• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اُردو کے پہلے طبع زاد جاسوسی ناول نگار ’’ابنِ صفی‘‘

اُردو کے نام وَر ادیب اور نقّاد، ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کے مطابق، اُردو میں جاسوسی ادب کا آغاز 1902ء سے ہوتا ہے، جب پانی پت سے ’’جاسوسی قصّے‘‘ کے نام سے ایک انتھالوجی شایع ہوئی۔ ابتدائی طور پر جاسوسی ناول نگاری میں جو نام سامنے آئے، اُن میں پنڈت کشور چند، بدرالنساء بیگم، طالب بنارسی لکھنوی، فدا علی جنجر، سیّد شہنشاہ حسین، بی ایس نسیم، نور محمد عشرت، احمد اللہ خان اور طالب الہ آبادی کے نام نمایاں قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ ان سب کے ساتھ ہی اگر مرزا ہادی رسوا (امرائو جان ادا فیم) کا ذکر نہ کیاجائے، تو یقیناً زیادتی ہوگی۔ 

تاہم، اس ضمن میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام خواتین وحضرات محض ترجمہ نگار تھے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اُردو ادب میں دراصل طبع زاد جاسوسی ناول نگاری کا آغاز 1952ء سے ہوتا ہے، جب ابنِ صفی نے ناولز لکھنا شروع کیے۔ انھوں نے اپنے پہلے ناول ’’دلیر مجرم‘‘ میں پہلی مرتبہ دو کردار ’’فریدی اور حمید‘‘ متعارف کروائے۔ ’’دلیر مجرم‘‘ ادارئہ نکہت نے 1952ء میں جاسوسی دنیا سیریز کے تحت پیش کیا۔ 

اگرچہ اُن کے اس پہلے ناول کا مرکزی خیال ایک جرمن مصنّف کے ناول سے ماخوذ تھا، (اس کا اظہار انھوں نے اپنے کئی ناولز کے پیش رس میں بھی کیا۔) تاہم، جلد ہی وہ طبع زاد جاسوسی ناول لکھنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔ جس زمانے میں ابنِ صفی نے جاسوسی ناول نگاری کا آغاز کیا، اُن کے مدِمقابل تین نام آئے۔ اوّل، اکرم الہ آبادی، دوم، اظہاراثر اورسوم، مسعود جاوید۔ تاہم، ان تینوں میں سے کوئی بھی اُن کے مقابل ٹھہر نہ سکا۔

اسرار احمد، المعروف ابنِ صفی، بھارت کے صوبے (یوپی) اترپردیش کے قصبہ نارہ، ڈسٹرکٹ الہ آباد میں اپریل 1928ء میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنی تاریخِ پیدائش کے حوالے سے الف لیلیٰ ڈائجسٹ کے ’’ابن صفی نمبر‘‘ (شمارہ جولائی 1972ء) میں ’’بقلمِ خود‘‘ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ ’’اپریل 1928ء کی کوئی تاریخ تھی اور جمعے کا دن شام کے دھندلکوں میں تحلیل ہورہا تھا، جب میں نے پہلی بار اپنے رونے کی آواز سُنی۔‘‘ اسی مضمون میں ایک اور جگہ لکھتے ہیں۔ ’’ویسے مجھ سمیت میری صحیح تاریخ پیدائش کسی کو بھی یاد نہیں۔‘‘ ابنِ صفی کے والد کا نام صفی اللہ اور والدہ کا نذیرہ بی بی تھا۔ اجداد کا تعلق نارہ کے راجہ ’’وشیشر دیال سنگھ سے تھا، جو قبولِ اسلام کے بعد ’’بابا عبدالنبی‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔ 

ابنِ صفی کے ایک بھائی ایثار احمد اور تین بہنیں غفیرہ بی بی، خورشید خاتون اور بلاغت خاتون (عذرا ریحانہ) تھیں۔ اُن کے والد صفی اللہ قیامِ پاکستان سے چند ماہ قبل 1947ء میں الہ آباد سے کراچی چلے آئے، لیکن تقسیمِ ہند کے بعد ہونے والے بگڑتے حالات نے انہیں واپس الہ آباد جانے کا موقع نہ دیا۔ بالآخر 1952ء میں الہ آباد میں مقیم ابنِ صفی نے خاندان کے ساتھ پاکستان آنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ ہجرت سے قبل وہ الہ آباد کے یادگار حسینی اسکول میں بطور مدرّس ملازمت کررہے تھے۔ اس دوران ادارئہ نکہت کے زیراہتمام ’’جاسوسی دنیا سیریز‘‘ کے تحت اُن کی 7؍کتابیں منظرِ عام پر آچکی تھیں، جب کہ آٹھویں لکھ رہے تھے۔ 

ادارئہ نکہت 1948ء میں عباس حسینی نے قائم کیا تھا۔ جس کے تحت اسرار احمد نے قلمی نام، اسرار ناروی سے حصّہ نظم، جب کہ سیّد مجاور حسین رضوی نے ابنِ سعید کے نام سے حصّہ نثر کی ادارت سنبھالی۔ اس ضمن میں دل چسپ بات یہ ہوئی کہ شاعر اسرار ناروی نے نثر میں بھی طبع آزمائی شروع کردی اور ’’سنکی سولجر و طغرل فرغان‘‘ کے ناموں سے کہانیاں اور طنز و مزاح پر مبنی مضامین لکھنے شروع کردیئے۔ (واضح رہے کہ اسرار احمد اسرار ناروی کے نام سے شاعری کا آغاز اسکول، کالج ہی کے زمانے سے کرچُکے تھے) بہرحال، جب ادارئہ نکہت نے ’’جاسوسی دنیا‘‘ کا اجراء کیا، تو ایک نیا نام سامنے آیا، اور وہ تھا ’’ابنِ صفی۔‘‘

اُن کی ہم شیرہ، عذرا ریحانہ نے اگست 1986ء میں ماہ نامہ ’’نئے افق‘‘ کو دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان ہجرت کی یادیں تازہ کیں کہ ’’پلیٹ فارم پر جہاں تک نظر جاتی تھی، اسرار ناروی (ابنِ صفی) کے چاہنے والے نظر آتے تھے۔ لمبا سفر، وہ بھی ہجرت کا۔ سامان بے تحاشا، قلی سامان کی طرف لپکتے، مگر بھائی جان کے شاگردوں نے انھیں ہاتھ بھی نہ لگانے دیا۔ منع کرنے کے باوجود خود ہی سارا سامان ٹرین پر چڑھایا۔ اس قدر پُرجوش روانگی دیکھ کر وہاں موجود لوگ سمجھ رہے تھے کہ ہم لوگ حج پر جارہے ہیں۔ ٹرین کے ذریعے ہم نے بمبئی (اب ممبئی) تک کا سفر کیا، اس کے بعد کراچی جانے کے لیے سمندری سفر شروع ہوا۔ 

پاکستان ہجرت سے قبل بھائی جان جاسوسی ناول ’’مصنوعی ناک‘‘ لکھ رہے تھے۔ جتنا لکھ چکے تھے، عباس حسینی صاحب کو دے آئے تھے، باقی پاکستان پہنچ کر بھیجنا تھا۔ سو، بھائی جان نے کاغذ قلم اپنے ساتھ رکھ لیا تھا کہ ڈھائی دن کے سفر میں بقیہ ناول بھی مکمل کرکے بھیج دیں گے۔ اب یہ الگ بات کہ مون سون کا موسم اور بحری سفر…! چناں چہ بھائی جان کچھ بھی نہ لکھ پائے۔ بعدازاں، کراچی پہنچنے کے بعد مکمل کرکے الہ آباد بھیجا۔‘‘

ابنِ صفی نے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے 245؍ناولز کے علاوہ 8؍دیگر کُتب بھی تصنیف کیں۔ اُن کا پہلا ناول ’’دلیر مجرم‘‘ 1952ء میں، جب کہ آخری ناول ’’آخری آدمی‘‘1980ء میں شایع ہوا۔ اپنے ناولز میں تخیّلاتی کرداروں کو حقیقت کا رنگ دینے والے ابنِ صفی نے تین شادیاں کیں۔ پہلی الہ آباد میں کی، لیکن ایک سال بعد ہی اُن کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔ اُن سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ 

دوسری راول پنڈی میں5؍ستمبر1953ء کو امِّ سلمیٰ‘‘ سے انجام پائی، جن سے 4؍بیٹے ڈاکٹر ایثار احمد، ابرار احمد، ڈاکٹر احمد صفی، افتخار احمد اور 3بیٹیاں ہوئیں، جب کہ تیسری شادی کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، فرحت آرا سے 1969ء میں ہوئی۔ تاہم، جلد ہی وہ خاتون رضائے الٰہی سے داغِ مفارقت دے گئیں۔ اُن سے بھی کوئی اولاد نہیں تھی۔ پاکستان آنے کے تین برس بعد انھوں نے C-1 ایریا، کراچی میں ایک چھوٹا سا مکان خریدا اور اسی گھر سے اگست1955ء میں عمران سیریز لکھنے کا آغاز کیا۔ چھے برس بعد ناظم آباد نمبر2 منتقل ہوگئے اور آخر دَم تک اسی گھر میں مقیم رہے۔

اُس دَور میں اُن کے لکھے جاسوسی ناولز کا ہر طرف چرچا تھا، ہر کوئی اُن کا مداح تھا، وہ اس قدر مقبول و معروف ہوگئے کہ لوگ اُن کی ہر تحریر کا بے چینی سے انتظار کرتے، اُن کے تخیّلاتی کردار، قارئین اپنے آس پاس چلتے پِھرتے محسوس کرتے تھے۔ تاہم، ناول ’’بے آواز سیّارہ‘‘ (عمران سیریز۔41/26؍مارچ 1960ء) اور ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ (عمران سیریز21/42 اکتوبر 1963ء) کی اشاعت کے درمیان وہ ’’شیزو فیرینیا‘‘ نامی بیماری میں مبتلا ہوگئے، جس کے باعث تین سال کا ایک لمبا وقفہ آگیا۔ اس بیماری میں یادداشت متاثر ہوجاتی ہے، چناں چہ دورانِ بیماری وہ ایک لفظ بھی نہ لکھ پائے۔

بعدازاں، جب حکیم محمّد اقبال حسین کے علاج سے صحت یاب ہوئے، تو واپسی عمران سیریز کے مہمّاتی ناول ’’ڈیڑھ متوالے‘‘ کے ذریعے ہوئی۔ جاسوسی ادب میں اُن کی اس تین سالہ غیر حاضری کا موقع پرستوں نے خُوب فائدہ اٹھایا، اس دوران اُن کے ہم نام، لاتعداد ابنِ صفی پیدا ہوگئے۔ ان میں سے کچھ تشدید کا سہارا لے کر ’’ابنِ صفّی‘‘ بنے، تو کچھ نقطوں کا اضافہ کرکے ’’ابنِ صقی‘‘ یا ’’این صفی‘‘ بن گئے۔ یہی نہیں بلکہ کچھ بیبیاں تو نجمہ صفی یا نغمہ صفی بن کر بھی میدان میں اُتر آئیں۔ کردار تو اگرچہ انہوں نے وہی منتخب کیے، یعنی فریدی، حمید اور عمران وغیرہ، مگر اُن کرداروں کو تخلیق کرنے والا اصل تخلیق کار نہ بن سکے۔ نتیجتاً جلد ہی اپنی موت آپ مرگئے۔

ابنِ صفی نے ریڈیو، ٹی وی اور فلم کے لیے بھی اپنی خدمات پیش کیں۔7؍اپریل1965ء کو ریڈیو پاکستان کراچی کے ’’جشنِ تمثیل‘‘ کے تحت اُن کا تحریر کردہ ڈراما ’’جس نے دیکھا تھا‘‘ پروڈیوسر سجاد ترمذی نے پیش کیا۔ بعدازاں، ریڈیو کے لیے اُن کا تحریر کردہ ایک ڈراما سیریل، جو صبح کی نشریات میں پیش کیا جاتا تھا، خاصا مقبول ہوا۔ تاہم، اس ڈراما سیریل کی ابھی بمشکل 13اقساط ہی پیش کی گئی تھیں کہ بعض وجوہ کی بنا پر اُسے بند کردیا گیا، تو 1976ء کےاواخر میں انھوں نے اپنے اسی ڈرامے کو ناول کا روپ دے کر ’’جاسوسی دنیا کے شمارہ نمبر119‘‘ میں ’’موروثی ہوس‘‘ کے نام سے شایع کردیا۔ 

ابنِ صفی پی ٹی وی پر پہلی بار 1970ء کے وسط میں مقبول عام پروگرام ’’ضیا محی الدین شو‘‘ کے ذریعے، جب کہ دوسری مرتبہ 28؍نومبر 1978ء کو پروگرام ’’آپ جناب‘‘ میں جلوہ گر ہوئے۔ مارچ1977ء کے انتخابات میں اُن کے ناول ’’ڈاکٹر دعاگو‘‘ کی تشکیل حمید کاشمیری نے کی، مگر یہ ڈراما بھی چند وجوہ کی بنا پر ٹیلی کاسٹ نہ ہوسکا۔ تاہم، پی ٹی وی نے بطور معاوضہ مبلغ 2573؍روپے کا چیک پیش کیا۔ ریڈیو اور ٹی وی کے بعد انھوں نے 1973ء میں فلمی دنیا میں قدم رکھا اور فلم ’’دھماکا‘‘ کی کہانی کے علاوہ اس کے مکالمے اور گیت بھی لکھے۔ 

اس فلم کے ہدایت کار قمر زیدی جب کہ فلم ساز مولانا ہیپی (نواب محمد حسین تالپور) تھے۔ فلم ’’دھماکا‘‘ میں جاوید شیخ، شبنم، لہری، عرشِ منیراور رحمٰن نے کردار ادا کیے، تاہم، فن کاروں کا غلط انتخاب، خراب کیمرا ورک، ناقص موسیقی اور ہدایت کاری سمیت دیگر وجوہ کی بنا پر یہ فلم کوئی دھماکا نہ کرسکی۔ ابنِ صفی کے بقول، انھوں نے صرف 8ناولز کے مرکزی خیال کسی سے مستعار لیے، باقی کے 245ناولز مکمل طور پر اُن کے اپنے تھے۔

ابنِ صفی بحیثیت جاسوسی ناول نگار، ڈراما نگار اور مزاح نگار ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین شاعر بھی تھے۔ انھوں نے شاعری کا آغاز 1942ء سے کیا، جب وہ الہ آباد کے، ڈی اے وی اسکول میں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ میٹرک کے بعد جب انہوں نے ایوننگ کریسئچن کالج الہ آباد میں داخلہ لیا، تو وہاں کی مخلوط فضا نے اُن کی شاعری کو جِلا بخشی۔ وہ باقاعدگی سے غزلیں اور نظمیں کہنے لگے اور بہت جلد اسرار ناروی کے نام سے مشہور ہوگئے۔ 

ان کی مشہور نظم ’’بنسری کی آواز‘‘ اُسی دَور کی یادگار ہے، جس کے بارے میں اُن کے دوست مصطفیٰ زیدی نے (جو اُس زمانے میں تیغ الہٰ آبادی کے نام سے شاعری کرتے تھے) اُن سے ایک ملاقات کے دوران کہا تھا۔ ’’اسرار ناروی کو مرنے نہ دینا، تمہاری نظم ’’بنسری کی آواز‘‘ اب بھی سنّاٹے میں گونجتی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ اور شاید یہی وجہ تھی کہ ابنِ صفی نے ایک بڑے اور پاپولر جاسوسی ناول نگار بننے کے باوجود شاعری سے ناتا نہ توڑا، بلکہ اُن کا کلام وقتاً فوقتاً مختلف ادبی پرچوں اور دیگر جرائد میں چَھپتا رہا۔ 

خصوصاً اُن کے زیرِادارت شایع ہونے والے ماہنامے ’’ابنِ صفی میگزین‘‘ (نئے افق) کراچی کے ابتدائی صفحات میں ’’صفحۂ دل‘‘ کے عنوان سے بڑی پابندی سے شایع ہوتا۔ بعدازاں، بیماری کے باوجود اپنا مجموعۂ کلام ’’متاعِ قلب و نظر‘‘ کے نام سے مرتّب کیا، مگر موت کے بے رحم ہاتھوں نے مہلت نہ دی اور اپنی زندگی میں اسے طبع نہ کرواسکے۔ 25؍اور 26؍جولائی 1980ء کی درمیانی شب، فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے اس نابغۂ روزگارہستی نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔بہرکیف، اُن کے انتقال کے34؍برس بعد اُن کے صاحب زادے، احمد صفی اور اٹلانٹس پبلی کیشنز کے روحِ رواں، فاروق احمد کی کوششوں سے 2014ء میں یہ مجموعہ کلام منظرعام پر آیا۔ 

 ان کا نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیں؎ راہ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں .....چاند سے مکھڑے رشک غزالاں سب جانے پہچانے ہیں .....تنہائی سی تنہائی ہے کیسے کہیں کیسے سمجھائیں .....چشم و لب و رخسار کی تہ میں روحوں کے ویرانے ہیں .....اف یہ تلاش حسن و حقیقت کس جا ٹھہریں جائیں کہاں .....صحن چمن میں پھول کھلے ہیں صحرا میں دیوانے ہیں .....ہم کو سہارے کیا راس آئیں اپنا سہارا ہیں ہم آپ .....خود ہی صحرا خود ہی دوانے شمع نفس پروانے ہیں .....بالآخر تھک ہار کے یارو ہم نے بھی تسلیم کیا .....اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں۔

اُردو کے عظیم جاسوسی ناول نگار، ابنِ صفی کے بارے میں بابائے اُردو مولوی عبدالحق نے فرمایا تھا کہ ’’ابنِ صفی نے بڑے بڑے اداروں سے زیادہ اُردو ادب کی خدمت کی۔‘‘ معروف ادیب، ناول نگار شکیل عادل زادہ، ابنِ صفی کے بارے میں کہتے ہیں۔ ’’بے ساختگی، برجستگی، سادگی اور خوش اندازی، ابنِ صفی کی تحریروں کا خاصّہ تھی۔ وہ اُردو کے بڑے بڑے جغادری ادیبوں سے زیادہ خوب صورت نثر لکھتے تھے۔ چہکتے چٹختے فقرے، گُدگُدی کرتی عبارتیں، اُن کا پیرایۂ اظہار اُن ہی سے مخصوص تھا۔‘‘ معروف ادیب ڈاکٹر سلیم اختر اپنی مشہور کتاب ’’اُردو ادب کی مختصر ترین تاریخ‘‘ میں لکھتے ہیں ’’اگرچہ ابنِ صفی کو ثقہ ناقدین نے بھی ادیب نہ گردانا، مگر تقریباً ڈھائی سو ناولوں کے مصنّف سے صرفِ نظر بھی ممکن نہیں۔ جاسوسی اور فینٹیسی کے امتزاج سے وہ مسلسل سسَپنس پیدا کرنے میں کام یاب ہونے کی بِنا پر ہر عُمر اور مذاق کے قارئین میں بے حد مقبول تھے۔

اگر وہ یورپ میں ہوتے، تو اُنھیں وہاں آئن فلیمنگ کے پائے کا ناول نگار سمجھا جاتا اور اُن کا کرنل فریدی، جیمز بانڈ 007 سے کم مقبول نہ ہوتا، کچھ ایسا ہی عالم کیپٹن حمید اور عمران جیسے کرداروں کا ہوتا۔ اور اُن کا کردار ادا کرنے والے فن کاروں نے ’’شین کونری‘‘ جیسی عالمی مقبولیت حاصل کی ہوتی۔‘‘ ابنِ صفی کے ناول نہ صرف یہ جاسوسی ناولز کی معراج ہیں بلکہ ادبی شہ پارے بھی ہیں۔ خرّم علی شفیق نے اُن کے ناولوں کا بہت باریک بینی سے مطالعہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’اُن سے بہتر نثر (مرزا غالب اور محمد حسین آزاد کو چھوڑ کر) اُردو میں کسی اور نے نہیں لکھی۔ اگر اقبال کی شاعری کو الہامی شاعری کہا جاسکتا ہے، تو ابنِ صفی کی نثر کو بھی ’’الہامی نثر‘‘ کہا جاسکتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید