• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر فراز معین

اسسٹنٹ پروفیسر،پروٹیومکس سینٹر،جامعہ کراچی

حیاتیاتی ارتقاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تقریباً ساڑھے تین ارب سال پہلے شروع ہوئی تھی، جس میں دن اور رات کا چکر سب سے زیادہ اثرانداز ہونے والا عنصر تھا۔ جانداروں میں روشنی کو توانائی حاصل کرنے کے لئے بنیادی ذریعے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ دوسری طرف یہ روشنی جانداروں میں دیکھنے کی صلاحیت کو پیدا کرنے کے لیے بھی وجہ بنی ۔ یہی وجہ ہے کہ شروع کے ارتقائی عمل کے نتیجے میں جو جاندار وجود میں آئے جوکہ یک خلیاتی جاندار تھے ان میں بھی روشنی کو محسوس کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی خُردنی حصہ موجود ہوتا تھا۔ 

بڑے جانداروں اور انسانوں میں یہ کام آنکھ انجام دیتی ہے۔ ویسے تو پورا انسانی وجود ہی ایک تخلیقی شاہکار ہے، مگر کچھ اعضاء انسانی جسم میں ایسے ہیں کہ جن کا مطالعہ حیرت زدہ کردیتا ہے ۔آنکھ بھی ایک ایسا عضوء ہے اگر انسانی آنکھ کی ساخت کی بات کی جائے تو یہ ایک کامل دائرے کی طرح نہیں بنتی ہے، بلکہ یہ ایک دو حصوں پر مشتمل اکائی ہے جو سامنے اور پچھلے ٹکڑوں کو ملا کر بنتی ہے۔ سامنے والا حصہ کارنیا، ایرس اور آنکھ کے عدسے سے مل کر بنتا ہے۔ کارنیا سب سے اوپر والی شفاف اور زیادہ خم دار جھلی ہے جو آنکھ میں پیچھے اور اندر کی طرف جاتے ہوئے بیرونی سفید خول پر مشتمل جھلی سے جڑی ہوتی ہے۔ 

کارنیا اور آنکھ کے عدسے کے درمیان میں ایک خاص مائع بھرا ہوتا ہے اور عدسے کے بالکل سامنے کالی پتلی اور آنکھ کا رنگ پیدا کرنے والی ائیرس موجود ہوتی ہے۔ آنکھ کا پچھلا حصہ زیادہ بڑا ہوتا ہے جو تقریباً چوبیس ملی میٹر کا قطر رکھتا ہے۔ اس میں بھی ایک خاص مائع بھرا ہوتا ہے جو آنکھ کو گول شکل دینے میں اور روشنی کو ریٹنا پر مرتکز ہونے میں مدد دیتا ہے۔ ریٹنا آنکھ کی اندرونی جھلی ہے جو روشنی سے حساسیت رکھتی ہے اور دیکھنے والی چیز کی تصویر بناتی ہے، جس سے کوئی بھی شہ جیسی ہوتی ہے، ویسی دیکھائی دیتی ہے۔ 

ائیرس جو آنکھ کے عدسے کے سامنے موجود ہوتا ہے، اس کے درمیان میں موجود کالی پتلی دراصل چھوٹی یا بڑی ہو کر آنکھ میں داخل ہونے والی روشنی کی مقدار کو قابو میں رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رات کے وقت یہ سیاہ پتلی پھیل کر بڑی معلوم ہوتی ہے اور دن کے وقت روشنی میں چھوٹے سے نقطے کی مانند ہوجاتی ہے۔ آنکھ کا عدسہ اس سارے عمل میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے اور دور یا قریب کی بینائی میں مدد دیتا ہے۔ یہ عدسہ آنکھ میں موجود چھوٹے پٹھوں کے ذریعے سکڑ اور پھیل سکتا ہے۔ آنکھ میں داخل ہونے والی روشنی کو ریٹینا جھلی کے حساس خلیات کی طرف مرتکز کرتا ہے۔یہ خلیات روشنی کی توانائی کو برقی رو میں تبدیل کر کے اعصابی رگ کے ذریعے دماغ تک پہنچا تا ہے۔ 

اس طریقے سے ہم اپنے آس پاس تمام چیزوں کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر آنکھ میں جو سب سے زیادہ خرابی دیکھنے میں آتی ہے وہ اسی عدسے کی وجہ سے ہوتی ہے مثال کے طور پر موتیا، دور یا قریب کی نظر کا کمزور ہونا اور بڑھتی عمر کے ساتھ آنکھوں کا کمزور ہونا وغیرہ۔ آنکھ کا عدسہ سَتّرفی صد پانی اور تیس فی صد لحمیات پر مشتمل ہوتا ہے۔ عدسے کے لحمیات میں سب سے زیادہ پایا جانےوالا لحمیہ کرسٹلین کہلاتا ہے۔ عدسے میں مختلف قسم کے کرسٹلین ہوتے ہیں جن کے علاوہ عدسے کے فائبر پروٹین بھی ہوتے ہیں جو عدسے کی ساخت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کرسٹلین شفاف اور اضطراری پروٹین ہے جو عدسے کی توجہ مرکوز کرنے کی طاقت میں حصہ ڈالتے ہیں۔ 

یہ انتہائی حل شدہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جڑ کر ایک گچھا بنانے کے خلاف صلاحیت رکھتے ہیں۔ البتہ عمر بڑھنے کے نتیجے میں ایسا ہوسکتا ہے کہ کرسٹلین کا مجموعہ بن جائے جو کہ موتیا کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس صورت میں آنکھ کے عدسے سے روشنی گزرنے کا عمل خراب ہوجاتا ہے، جس کے سبب نظر دھند لا پن کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس پروٹین کے موتیا پیدا کرنے کے طرز عمل کو تحقیقی طور پر بڑی تفصیل سے مطالعہ کیا گیا، جس میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کرسٹلین کے ایک دوسرے سے جُڑ جانے اور جمع ہونے کے کئی راستے ہیں جو مختلف شکلوں کے ساتھ ان مجموعوں کا باعث بنتے ہیں۔ سب سے اہم ان لحمیات کی حل پذیری اور استحکام ہے۔ 

حیاتیاتی طبیعیات اور ساختی حیاتیات کی تکنیکیں اس بات کی تفصیلی تصویر فراہم کرنا شروع کررہی ہیں کہ کس طرح یہ پروٹین عد سے میں اتنی بڑی تعداد میں موجود ہونے کے باوجود الگ الگ رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے مضبوط بونڈ بنانے سے گریز کرتے ہوئے اعلیٰ اضطراری صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ عدسے میں موجود ستر فی صد پانی دراصل ان لحمیات کی فعالیت کے لیے ضروری ہے۔ جینیاتی طور پر کرسٹلین کے دو اہم گروپ، الفا کر سٹلینز اور بیٹا گاما کرسٹلینز ہیں۔ الفا کرسٹلین سالماتی چیپیرونز کے طور پر بھی اپنی فعالیت ظاہر کرتے ہیں۔ چیپیرونز ایسے لحمیات ہوتے ہیں جو دوسرے لحمیات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے عمل کو روکتے ہیں کسی پروٹین کو غلط ساخت میں تبدیل ہونے سے روکتے ہیں یا اگر کوئی پروٹین غلط ساخت اختیار کرچکا ہوتا ہے تو اس کو صحیح ساخت میں تبدیل کردیتے ہیں۔ 

یہی وجہ ہے کہ الفا کرسٹلین غیر معمولی پروٹین کے تعامل کو روکتے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ الفا کرسٹلین کی یہ خصوصیت عد سے کو بڑی عمر تک موتیا بند کی علامات ظاہر کیے بغیر عدسے کے پروٹین کی عمر بڑھنے سے ہونے والی بگاڑ کو برداشت کرنے دیتی ہے ۔ نہ صرف یہ بلکہ یہ عدسے کی ساخت کو برقرار رکھنے کے لیے جو فائبر پروٹین سے بنا ہوا جال ہوتا ہے،اس کو بھی ٹوٹنے کی صورت میں دوبارہ تشکیل اور تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اسی لیے آنکھ کا عدسہ بڑی عمر تک صحیح حالت میں رہتا ہے اور اس کے اندر موجود خلیات مختلف تنائو کے خلاف مزاحمت کے قابل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے تمام عوامل مل کر انسانی آنکھ کے عدسے کو فعال رکھتے ہیں۔ بات کی جائے اگر پاکستان کی تو ہمارے ملک میں آنکھ کی بیماریاں بھی دیگر بیماریوں کی طرح موجود ہیں۔2019 ء میں شائع ہونے والے تحقیقی مطالعے میں پاکستان میں 1990 ء سے 2025 ء تک اندھے پن یا بصارت کے نقصان کے بوجھ کے تخمینے اور رحجانات پیش کئے گئے ہیں۔ 

اس مطالعے کے مطابق2017 ءمیں پاکستان میں گیارہ لاکھ سے زیادہ لوگ بصارت سے محروم تھے، 10 لاکھ سے زیادہ شدید بینائی کا نقصان والے اور تقریباً 7 لاکھ درمیانی بینائی کا نقصان والے افراد موجود تھے۔ سب سے زیادہ پائی جانے والی آنکھ کی خرابی، قریب کی نظر کا کمزور ہونا دیکھا گیا جو کہ ایک کروڑ چھبیس لاکھ سے زیادہ افراد میں دیکھا گیا۔ لوگوں نے جو سال معذوری کے ساتھ گزارے اس کے مطابق پاکستان دوسرے جنوبی ایشیا ئی ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے۔ 1990 ءکے مقابلے میں 2017ء میں تمام عمر کے افراد میں اندھے پن اور بصارت کی خرابی کی تعداد میں 55 فی صداضافہ ہوا ہے جو کہ پاکستان میں صحت کے نقصان کی بڑی وجوہات میں دسویں نمبر پر آتا ہے ۔ مزید یہ کہ اس مطالعے میں جو اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں ان کے مطابق سن 2025ء تک بینائی کی کمی کے بوجھ میں اضافہ ہوجائے گا۔ اس صورت حال میں پاکستان کو آنکھ کی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔ 

آنکھ کا آپریشن خاص طور پر موتیا یا نظر کی کمزوری سے متعلق جدید طریقے سے کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ دنیا میں ہونے والی کوئی بھی جدت جو کہ آنکھوں کے علاج کے لیے اپنائی جاتی ہیں پاکستان میں بھی بہت جلد اپنالی جاتی ہیں۔ البتہ اس بیماری کا بڑھتا ہوا بوجھ ہمارے اس علاج کے نظام پر منفی اثرات مرطب کر سکتا ہے۔ آنکھ کے پردے یعنی ریٹینا کے علاج کی بات کی جائے تو یہ ایک مشکل اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ریٹینا کی خرابی کی وجوہات میں بڑھتی عمر، ذیابطیس، آنکھ کی سرجری اور موروثی طور پر خاندان میں موجود آنکھ کے پردے کی بیماری وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاج کے اہداف بصارت کو محفوظ رکھنا اور بحال کرنا یا ریٹینا میں ہونے والی نقصان کو روکنا یا سست کرنا ہوتے ہیں۔ 

لیزر تھیراپی، جین تھیراپی اور دیگر مختلف طریقوں کے ذریعے یہ علاج کیا جاتا ہے ۔ ریٹینا کا علاج آنکھ کے عدسے کے علاج کے مقابلے میں پیچیدہ ہوتا ہے، کیوں کہ ریٹینا آنکھ کا اندرونی پردہ ہوتا ہے اور اس کی سرجری بڑی احتیاط سے انجام دی جاتی ہے۔ آنکھ کا عدسہ کیونکہ آنکھ کے بالکل سامنے کے حصے میں ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک چھوٹا سا سوراخ کر کے آنکھ کے اندر داخل ہو کر بآسانی اس کو نکال لیا جاتا ہے اور ایک مصنوعی عد سے کو اس کی جگہ لگایا جاسکتا ہے جو عام طور پر انتہائی لچکدار سلیکون یا ایکرائلک مواد کا بنا ہوتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی انسان کو اس قابل بناتی جارہی ہے کہ وہ مختلف بیماریوں کے لیے مصنوعی اعضاء یا اعضاء کے کچھ حصے بناکر اس کو جسم کے خراب حصے کی جگہ لگاکر استعمال کرسکے۔ 

مصنوعی ریٹینا اور مصنوعی آنکھ کے ذریعے سے بھی بصارت اور اندھے پن کا علاج کیا جارہا ہے اوردوبارہ پیدا کرنے والی ادویات کی دنیا و سیع اور فروغ پذیر ہے۔ مثال کے طور پر ایک تحقیق میں دوبارہ پیدا کرنے والی ایک دو ا جو سرجری کے بعد صرف دو دن میں آنکھ کے اگلے حصے کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال کی گئی ہے، جس نے بافتوں اور خلیات کی تیز ی سے مرمت کو تحریک دی اور سرجری کے بعد آنکھوں میں جلن، درد اور روشنی کی حساسیت کو کم کردیا۔ 

اسی طرح کے دیگر طریقہ علاج آہستہ آہستہ ہر شعبہ طب میں ظہور پذیر ہوتے جارہے ہیں جو کہ آنے والے وقتوں میں شاید ہر طرح کی جسمانی سرجری کو کم سے کم تر کرتے جائیں گیں۔ نظر کی کمزوری پاکستان میں سب سے زیادہ ہونے والی آنکھوں کی خرابی ہے، جس میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ البتہ یہ امید کی جاسکتی ہے کہ آنکھوں کی بیماریوں کا پاکستان میں دوسری بیماریوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر طور پر علاج ہوتا رہے گا۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید