• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کے الیکٹرک کی دو تین دن میں رات کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی

وزیرِ توانائی سندھ امتیاز شیخ کی زیرِ صدارت لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کے الیکٹرک حکام کے ساتھ اجلاس ہوا —بشکریہ ٹوئٹر
وزیرِ توانائی سندھ امتیاز شیخ کی زیرِ صدارت لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کے الیکٹرک حکام کے ساتھ اجلاس ہوا —بشکریہ ٹوئٹر

ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دن اور رات میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، شہر کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک کی جانب سے دو تین دن میں رات کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

کراچی میں گزشتہ روز وزیرِ توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ کی زیرِ صدارت لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کے الیکٹرک حکام کے ساتھ اجلاس ہوا ہے۔

اجلاس میں کے الیکٹرک کی قیادت بشمول سی ای او مونس عبد اللّٰہ علوی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

ملاقات کے دوران صوبائی وزیر اور دیگر حکام کو کے الیکٹرک حکام کی جانب سے بجلی کی پیداوار کے لیے درآمدی ایندھن کی کمی، طلب اور رسد کے بڑھتے ہوئے فرق سے بھی آگاہ کیا گیا جبکہ یہ بھی بتایا گیا کہ مقامی گیس کی عدم فراہمی کے باعث 200 میگا واٹ کے 2 پاور پلانٹس بھی کئی ماہ سے غیر فعال ہیں۔

کے الیکٹرک کی اعلیٰ قیادت نے ان نمائندوں کو ٹیرف ڈفرینشل کلیمز کی مد میں ہونے والی ادائیگیوں میں تاخیر اور بجلی کی پیداوار پر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے آگاہ کیا۔

وزیرِ توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ کا اس اجلاس کے حوالے سے کہنا ہے کہ کے الیکٹرک نے 24 گھنٹے میں صورتِ حال میں بہتری کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کے الیکٹرک حکام نے کمشنر کراچی کو شہر میں دو تین روز میں رات کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

کمشنر کراچی نے عوامی نمائندوں اور شہریوں کی سہولت کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

ادھر کے الیکٹرک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گیس کا شارٹ فال 24 گھنٹے قائم رہنے کے باعث ادارہ رات کو لوڈشیڈنگ کرنے پر مجبور ہے۔

ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ کراچی کی ضرورت 3200 میگا واٹ بجلی ہے جبکہ 2800 میگا واٹ کے لگ بھگ بجلی موجود ہے، لوڈ شیڈنگ کی وجہ 400 سے زائد میگا واٹ کا شارٹ فال ہے جسے پورا کرنے کے لیے مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔

کے الیکٹرک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مالی مسائل کے باوجود ادارے کی جانب سے 29 جون 2022ء کو سوئی سدرن کو 50 کروڑ کی مزید ادائیگی کی گئی ہے جس کے بعد رواں ماہ میں مجموعی طور پر ادا کی گئی رقم 6 ارب روپے سے زیادہ ہو گئی ہے۔

ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیرف ڈفرینشل کلیمز کی مد میں وفاقی حکومت سے ملنے والی رقم کے حصول میں تاخیر کے باعث کے الیکٹرک کو شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔

وزیرِ توانائی سندھ امتیاز شیخ کی زیرِ صدارت لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کے الیکٹرک حکام کے ساتھ اجلاس ہوا —بشکریہ ٹوئٹر
وزیرِ توانائی سندھ امتیاز شیخ کی زیرِ صدارت لوڈشیڈنگ کے حوالے سے کے الیکٹرک حکام کے ساتھ اجلاس ہوا —بشکریہ ٹوئٹر

4 سے 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ پر احتجاج، مظاہرے

واضح رہے کہ کراچی میں دن اور رات میں بدترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے، 4 سے 14 گھنٹے بجلی غائب رہنے سے جگہ جگہ پر تشدد احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں۔

ایک طرف شدید گرمی اور دوسری جانب 4 سے14 گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی دو طرفہ اذیت نے کراچی کے شہریوں کا جینا محال کیا ہوا ہے۔

بجلی غائب ہونے کا دوسرا وبال یہ ہے کہ اس سے پانی کی فراہمی کا نظام بھی تہس نہس ہو کر رہ گیا ہے اور کراچی کے شہری بجلی کے ساتھ پانی کو بھی ترس رہے ہیں۔

مسئلہ حل نہ ہونے پر شہری سڑکوں پر آ گئے ہیں اور انہوں نے جگہ جگہ پُرتشدد احتجاج شروع کر دیا ہے۔

ماری پور روڈ پر ہونے والا احتجاج اس کی سب سے بڑی مثال ہے جس کے باعث شہر کا ٹریفک ہی درہم برہم نہیں ہوا بلکہ بندرگاہ پر درآمدی و برآمدی سامان کی ترسیل بھی گھنٹوں معطل رہی۔

گلشنِ معمار اسکیم 33 میں بھی بجلی کی بندش سے ستائے عوام نے احتجاج کیا جس کے دوران کے الیکٹرک کے دفتر کے باہر پتھراؤ بھی کیا گیا، بعد میں پولیس کے پہنچنے پر مظاہرین منتشر ہو گئے۔

لانڈھی فیوچر کالونی، گارڈن اور پی آئی بی موڑ پر بھی مظاہرے کیے گئے۔

احتجاج کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ بجلی نہ گھر میں ہے، نہ کام کی جگہ پر تو پھر احتجاج کے سوا اور کیا کریں؟

امتحانات دینے والے طلباء بھی پریشان

بجلی نہ ہونے کے باعث لوگوں کا روزگار ہی متاثر نہیں ہو رہا بلکہ امتحانات میں مصروف طلباء و طالبات بھی پریشان ہیں۔

شہریوں کی اکثریت کے الیکٹرک پر ناقص کارکردگی کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کر رہی ہے کہ شہر میں بجلی کی فراہمی کسی اور ادارے کے سپرد کی جائے۔

قومی خبریں سے مزید