بھارتی ریاست کرناٹک میں باحجاب مسلمان طالبات کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی کے معاملے پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ حجاب پر پابندی بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اسد الدین اویسی نے بھارتی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حجاب پر پابندی سیاسی نفرت انگیزی کی واضح مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت میں سیاسی نفرت انگیزی میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔ بی جے پی ان تمام عناصر کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
اس سے قبل اسد الدین اویسی نے ہندو انتہا پسندوں کے سامنے کمال بہادری کا مظاہرہ کرنے والی مسلم باحجاب طالبہ مسکان کو فون کر کے شاباشی دی۔
اسد الدین اویسی نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’منڈیا پی ای ایس کالج کرناٹک کی بہادر حجابی لڑکی بی بی مسکان سے فون پر بات کی۔‘
انہوں نے کہا کہ ہندو شرپسندوں کا اکیلے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی مسکان کے والد صاحب سے بھی بات کی اور مسکان کی ہمّت اور جسارت کی داد دی اور انکی حوصلہ افزائی کی۔
اسد الدین اویسی نے مسکان کے والد سے کہا ک مسکان کی بے باکی کو دیکھ کر ہمیں بھی حوصلہ ملا ہے۔