• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تمام خفیہ ایجنسیاں فرح گوگی کے تعاقب میں ہیں اور اس کے ذرائع آمدن کے شرکاء کاروبار کا کھوج لگانے میں مصروف عمل ہیں۔۔۔فرح گوگی یا فرح خان کے علاوہ کئی پہچانوں سے جانا جانے والا یہ نام اب کسی شناخت کا محتاج نہیں۔۔۔اس نام کا شہرہ سرحدوں کو عبور کر چکا ہے۔۔۔اور اقتدار کے ایوانوں سے قرابت داری کی وجہ سے یہ دنیا بھر میں اپنی پہجان آپ ہے۔۔۔

ایک طرف تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں اور تحقیقاتی ادارے ان تمام پولیس اور انتظامیہ کے افسروں کی فہرستیں مرتب کرنے میں مشغول ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر فرح گوگی کے ذریعے منفعت بخش مراتب اور منصب حاصل کئے ۔۔۔اور دوسری طرف میرٹ کو پیروں تلے روند کر فرح گوگی کا ذریعہ استعمال کرتے ہوئے میرٹ پر تعنیات افسروں کو ان کی پوزیشنوں سے ہٹا کر وہ منصب حاصل کئے۔۔۔اب اپنے نام ان فہرستوں سے نکلوانے یا معاملات رفع دفع کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں...اور دوسری طرف حکومت کے متعلقہ حلقوں میں داخل ہونے کے لئے سرکاری اور ذاتی اثرورسوخ استعمال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔

تحقیقاتی ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کیونکہ یہ سارا دھندہ انتہائی رازداری کے ساتھ فرنٹ من کے ذریعے کیا جاتا رہا ہے۔۔.اس لئے ہدف کے حصول دشواریوں کا سامنا ہوا کیونکہ آسان ذریعہ یا تو خود وہ شخص ہو سکتا تھا جس نے فائدہ اٹھایا اور اپنے منصب کے حصول کے لئے مطلوبہ رشوت ادا کی۔۔۔یا وہ شخص جس کے ذریعے ادائیگی ہوئی۔۔۔یا پھر وہ جس تک وہ رقم پہنچی۔۔۔تاہم اب سراغرساں ادارے رفتہ رفتہ بعض فرنٹ مینوں کے ذریعے اپنا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔۔۔ ابتدائی مرحلے میں جو فہرست مرتب کی گئی ہے اس میں شامل پولیس اور انتظامیہ کے افسروں کے تبادلوں کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔۔۔

انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض فرنٹ مینوں کے تعاون کی وجہ سے کافی معلومات حاصل ہوئیں جن کی وجہ خفیہ ایجنسیوں کو اہداف حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی۔۔۔ کہتے ہیں ویسے تو فرح گوگی سے رابطہ دشوار نہیں تھا لیکن فرح کا ایک بھائی یا فرسٹ کزن اس اور "درخواست گزار" کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا تھا، اسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔۔

تحقیقاتی ایجنسیاں اس بارے میں بھی معلومات حاصل کر رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کس کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے ان افسروں کے ٹرانسفر پوسٹنگ کے نوٹیفیکیشنز جاری کرتا تھا۔۔۔اور یہ کہ حکم دینے والی کوئی مقتدر شخصیت تھی یا یہ حکم نامہ کسی پرائیویٹ شخصیت کے ٹیلیفون پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے متعلقہ شعبہ کو بالواسطہ طور پر پہنچایا جاتا تھا۔۔۔ان ایجنسیوں نے یقین ظاہر کیا ہے کہ یہ پیغام وزیر اعظم سیکرٹیریٹ سے دیا جاتا تھا۔۔۔

ایجنسیاں جن پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ اور ادنیٰ افسروں کی فہرستیں مرتب کرنے میں لگی ہوئی ہیں ان میں اکثریت سنٹرل پنجاب سے ہے اور پولیس اور انتظامیہ کے افیسرز پنجاب اور خیبر پختون خوا کے تمام بڑے شہروں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اعلیٰ منصب پر تعنیات کئے گئے۔۔۔

ایسے افسروں کا مستقبل انتہائی خطرے میں ہو سکتا ہے جنہوں اپنی طاقت ثابت کرنے کے لئے اپنے ان ساتھیوں کے حقوق غصب کئے جو مدتوں سے بڑے شہروں میں کسی پوسٹنگ کے انتظار میں تھے۔

حکومت وقت نے عندیہ دیا ہے کہ ایسے افیسرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جنہوں نے ملک اور اداروں کے تقدس کو نقصان پہنچایا۔

فرح خان کو اپنے عارضی عروج کو ذریعہ بنانے والے پولیس اور انتظامی افیسرز اپنی مرضی اور منشاء کی نوکری کے لئے نہ تو کسی قانون کو خاطر میں لاتے ہیں اور نہ کسی ضابطے کی پرواہ کرتے ہیں۔۔۔ماضی کی عمران حکومت میں جس کا بنیادی نعرہ انصاف اور میرٹ تھا۔۔۔میرٹ کا انتہائی بے دردی خون بہایا گیا۔۔۔فرح گوگی کے نام پر عزت خریدنے والے افیسر نے حکومت کی "روٹیشن پالیسی" کو مسترد کرتے ہوئے نئی پوسٹنگ پر خیبر پختون خوا جانے سے انکار کر دیا اور مہینوں اسی پوسٹ پر رہا ۔۔۔ لیکن جب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آخری نوٹس دیا تو وہی کام کیا کہ اپنی مرضی کے منصب کے حصول کے لئے ایک انتہائی ایماندار، پروفیشنل اور بھلے مانس افسر کو ہٹا کر اس کی پوسٹ حاصل کر لی۔۔۔کہا جاتا ہے کہ یہ منصب بھی فرح گوگی کی مرہون منت تھا ۔۔۔ توقع تو یہی کہ نئی حکومت ایسے افسروں کی حوصلہ شکنی کرے گی اور انہیں میرٹ اور قانون و ضابطوں کو تاراج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔۔۔!

تازہ ترین