• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کیا بلدیاتی انتخابات اگست میں ہوجائیں گے؟

آزاد جموں و کشمیر میں 30سال قبل اکتوبر 1991 میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات ہوئے تھے 1996میں بلدیاتی انتخابات انعقاد تمام انتظامات مکمل ہونے کے بعد آخری وقت میں انتخابات کو ملتوی کردیا گیا جو آج تک نہیں ہوسکے گزشتہ 20 سالوں سے حکومتیں بلدیاتی انتخابات کا نعرہ لگا کر انتخابات میں جاتے ہیں حکومت قائم ہونے کے بعد حیلے بہانے کرکے پانچ سال پورے کرلیتے ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات نہیں ہوتے آزاد جموں کشمیر سپریم کورٹ نے چند ہفتے قبل اپنے فیصلے میں حکومت آزاد کشمیر کو مئی 2022میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا حکم دیا ہے۔ 

اس تسلسل میں وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار قیوم نیازی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے احترام میں بلدیاتی انتخابات جولائی اگست میں کرانے کا اعلان کیا چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) عبدالرشید سلہریا نے آزادکشمیر میں بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے حوالہ سے حلقہ بندیوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔ اس موقع پر سینئر ممبر الیکشن کمیشن راجہ محمد فاروق نیاز، ممبر الیکشن کمیشن فرحت علی میر نے لوکل کونسل کی از سر نو حلقہ بندیوں کے لیے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے 23 دسمبر 2021 تا 05 جنوری 2022 تیاری ابتدائی مسودہ ازاں حلقہ بندی کمیٹی، 06 جنوری 2022 تا 09 جنوری 2022 اشاعت ابتدائی مسودہ حلقہ بندی ازاں حلقہ بندی کمیٹی، 07 جنوری 2022 تا 14 جنوری 2022 حلقہ بندی اتھارٹی کے پاس عذر داریاں کرنے کا دورانیہ، 08جنوری 2022 تا 20 جنوری 2022 حلقہ بندی اتھارٹی کی جانب سے موصولہ عذر داریوں کی سماعت و فیصلہ جات کا دورانیہ، 21 جنوری 2022 تا 24 جنوری 2022 حلقہ بندی کمیٹی کی جانب سے حتمی حلقہ بندی الیکشن کمیشن کو ارسال کرنا ہوں گی۔ 

جبکہ بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کے سلسلہ میں لوکل کونسل ہاء کی ازسر نو حلقہ بندی کے لیے ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی میں ڈپٹی کمشنر چیئرمین حلقہ بندی کمیٹی ہوں گے جبکہ اسسٹنٹ کمشنر اور اسسٹنٹ الیکشن کمشنر، ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر ممبر ہوں گے جن لوگوں نے ابھی تک ووٹ کا اندراج نہیں کروایا وہ 20 فروری 2022تک اپنے ووٹ کا اندراج کروالیں حکومتی اقدامات اپنی جگہ اس سے قبل بھی آزاد کشمیر میں اس طرح کے انتظامات کیے جاچکے ہیں عدالت کے مطمئن ہونے کے بعد انتخابات نہ کروانے کیلئے مختلف جواز پیدا کیے گے ہیں وزیر اعظم اور چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے اعلان کے بعد سیاسی جماعتوں کے کارکن متحرک ہوگئے ہیں۔ 

مختلف علاقوں سے امیدوار سامنے آرہے ہیں آزاد کشمیر کے بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کیلئے حکومت پر بڑا دباؤ تھا وہ بھی ٹل گیا ہے تحریک انصاف کے کارکن انتخابات کی تیاری میں لگ گے ہیں بلدیاتی انتخابات میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمیشہ اراکین اسمبلی اور وزرائے حکومت نے پیدا کی ہے کہ اراکین اسمبلی بے اختیار ہوجاتے ہیں اراکین اسمبلی کو تقریبا 10کروڑ روپے سالانہ ملتے ہیں وہ فینڈز بلدیاتی اداروں کو منتقل ہوجائیں گے ٹی ڈی کوٹہ بھی ممبر لوکل کونسل کو منتقل ہوجاتا ہے سابقہ حکومتوں کی طرح تحریک انصاف کی حکومت کیلیے بھی بہت ساری مشکلات ہونگی وقتی طور پر حکومت پر ایک دباو کم ہوگیا ہے کہ صوابدیدی عہدوں پر تعیناتیاں رک گی ہیں آنے والے چند دنوں میں اراکین اسمبلی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تحفظات سامنے آجائیں گے۔ 

وزیر اعظم آزاد کشمیر بلدیاتی انتخابات کے لیے اگست 2022 کے نئی تاریخ دی جائے گی کوئی بھی وزیر اعظم اراکین اسمبلی کی ناراضگی مول نہیں لیے سکتا سابقہ حکومت میں مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے وزیر اعظم کودے دیے تھے کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرائے جائیں اس کے بعد ن لیگ کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیےتھے گزشتہ حکومتوں میں بھی کئی تاریخیں دی گی ہیں دوسری جانب سینئر وزیر و صدر تحریک انصاف آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس وزیر اعظم عمران خان کے قربت کرتے جارہے ہیں پاکستان میں دوروں میں تنویر الیاس کو اپنے ہمراہ رکھا جارہا ہے۔ 

دورہ میانوالی کے دوران بھی سردار تنویر الیاس ہیلی کاپٹر پر وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ رہے، سفر کے دوران سردار تنویر الیاس نے وزیر اعظم پاکستان کیساتھ آزاد کشمیر میں تعمیر و ترقی، آزاد کشمیر میں سیاحت کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے کی گئی منصوبہ بندی سمیت 5سو ارب کے ترقیاتی پیکج پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، سردار تنویر الیاس نے 5سو ارب کے ترقیاتی پیکج کے اعلان پر عملدر آمد کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے 2022 میں آزاد کشمیر کے ہم سیاسی فیصلے متوقع ہیں وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ن لیگ آزاد کشمیر اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر مسلم کانفرنس جے کے پی پی کے اراکین اسمبلی کے نرم گوشہ پر وزیر اعظم عمران خان نے پسند نہیں کیا۔

 سردار عتیق احمد خان اور جے کے پیپلز پارٹی کے سردار احسن ابراہیم کے حوالے سے تحریک انصاف کے اندر بھی وزیر اعظم آزاد کشمیر کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو آزاد کشمیر کے اراکین اسمبلی نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر تحریک انصاف کے لوگوں کو اہمیت نہیں دے رہے عمران خان نے سردار تنویر الیاس کو کارکنوں کے مسائل حل کرنے کا حدف دیا ہے کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر میں شروع دن سے تین حصوں میں تقسیم ہے ہر گروپ اپنے اپنے لوگوں کی ایڈجسٹمنٹ کےلیے کوششیں کررہا ہے۔ 

گزشتہ دنوں وزیراعظم بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے میڈیا کے سوالوں جب جواب نہیں دے رہے تھے انکے ہمراہ بیٹھے وزرائے حکومت بجائے وزیراعظم کی معاونت کرنے کے وزیر اعظم کی سادگی پر مسکرا رہے تھے بیرسٹر سلطان محمود چوہدری گروپ کو انہیں آزاد کشمیر کی صدارت چھوڑ کر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا مشورہ دیے رہے ہیں بیرسٹر سلطان محمود گروپ وقت کے انتظار میں ہے اس گروپ نے دل سے سردار قیوم نیازی کو تسلیم نہیں کیا وہ حالات اور وقت پر اہم چال چلیں گے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید