آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ13؍ شعبان المعظم 1440ھ19؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آصف علی زرداری ملک کے ایسے پہلے صدر ہیں جنہیں اپنوں، غیروں یہاں تک کہ بدترین سیاسی مخالفین نے بھی ”اچھے الفاظ“ سے رخصت کیا۔ اس تحریر کی اشاعت کے اگلے روز (9ستمبر) یہ ”سابق صدر“ بن جائیں گے تاہم ملک کی 66سالہ تاریخ میں وہ پہلے صدر ہیں جن کے اعزاز میں وزیر اعظم نے ایک پرتکلف ظہرانہ دیا جس میں مولانا فضل الرحمن، چوہدری شجاعت حسین اور شیخ رشید تک سب سیاسی حلیف و حریف شریک تھے (تحریک انصاف کی کمی محسوس کی گئی ۔ کہتے ہیں کہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا تھا) دونوں جانب سے ”خوبصورت الفاظ کے ایسے گلدستوں“ کا تبادلہ ہوا کہ سننے اور دیکھنے والے سب ہی اس تبدیلی پر حیران بھی ہوئے اور اطمینان کا اظہار بھی کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف سیاسی طور پر ہم آہنگی اور مفاہمت چاہتے ہیں۔ یہ بڑی حد تک درست بھی ہے کہ اب وہ ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ ہی نہیں 18کروڑ عوام کے ”سربراہ حکومت“ ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس دن ہمارے سیاسی قائدین کو اس کا ادراک ہو گیا بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم صحیح ٹریک پر آ رہے ہیں۔ دوسری طرف آصف زرداری کا یہی حسن ہے کہ ہر طرح کی تنقید ، طنز اور مخالفت کو برداشت کیا اور ”مفاہمت کا سفر“ جاری رکھا کسی کو پلٹ کر جواب نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آئینی مدت پوری کرنے میں سرخرو ہوئے ہیں۔ ملک میں

4گورنر جنرل 10صدر گرامی قدر ہو گزرے ہیں فوجی حکمرانوں کے علاوہ کسی نے آئینی مدت پوری نہیں کی۔ کوئی نکالا گیا کسی سے استعفیٰ لیا گیا۔
قائد اعظم علیہ الرحمہ جلد ہی رخصت ہو گئے ان کے بعد مشرقی پاکستان کے وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل بنے لیکن نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد خواجہ صاحب مرحوم نے خود ہی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا اور وزیر خزانہ ملک غلام محمد وارثی کو پراسرار طور پر گورنر جنرل بنایا گیا۔ وہ بڑے با اختیار اور اتنے طاقتور تھے کہ 1953ء میں دستور ساز اسمبلی توڑ کر امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم بنا دیا۔ ملک غلام محمد بیمار تھے اور آخری عمر میں تقریباً مفلوج ہو گئے تھے لیکن ”اقتدار“ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے تو ایک فائل میں استعفیٰ رکھ کر ان کی صاحبزادی سعیدہ ملک کے ذریعے دستخط کروائے گئے ۔ اور کابینہ نے میجر جنرل (ر) سکندر مرزا کو گورنر جنرل بنا دیا۔ 1956ء میں آئین منظور ہونے کے بعد سکندر مرزا پہلے صدر بنے ان کا انجام یہ ہوا کہ فوجی جرنیلوں نے ان سے جبراً استعفیٰ لے کر ملک بدر کردیا۔ جنرل ایوب خان آمر تھے۔ ملک میں ان کے خلاف عوامی تحریک چلی تو جنرل یحییٰ خان نے ان کو نکال باہر کیا اور خود چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر بن بیٹھا اس کے سیاہ دور میں ملک ہی ٹوٹ گیا اور ملک کو بچانے کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کو سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدر بننا پڑا۔ 1973 ء کے آئین کی منظوری کے بعد فضل الٰہی چودھری صدر مملکت بنے لیکن وہ محض ”آئینی صدر“ تھے۔ جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا تو انہیں بھی ہٹا دیا گیا اور صدر ضیاء الحق کا دور طیارہ کے ایک حادثہ پر ختم ہو گیا۔ سینٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان صدر بنے تو ایوان صدر کو سازشوں کا گڑھ بنا دیا گیا۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی اور 1993ء میں جب وزیر اعظم میاں نواز شریف کو استعفیٰ دینے کے لئے کہا گیا تو انہوں نے اسے صدر کے استعفے سے مشروط کر دیا اس طرح غلام اسحاق خان پشاور سدھارے۔ طے یہ ہوا تھا کہ وسیم سجاد نئے صدر ہوں گے مگر محترمہ بے نظیر بھٹو اس وعدے سے پھر گئیں اور اپنے ”وفادار ساتھی“ سردار فاروق لغاری کو صدر بنوا دیا۔ وزیر اعظم اور عدلیہ کے درمیان اختلافات کی وجہ سے صدر لغاری کو استعفیٰ دینا پڑا۔ اس وقت میاں نواز شریف وزیر اعظم تھے انہوں نے ایک ریٹائر جج رفیق تارڑ کو صدر بنا لیا جب جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت ختم کی تو خود چیف ایگزیکٹو بنا اور صدر تارڑ کو برقرار رکھا۔ وہ صدر کیوں رہے اس بارے میں محترم عرفان صدیقی ہی کچھ بتا سکتے ہیں۔ ابھی ان کی صدارت کو تین سال ہی ہوئے تھے کہ جنرل پرویز مشرف نے کام پورا ہونے کے بعد انہیں ایوان صدر سے نکال دیا اور خود صدر بن بیٹھے۔ 2008ء کے الیکشن کے بعد جنرل مشرف اپنا راج سنگھاسن برقرار رکھنا چاہتے تھے غیر ملکی سرپرستوں کی حمایت بھی حاصل تھی لیکن میاں نواز شریف کا مسلسل دباؤ تھا کہ ان سے نجات حاصل کی جائے اور اسمبلی میں ان کے خلاف باقاعدہ تحریک لائی جائے ۔ جب سیاسی اور عوامی دباؤ بہت بڑھ گیا تو غیرملکی دوستوں کی ضمانت پر صدر مشرف استعفیٰ دینے پر رضا مند ہو گئے۔ اگرچہ انہیں گارڈ آف آنرز دے کر رخصت کیا گیا لیکن اس طرح وزیر اعظم کی جانب سے ”دعوت شیراز“ کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی ”اچھے جذبات “ کا اظہار کیا گیا۔ اس طرح صدر زرداری پہلے صدر ہیں جنہیں آئینی اور جمہوری طریقے سے رخصت کیا گیا ہے۔ یہ بڑی بات ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے آنے والے صدر ممنون حسین سے یہ امید وابستہ کی ہے کہ وہ زرداری صاحب کے مفاہمت کے راستہ کو اپنائیں گے اور ”فرینڈلی اپوزیشن“ کا خوبصورت کھیل جاری رہے گا۔ صدر زرداری سے لاکھ اختلاف ہو سکتے ہیں اور ان کا دور مثالی بھی قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ وہ گوشت پوست کے انسان ہیں ، ان سے غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور بعض خامیاں بھی ہوں گی۔ ان پر اقتدار میں آنے سے پہلے بھی بہت سے الزامات لگے اور بعد میں بھی ان کی ”بازگشت“ سنی گئی کہ ایک وزیر اعظم نے اپنے اقتدار کی قربانی بھی دی۔ لیکن سب کو اس بات کا اعتراف ہے کہ جناب زرداری کے خلاف ”بڑی تند و تیز“ تقاریر کی گئیں۔ ”علی بابا، علی بابا“ کا شور اٹھا لیکن کیا مجال کہ ان کے ”ماتھے پر شکن“ ابھری ہو۔ دلوں کا بھید تو رب تعالیٰ جانتا ہے لیکن ظاہراً ان کے منہ سے ”مفاہمت“ کی بات کی جاتی رہی اور دوستی کا ہاتھ آگے بڑھا رہا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مرحوم گورنر سلمان تاثیر اور اس وقت کے وزیر قانون بابر اعوان شریف برادران کے خلاف ایسی زبان استعمال کرتے رہے جو کسی صورت زیب نہیں دیتی تھی اور یہی کہا جاتا تھا کہ انہیں صدر زرداری کی حمایت اور پوری آشیر باد حاصل ہے۔ لیکن صدر زرداری نے اپنے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ ان کے بقول وہ صبر کرتے رہے اور یہ اس صبر کا پھل ہے کہ انہوں نے پانچ سالہ آئینی مدت پوری کر لی ہے جو پاکستان کی تاریخ کا ”جمہوری کارنامہ“ ہے۔ وزیر اعظم کے ظہرانے میں جن جذبات کا اظہار کیا گیا ہے ضرورت ہے کہ اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے کہ سب کہتے ہیں اور یہ درست بھی ہے کہ ملک جن گھمبیر سیاسی ، معاشی، انتظامی بحرانوں سے دوچار ہے اس میں سیاسی جماعتوں ہی نہیں سول سوسائٹی اور عوام کے اتحاد و اتفاق کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ وزیر اعظم نے ”خیرسگالی“ کا پیغام دے کر اس کی ابتدا کر دی ہے۔ صدر زرداری، ان کی پارٹی پیپلز پارٹی ہی نہیں دوسری سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی ماضی کی تلخیوں اور کوتاہیوں کو بھلا کر وطن کی سالمیت و استحکام، تعمیر و ترقی کے لئے قدم سے قدم ملا کر چلنا ہو گا۔ اس بات کا احساس اور ادراک کرنا ہو گا کہ ملک دہشت گردی، بدترین لوڈشیڈنگ کے علاوہ اقتصادی و معاشی مسائل سے دوچار ہے۔ عوام کے مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے تدارک کا صرف اور صرف ایک ہی طریقہ اور حل ہے کہ سب ”جماعت و ذات“ سے بلند تر ہو کر ایک اور نیک ہو جائیں کہ علامہ اقبال خبردار کر گئے ہیں
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں