماوں سے یہ مطالبہ کرتے رہےکہ لُوٹی ہوئی دولت واپس کرو۔ 

دوسری جانب حزبِ اختلاف سارا سال وزیر اعظم کو ’’سلیکٹڈ‘‘ کہتی اوریہ مطالبہ کرتی رہی کہ ووٹ کو عزت دی جائے ۔ لیکن خود یہ جماعتیں ووٹ کو کتنی عزت دیتی ہیں اور وقت پڑنے پر کس طرح حزب ِ اقتدار اورحزبِ اختلاف کا فرق بھلاکر ایک دوسرے کے اراکین کو بلامقابلہ منتخب کراتی ہیں، اس کا مشاہدہ عوام گزشتہ برس ایوانِ بالا کے انتخابات میں وقتا فوقتا کرتے رہے۔

پناما کیس کے بعد براڈ شیٹ اسکینڈل نے 2020 میں پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچائی جس کی گونج 2021 کے ابتدائی مہینوں تک سنائی دیتی رہی۔ برطانوی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں دسمبر 2020ء میں آف شور فرم براڈ شیٹ کو لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے ساڑھے چار ارب روپے سے زاید جرمانے کی ادائیگی کی گئی تھی۔اس کے علاوہ کروڑوں روپے غیر ملکی وکلا کو فیس کی مد میں بھی ادا کیے گئے۔ یہ خبر سامنے آتے ہی ایک بھونچال آگیا تھا اور اپوزیشن نے حکومت کو نشانے پر رکھ لیاتھا۔

اس کہانی میں نیا موڑ اس وقت آیا جب براڈ شیٹ کے سربراہ کاوے مساوی نے اپنے ایک میڈیا انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ نیب کی تحقیقات کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کے نمائندے نے انہیں رشوت کی پیش کش کی تھی۔ انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کے مشیر برائے داخلہ و احتساب، شہزاد اکبر پر بھی بڑا الزام عاید کیا تھا کہ شہزاد اکبر کے ساتھ آنے والے شخص نے ان سے کہا تھا کہ اگر حکومت پاکستان اس معاہدے کو برقرار رکھتی ہے تو براڈ شیٹ اپنے بیس فی صد حصے میں سے انہیں کیا دے گی؟ لیکن آگے چل کر یہ معاملہ دیگر معاملوں کی طرح دب گیا تھاکہ یہ ہی پاکستان کی رِیت ہے۔

نیا سال شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک اور امتحان سے بھی گزرناتھا۔بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے 180ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں چار پوائنٹ کی کمی ہوئی تھی۔ یہ رپورٹ جاری ہونے کے بعد بعض وزرا کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ ڈیٹا پرانا ہے اور پچھلی حکومتوں کے ادوار کا احاطہ کرتا ہے۔ 

تاہم تنظیم نے اس کی تردید کردی تھی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال2020 میں پاکستان کو 180 ممالک میں 124 ویں درجے پر رکھا گیاتھا۔اس کے ساتھ پاکستان کا اسکور بھی سو میں سے گزشتہ برس کے بتّیس کے مقابلے میں کم ہو کر اِکتّیس ہوگیا تھا۔اس سے ایک برس قبل جاری ہونے والی 2019کی رپورٹ میں 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کی درجہ بندی 120 تھی۔

فروری کے پہلے ہفتے میں جاری کیے گئے ڈیموکریسی انڈیکس نے سیاست دانوں کو سیاسی بیانات کے لیے ایک اور موضوع فراہم کیا۔ مختلف ممالک میں جمہوری نظام کا جائزہ لینے والی بین الاقوامی تحقیقی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں پاکستان کے نظام حکومت کو’’ہائبرڈ‘‘ (مرکّب) قرار دیا۔ ڈیموکریسی انڈیکس 2020کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کے 165آزاد ممالک اور دو خود مختار خِطّوں میں رائج جمہوریت کا جائزہ لیا گیاتھا۔ عالمی شہرت یافتہ جریدے ’’دی اکانومسٹ‘‘ کے انٹیلی جینس یونٹ’’ای آئی یو‘‘ کی جمہوریت کے بارے میں جاری کردہ اس فہرست میں پاکستان 167 میں سے 105ویں نمبر پر تھا اور 2020 میں ملک کا مجموعی اسکور4.31 ریکارڈ کیا گیا تھا، جو اس سے پہلے کے دو برسوں کے مقابلے میں کچھ بہتر تھا۔

لیکن رپورٹ کے مطابق 2016اور اس سے پہلے کے برسوں کے مقابلے پاکستان کی جمہوریت میں تنزلی دیکھی گئی ۔رپورٹ میں پاکستان کو ترکی، نائیجیریا اور بنگلا دیش کے ساتھ ’’ہائبرڈ نظام‘‘ والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیاتھا۔ یاد رہے کہ رپورٹ کی تشکیل میں شہری آزادی، انتخابی نظام، سیاسی کلچر اور اس میں مختلف فکر کے حامل افراد کی شرکت کی گنجایش جیسے عوامل کا جائزہ لیا گیا تھا۔ای آئی یو نے پاکستان کے نظام حکومت کو ’’ہائبرڈ‘‘ (مرکّب) قرار دیااور کہاکہ ہائبرڈ نظام والے ممالک میں کافی انتخابی بے ضابطگیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے وہاں ہونے والے انتخابات ’’صاف اور شفاف‘‘قرار نہیں دیےجاتے۔

ادارےنے تمام ملکوں کو مکمل جمہوریت، ناقص جمہوریت، ہائبرڈ اور آمریت میں تقسیم کیا تھا۔ ہائبرڈ نظام کی تعریف میں لکھا گیا تھا کہ ایسے ملکوں میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور امیدواروں پر حکومتی دباؤ عام ہوسکتا ہے۔ کسی ناقص جمہوریت کے مقابلے میں یہاں شہری آزادی، انتخابی نظام اور سیاسی کلچر میں زیادہ کم زوریاں ہوسکتی ہیں۔ سول سوسائٹی کم زور ہوتی ہے،عام طور پر صحافیوں کو دھونس ،دھمکیوں اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے اور عدلیہ آزاد نہیں ہوتی۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سیاسی کلچر میں پاکستان کی کارکردگی سب سے بُری تھی۔ اس سے بہترا سکور سیاسی شرکت میں تھا۔یہ دوا سکورز سب سے بُرے تھے۔ گورننس ان سے کچھ بہتر اور انتخابی نظام اس سے بھی بہتر بتایا گیا تھا۔

مارچ کا مہینہ سیاسی اعتبار سے گزشتہ برس کا بہت اہم اور سرگرمیوں سے بھرپور تھا۔سینیٹ کے انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست سے حزب اختلاف کے مشترکہ امیدوار سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جیت کے بعدمارچ کے پہلے ہفتے میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینےکا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے لیے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےقومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ سینیٹ کے انتخاب میں یوسف رضا گیلانی نے پی ٹی آئی کے امیدوار اور وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ، عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے دی تھی جو حکومت کے لیے بہت بڑا سیاسی دھچکاتھا۔ یوسف رضا گیلانی کو 169 اور حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملےتھے۔ سینیٹ کا انتخاب حکومت کے لیے نہ صرف بہت اہم بلکہ ایک امتحان بھی تھا۔ اسی لیے اس کی کوشش تھی کہ اس کےلیے اعلانیہ رائے دینے کا طریقہ اپنایا جائے۔چناں چہ یہ معاملہ عدالت پہنچا اور فیصلہ آیا کہ خفیہ رائے رائے شماری کا طریقہ ہی آئینی ہے۔

ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے نئے چیئرمین کے انتخاب میں بارہ مارچ کو حکومتی امیدوار صادق سنجرانی 48 ووٹ لے کر کام یاب ہوئے۔ ڈپٹی چیئرمین کاعہدہ بھی حکومتی امیدوار کے نام ہوا جس پر مرزا محمد آفریدی 98 میں سے 54 ووٹ لے کر منتخب ہوئے۔اپوزیشن کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو بیالیس اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے اپوزیشن کے امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری کوچوّالیس ووٹ ملےتھے۔ یوسف رضا گیلانی کو ملنے والے سات ووٹ مسترد ہوئے جس پر اپوزیشن نے یہ معاملہ الیکشن ٹریبونل میں لے جانے کا کہا تھا۔

دراصل اپوزیشن کے ساتھ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں وہ ہی ہوا جو سینیٹ کے اراکین کے انتخاب کے موقعے پر عبدالحفیظ شیخ کے ساتھ ہوا تھا۔ایوانِ بالا کے انتخابات کے موقعے پر خفیہ کیمروں کی برآمدگی اگر چہ جمہوری ملک کے سب سے بڑے ایوان کے لیے بہت بڑی بات تھی، لیکن یہ معاملہ بھی کچھ ہی عرصے میں دب گیا تھا اور قوم کو اس کی حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں پتا چل سکا۔ ایوانِ بالا کے اراکین کے انتخاب کے ضمن میں ایک اور اہم بات سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے منحرف رکن شہریار شرکا ووٹ کاسٹ کرناتھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ کاسٹ کیا ہے۔

پی ڈی ایم کو نئے سال کےابتدائی مہینوں ہی میں کافی گہرے زخم لگ گئے تھے جن کی ٹیسیں سال بھر اسے تنگ کرتی رہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آٹھ دسمبر 2020کو اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعدذرایع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے اراکینِ اسمبلی اِکتّیس دسمبر تک پارٹی کے قائدین کے پاس اپنے استعفے جمع کرا دیں گے جو لانگ مارچ کے بعدا سپیکر قومی اسمبلی کو بھجوائے جائیں گے ۔ 

پھر پی ڈی ایم نے چودہ دسمبر2020کو لاہورمیں ہونے والے جلسے میں فروری2021کے قریب اسلام آبادکی طرف مارچ کرنے اور پارلیمان سے استعفے دینے کا اعلان کیاتھا۔نئے سال یعنی 2021کے آغاز پر بھی لانگ مارچ کی بات ہورہی تھی اور جب یہ برس اختتامی مہینے میں داخل ہوا تو بھی پی ڈی ایم کی جانب سے مارچ 2022 میں لانگ مارچ کے نئے عزم کا اظہار کیا گیا ۔ لیکن مارچ2021 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن کے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم نے جہاں ایک جانب اپنا لانگ مارچ ملتوی کر دیاتھا وہیں اس اتحاد میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں دوریاں بڑھ گئی تھیں۔ اور پی پی پی نے اپنی راہیں پی ڈی ایم سے جدا کرلی تھیں ۔ 

سترہ مارچ 2021کو پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے دینے کے حتمی فیصلے تک، 26 مارچ کو حکومت کے خلاف ہونے والا اپنا لانگ مارچ ملتوی کر دیا تھا۔لانگ مارچ کے ساتھ استعفے دینے کے حق میں نو جماعتیں تھیں، لیکن پی پی پی کو اس سوچ پر تحفظات تھے ۔ مریم نواز، مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف چاہتے تھے کہ اجتماعی استعفے دے کر لانگ مارچ کیا جائے اور یوں پارلیمان کے اندر اور باہر ایسی بحرانی صورت حال پیدا کر دی جائے کہ حکومت کے پاس نئے الیکشن کرانے کے سواچارہ نہ ہو۔دوسری جانب آصف زرداری کا موقف یہ تھا کہ مرحلہ وار چلا جائے اور سب سے آخری قدم اجتماعی استعفے ہوں ۔

جب اس کے لیے فضا تیار ہو اور جب استعفے دیے جائیں تو حکومت کے لیے نئے الیکشن کے سوا کوئی آپشن بچا ہی نہ ہو۔مولانا فضل الرحمن اور ن لیگ چاہتی تھی کہ پیپلزپارٹی ادھوری تحریک نہ چلائے۔ان کا خیال تھا کہ سندھ حکومت برقرار رکھنے اور اجتماعی استعفوں سے انکار کر کے پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ وہ نہیں چاہتے تھےکہ اجتماعی استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کیا جائے کیوں کہ یہ ایک ادھوری کوشش ہو گی۔

ان کی خواہش تھی کہ لانگ مارچ اور اجتماعی استعفے اگر ایک ساتھ ہو جائیں تو یہ حکومت کو گرانے اور کم زور کرنے کا کارگر حربہ ہوں گے۔پی ڈی ایم میں پیپلزپارٹی پر یہ بھی الزام لگایا جاتا رہاکہ وہ دراصل اسٹیبلشمنٹ سے کسی ڈیل میں مصروف ہے اوریوسف رضا گیلانی کی جیت اور سندھ حکومت کا برقرار رہنا دراصل اسی ڈیل کا حصہ ہے۔ سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کے بہ حیثیت قایدحزبِ اختلاف انتخاب پر بھی بہت کچھ کہا گیا۔

اپریل کی گیارہ تاریخ کو سیال کوٹ میں ایک اہم سیاسی معرکہ ہوا۔اس کے اہم ہونے کی کئی وجوہات تھیں جن کا آگے ذکر آئے گا۔گیا رہ تاریخ کو ڈسکہ میں ن لیگ کی کام یابی کو بعض سیاسی حلقوں نے نواز شریف کے بیانیے کی جیت قرار دیا۔ پاکستان مسلم لیگ نون کی امیدوار نوشین افتخار نے ڈسکہ کے حلقہ این اے 75 میں دوبارہ ہونے والا ضمنی انتخاب جیت لیا تھا۔ یاد رہے کہ اُنّیس فروری کو اس حلقے میں ضمنی الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگنے کے بعد الیکشن کمیشن نے یہاں دوبارہ انتخاب کا حکم دیا تھا۔

اس روز متعدد پولنگ اسٹیشنز کا عملہ رات بھر’ ’لاپتا‘‘ رہنے کے بعد اگلی صبح منظر عام پر آیا تھا۔ انتخاب میں شدید بے نظمی دیکھنے میں آئی تھی اوردو افراد جاں بہ حق اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ان حالات میں الیکشن کمیشن نے ڈسکہ کا ضمنی انتخاب کالعدم قرار دے کر دس اپریل کو وہاں دوبارہ پولنگ کا اعلان کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے حکم کو تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کی اپیل مسترد کرکے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم برقرار رکھا تھا۔

اس انتخابی معرکے کے بعد حکومت اور الیکشن کمیشن میں تناو بڑھنے لگا تھا، نون لیگ کی کام یابی کو بعض تجزیہ نگاروں نے ’’اہم پیغام‘‘سے تعبیر کرنا شروع کردیا تھا۔ اس معاملے پر بعد میں الیکشن کمیشن نے جو تحقیقاتی رپورٹ جاری کی اس نے پی ٹی آئی اور حکومت کی اخلاقی ساکھ کونقصان پہنچایا تھا۔

مئی کے مہینے میں پی ٹی آئی کے اندر جاری جہانگیر ترین گروپ کی کش مکش نے نیا رخ لیااورجہانگیر ترین کی جانب سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی بلاک بنانے کی خبریں سامنے آئیں۔لیکن اس کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ ’’کچھ لو،کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر معاملہ ’’نمٹا دیا‘‘ گیا ۔بعض سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کو ملنے والا ’’ریلیف‘‘اس کا بڑا ثبوت ہے۔ اسی دوران رِنگ روڈ اسکینڈل سامنے آگیا۔ اس سے مبینہ طورپر سب سے زیادہ فایدہ اٹھانے والوں کے طورپر وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا نام آیااور انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہوناپڑا۔اس معاملے میں وفاقی وزراشیخ رشید اورغلام سرور کے نام بھی آئے تھے۔لیکن وہ چند دنوں کا شورتھا، پھر سنّاٹاچھاگیا۔ ایف آئی اے ،نیب ،سب خاموش رہے اور کپتان نے بھی کچھ خاص اثر نہیں لیا۔

ستمبر کے وسط میں پاکستان کے چاروں صوبوں میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات ہوئےجو اگرچہ بلدیاتی سطح کےتھے، تاہم قومی سطح پر ان کے نتائج میں دل چسپی سامنے آئی۔ملک بھر کی تقریباً اُنتالیس چھاؤنیوں میں کُل دو سو چھ نشستوں پر انتخابات ہوئے۔ باقی تین چھاؤنیوں کی تیرہ نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ کام یاب ہو چکے تھے یا انتخابات ملتوی کر دیے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے ان انتخابات کو پر امن اور تسلی بخش قرار دیا تھا ۔ نتائج کے مطابق پی ٹی آئی نے مجموعی طور انتخابات میں برتری حاصل کی تاہم وہ صوبہ پنجاب سے کام یاب نہیں ہوپائی جہاں نون لیگ نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں ۔ 

خیال رہے کہ زیادہ تر کنٹونمنٹ بورڈز صوبہ پنجاب میں تھے۔ اس لیے ان انتخابات میں زیادہ نشستیں بھی پنجاب ہی کی تھیں۔نون لیگ کی جیتی ہوئی نشستوں میں لاہور کنٹونمنٹ نمایاںتھا۔تاہم پاکستان تحریکِ انصاف راول پنڈی ،چکلالہ اور واہ کنٹونمنٹ میں بھی ہارتی نظر آئی۔سیاسی مبصرین اور سوشل میڈیا پر صارفین کے لیے یہ ایک حیران کن بات تھی کیوں عام تاثر یہ پایا جاتا تھاکہ حکم راں جماعت کو عمومی طور پر کنٹونمنٹ کے علاقوں میں اچھی خاصی حمایت حاصل ہے۔ مجموعی طورپر پی ٹی آئی نےدوسو گیارہ میں سے تریسٹھ نشستوں پر کام یابی حاصل کی تھی۔ن لیگ نے پنجاب میں اکیاون نشستیں جیتیں اورپی ٹی آئی کے حصے میں اٹّھائیس آئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا میں جیتنا مشکل نہیں تھا، اسی طرح بلوچستان میں بھی۔ سندھ چودہ نشستوں کے ساتھ تقسیم رہا۔

رواں برس اپریل میں تحریک لبیک پاکستان کو ملک بھر میں تین روز کے مبینہ پُرتشدّد احتجاج کے بعد انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت وفاقی حکومت نے کالعدم قرار دےکر اس پر پابندی عاید کردی تھی۔ وفاقی حکومت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 کی ذیلی شق ایک کے تحت تحریک کو مذکورہ ایکٹ کے فرسٹ شیڈول میں بہ طور کالعدم جماعت شامل کرلیا تھا۔ سعد رضوی کوبارہ اپریل سے پنجاب حکومت نے ’’امن عامہ برقرار رکھنے‘‘ کے لیے حراست میں رکھا ہواتھا۔ٹی ایل پی نے بیس اکتوبر کو لاہور میں حکومت پنجاب پر اپنے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے احتجاج کا آغاز کیا۔

لاہور میں پولیس کے ساتھ تین روز تک جاری رہنے والی جھڑپوں کے بعد ٹی ایل پی نےبائیس اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کیا۔لاہور اور گوجرانوالہ میں مارچ کے دوران تصادم ہواجس میں مارچ کے شرکا اور پولیس، دونوں کے سیکڑوں افراد زخمی ہوئے اور بعض اموات بھی ہوئی تھیں۔ ابتدائی طور پر تنظیم نے ملتان اور لاہور میں دھرنے دیےتھے جس کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس دوران چھ بار حکومتی ٹیم کی جانب سے مذاکرات کےادوارچلے لیکن وہ ناکام رہے ۔ 

بالآخر اِکتّیس اکتوبر کوحکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدہ طےپاگیا اور نگرانی کے لیے کمیٹی قائم کردی گئی تھی(یہ معاہدے حکومت کی جانب سے تاحال خفیہ رکھا گیاہے)۔اس کے بعد وزریر آبار میں جاری دھرنا ختم کردیا گیاتھا۔جواب میں پارٹی پر لگائی گئیں مذکورہ پابندیاں اٹھالی گئ تھیں اور سعد رضوری کو رہا کردیا گیا تھا۔ اس احتجاج اور مذاکرات کے دوران حکومت نے ایک موقعے پر رینجرز کو مظاہرین کو گولی مارنےکے اختیارات بھی دے دیے تھے۔ لیکن پھر مذاکرات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کیا گیا۔

اکتوبر کے اوائل میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروہوں سے مذاکرات کی تصدیق اور معاف کرنے کی پیش کش کے بعدسیاسی اور سماجی حلقوں میں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پراس بارے میں کافی ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔ ترک نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروہوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انہیں معاف کیا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ یہ بات چیت افغان طالبان کے تعاون سے افغانستان میں ہو رہی ہے۔ تاہم وہ اس بات چیت کی کام یابی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔

نومبر کی پانچ تاریخ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی انتخاب سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا تھاکہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور منصوبہ بندی میں فردوس عاشق اعوان بھی شامل تھیں۔ 

رپورٹ میں کہا گیاتھا کہ انتخابی عملے اور سرکاری محکموں نے اپنا مناسب کردار ادا نہیں کیا اور انتخابی عملہ اورسرکاری محکمے اپنے غیر قانونی آقاؤں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنے رہے۔ رپورٹ میں تفصیل سے ان تمام حربوں اور حرکتوں کا ذکر کیا گیا تھاجن کا الزام ماضی میں پی ٹی آئی دیگر سیاسی جماعتوں پر لگاتی آئی تھی۔

حکومت پاکستان اور تحریک طالبان،پاکستان کے درمیان مذاکرات اور فائر بندی پر حزب اختلاف کی جانب سے تنقید کے بعد نومبر کے اوائل میں عسکری ذرایع نے واضح کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا انحصار ریاست کی جانب سے طے کردہ شرایط اور ریڈ لائنز پر ہو گا جو تحریک طالبان کے سامنے رکھی جا چکی ہیں۔

ان مذاکرات کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی اوراگر مذاکرات ریاستی شرائط کے تحت نہ ہوئے تو فوج شدت پسندوں کے خاتمے تک اُن سے لڑے گی۔یاد رہے کہ پیر کے روز اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس میں فوجی قیادت نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو تحریک طالبان پاکستان سے ہونے والے مذاکرات اور دیگر اہم سکیورٹی امور پر بریفنگ دی تھی۔تاہم اس اجلاس کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے سینیئر راہ نماؤں نے اس معاملے میں پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کرنے کے اقدام پر تنقید کی تھی۔

دوسری جانب اکتوبر کے اوائل ہی سے آئی ایس آئی کے سربراہ کے تقررکے معاملے پر شروع ہونے والی بحث زور پکڑتی گئی اور ملک میں اس تقرر اور سیاسی جماعتوں کے کردار کےضمن میں کافی باتیں ہوئیں۔ بعض ناقدین یہ کہتے سنائی دیے کہ اس تنازعے کے بعد سول ملٹری تعلقات کی خوش گواری کا تاثر ختم ہوگیاہے اور بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھاکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا کردار اس ضمن میں منفی تھا۔ نون لیگ نےاس مسئلےپرجو موقف اختیار کیا وہ اس کے بیانیےسےبالکل مختلف تھااوراس سے اس کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ متاثرہوا۔ پھر یہ معاملہ کچھ تاخیر سے ،مگر حل کرلیا گیا تھا۔

نومبر کے آغاز میں حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی سے ایک ہی روز میں اکّیس بلز 'انتہائی عجلت میں منظور کرائےگئےتھےجن میں الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2020'بھی شامل تھاجس پر بہت تنقید کی گئی تھی۔پھر نومبر کی سترہ تاریخ کو کون بچائے گا پاکستان؟ عمران خان، عمران خان،کے حکومتی اراکین کے نعروں سے شروع ہونے والا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس اپوزیشن کے 'شیم شیم کے نعروں سے گونجتا رہا۔اس اجلاس میں نعروں کی گونج تھی، تلخ کلامی معمول سے زیادہ اور طنز و مزاح بھرپور نظر آیا۔

انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سمیت تقریباً ساٹھ بلوں کی منظوری کے لیے پارلیمان کایہ مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا۔ نعروں ،تلخ کلامی اور بالآخر حزبِ اختلاف کے واک آوٹ کے باوجود حکومت نے بلز منظور کرالیے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل گیا رہ نومبر کو حکومت نے ہونے والا پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ملتوی کر دیاتھا۔ اس التوا کی وجوہات پر حکومت، اتحادیوں اور اپوزیشن کے مؤقف میں واضح تضاد نظر آ یا تھا۔ 

حکومت کا دعویٰ تھا کہ وہ اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر منانے کی ایک کوشش اور کر رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت کی اتحادی جماعتوں نے تصدیق کی تھی کہ یہ اجلاس حکومت نے اُن کے تحفظات کی وجہ سے ملتوی کیاتھا۔اتحادی جماعتوں کے راہ نماؤں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اتحادی جماعتوں کے ارکان کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، جس پر وزیر اعظم نے ان سے مزید مشاورت کا فیصلہ کیا تھا۔

بعد میں حزبِ اختلاف نےانتخابی اصلاحات کا قانون عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔انتخابی اصلاحات کے بل اور آئندہ عام انتحابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے بارے میں الیکشن کمیشن نےبھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ضروری ہے ،لیکن حکومت سادہ اکثریت سے اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرنے پر بہ ضد ہے۔

سندھ میں بلدیاتی نظام کے بارے میں قانون سازی پر تقریبا پورا سال ہی سیاست ہوتی رہی۔صوبائی حکومت نےچھبّیس نومبر کو سندھ اسمبلی میں بلدیاتی نظام سے متعلق ترمیمی بل2021کثرت رائے سے منظور کرا لیا تھا، جس کے بعد سے پی ٹی آئی، ایم کیو ایم پاکستان، پاک سر زمین پارٹی، جماعت اسلامی اور جی ڈی اے سراپا احتجاج ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا موقف ہے کہ اس ترمیمی بل سے بلدیاتی نمائندوں اور اداروں کے اختیارات کم ہو جائیں گے، جس کے خلاف ان جماعتوں نے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے اور پی ایس پی عدالت پہنچ گئی ہے۔

چھ دسمبر کو اسلام آباد میں پی ڈی ایم کا اجلاس ہواجس کے بعدذرایع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ پی ڈی ایم نے23مارچ کو اسلام آباد میں منہگائی مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ملک بھر سے لوگ آکر 23 مارچ کو اسلام آباد کے احتجاج میں شرکت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے استعفوں کا مسئلہ بھی آج کے اجلاس میں زیرِ غور آیا۔اسمبلیوں سے استعفوں کا کارڈ کب اور کیسے استعمال کرنا ہے، اپنے وقت پر فیصلہ کریں گے۔

اسی روز لاہور میں کچھ مختلف ہوا تھا۔ لاہور کے حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب میں نون لیگ نے اپنی نشست جیت تولی تھی، مگر اس کے ووٹوں میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے ووٹ بڑھ گئے تھے اور وہ چوتھے سے دوسرے نمبر پر آگئی تھی۔ اس حلقے میں حکم راںجماعت کے امیدوار جمشید اقبال چیمہ اور ان کی اہلیہ مسرت جمشیدچیمہ کے کاغذات نام زدگی جس طرح مسترد ہوئے وہ بھی سیاسی حلقوں کےلیے حیران کن اور ناقابلِ ہضم بات تھی۔

خانیوال میں سترہ دسمبر کو صوبائی اسمبلی کی ایک نشت پر ضمنی انتخاب ہوا جس میں میں مسلم لیگ نون فتح یاب ہوئی تھی۔ صوبہ پنجاب کے شہر خانیوال میں پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 206 کے کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ نوازکے امیدوار رانا محمد سلیم جیت گئےتھے۔ تحریک انصاف کی نورین نشاط ڈاھا دوسرے نمبر پر رہی تھیں۔ یہ نشست مسلم لیگ نون کے نشاط احمد ڈاہا کے انتقال کے باعث خالی ہوئی تھی جنہوں 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار رانا محمد اکرام کو شکست دے کر یہ نشست حاصل کی تھی اور بعد میں پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

دسمبر کی انّیس تاریخ کو صوبہ خیبرپختون خوا کے سترہ اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے پی ٹی آئی کے لیے مسائل پیدا کردیے ہیں۔سوالات کیے جارہے ہیں کہ کیا ان نتائج سے صوبائی اور مرکزی سطح پر سیاسی صورت حال پر کوئی اثر پڑ سکتا ہے اورپاکستان تحریک انصاف کے لیے یہ انتخابات مستقبل قریب میں کیا مشکلات پیدا کر سکتے ہیں؟ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جمعیت علما اسلام (ف) کی مقامی حکومت کے انتخابات میں کام یابی نے صرف پاکستان تحریک انصاف ہی کونہیں بلکہ دیگر بڑی سیاسی جماعتوں ،جیسے پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کو بھی قدرے پریشان کیا ہے۔

بعض کا خیال ہے کہ ان انتخابات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوا مخالف سمت میں چل پڑی ہے اور اس کے اثرات مستقبل میں دیگر صوبوں میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں بھی نظر آ سکتے ہیں۔ تادمِ تحریر موصولہ نتائج کے مطابق پی ٹی آئی بارہ تحصیلوں میں کام یاب ہوئی ہے۔ ان میں سے بیش تر بونیر کے علاقے سے ہیں۔ پشاور جیسے اپنے مضبوط گڑھ میں یہ جماعت صرف ایک تحصیل میں کام یابی حاصل کر سکی ہے اور باقی چار میں جمعیت علمائے اسلام ف اور دو میں اے این پی کام یاب ہوئی ہے۔

جے یو آئی(ف) سب سے آگے رہی ، پی ٹی آئی میئر کی کوئی سیٹ نہیں جیت سکی،چونسٹھ تحصیلوں میں سے ساٹھ کے نتائج مکمل ہو نے پر حکم راں تحریک انصاف دوسرے نمبر پر تھی۔جمعیت علماء اسلام (ف)اِکّیس، تحریک انصاف پندرہ،اے این پی چھ، آزاد امیدواردس نشستوں پر کام یاب ہوئے ہیں۔ نون لیگ نےتین، جماعت اسلامی نے دو، پیپلز پارٹی نے ایک نشست جیتی ہے۔ایک ایک سیٹ پر پاکستان اصلاحات پارٹی اور مزدور کسان پارٹی کا چیئرمین منتخب ہوا تھا۔

بعض افراد کے نزدیک آصف علی زرداری بہت ہوشیار سیاست داں ہیں جو اپنا ہر کارڈ بہت مہارت سے کھیلتےہیں۔ان ہی آصف علی زرداری نے اِکّیس دسمبر کونواب شاہ میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے طارق مسعود کے ظہرانے میں کارکنوں سے خطاب اورذرایع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کیں جن کی گونج پورے ملک میں سنی گئی اور اس پر خوب تبصرے ہوئے۔ ان کا کہنا تھا: ’’ تجربات کرکر کے ملک کا بیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔

اب یہ عالم ہےکہ وہ فرماتے ہیں کہ آکرہماری مددکریں،ہم کوئی طریقہ،فارمولا بنائیں ۔ لیکن جواب یہ ہے اب تم کرو اس کی چھٹی، پھر کرو ہم سے بات۔ پہلے دن ہی کہہ دیا تھاکہ نیب چلے گا تو حکومت نہیں چلے گی۔ اسمبلی میں پہلے دن ہی کہہ دیا تھاکہ آپ نے یہ بناتولیاہے چوں چوں کا مربہ، لیکن یہ چلے گا نہیں۔ یہ حکومت نہیں چلے گی۔ اب فرماتے ہیں کہ آپ آئیں مدد کریں‘‘۔

آصف زرداری کے مذکورہ بیان کےچند یوم بعد مسلم لیگ نون کے راہ نما،ایاز صادق کے اس بیان نے سیاسی ماحول مزیدگرمادیا کہ نواز شریف جلد وطن واپس آنے والے ہیں اور جلد کوئی بڑا دھماکا ہونے والا ہے ۔ اس بیان کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا بیان آیا کہ نواز شریف کی نااہلی ختم کرانے کے لیے راستے نکالے جا رہے ہیں، اگر نواز شریف کی سزا ختم کرنی ہے تو ساری جیلیں کھول دینی چاہییں۔ ان بیانات نے سیاسی حلقوں اور تجزیہ نگاروں کو بہت سے معاملات پر نئے انداز سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔

سینیٹ کے انتخابات سے شروع ہونے والا اپ سیٹ کا موسم سال کے آخر تک وقفے وقفے سےمختلف انداز سے اپنی چھب دکھلاتا رہا۔بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی، ڈسکہ کا ضمنی انتخاب، اس انتخاب کے بارے میں الیکشن کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ، کنٹونمنٹ بورڈز اور کے پی کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج ، رانا شمیم کا بیان اور ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو،ایک ماہ میں آصف زرداری کے لاہور اور نواب شاہ میں دوخطابات اوران کے دوران ان کا بدلا ہوا لہجہ اور الفاظ کا چناو، پنجاب میں پی پی پی کے ووٹ میں نظر آنے والا اضافہ سیاست کی نبض پڑھنے والوں کے لیے ’’معمول کے عمل‘‘ نہیں ہیں۔

بعض کہتے ہیں کہ یہ ’’عامل‘‘ اور معمول‘‘ کے کھیل میں ’’تبدیلی‘‘ کے اشارے ہیں۔کوئی لندن میں مبینہ طور پر ہونے والی تین ملاقاتوں کی بات کرتا ہے، کوئی سینیٹ کے انتخابات کے وقت سے پی پی پی کی ’’مشکلات‘‘ کم ہونے اور لائن سیدھی ہونے پر اصرار کرتا نظر آتا ہے۔ مگر عوام کی بِپتا کون سنے گا؟پی ٹی آئی کی حکومت کا ایک اور سال بیت گیا،لیکن حکومت اور حزبِ اختلاف میں جاری کشیدگی اور لفظی جنگ ختم ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات سیاسی ماحول کو مزید آلودہ کررہے ہیں۔

پارلیمان کے تقریبا ہر اجلاس میں ایک آدھ بار مچھلی بازار کا منظر دیکھنے کو مل جاتا ہے ۔ ملکی سیاست دو انتہاؤں میں تقسیم ہوگئی ہے اور اس میں سے اعتدال کا عنصر ختم ہوگیا ہے۔ سیاسی مخالفین کے درمیان اس حد تک اعتماد کا فقدان ہے کہ قومی ضرورت اور مشترکہ مفاد کے حامل معاملات پر بھی آپس میں بہت کم ہی تعاون کیا جاتاہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ملک کو درپیش اقتصادی اور دیگر چیلنجز سے ہماری توجہ ہٹ رہی ہے۔ ہوش ربا منہگائی نے بہت کچھ بدل دیا ہے اور بہت کچھ بدل رہی ہے۔ ان حالات میں جو لکیر کے فقیر بنے اپنے سیاسی بیانیوں پر اڑے رہیں گےنئے سال میں ان کے ہاتھ سے شاید بہت کچھ ’’اُڑ‘‘ چکا ہوگا۔