• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایسے عالم میں، کہ سپر پاور امریکہ کے صدر جوبائیڈن اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے عالمی برادری پر زور دے رہے ہیں کہ وہ سیلاب میں ڈوبے پاکستان کی مدد کرے، پاکستان اور اقوام متحدہ کے نمائندے عالمی برادری کو ایک نئی اپیل کی صورت میں مخاطب کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں جو اگلے ماہ کے اوائل میں جاری کی جائے گی اور جس میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مدد کیلئے زیادہ اعانت کی درخواست کی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ اور ہیومین کوآرڈی نیٹر جولین ہرنیز نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ مصائب میں مبتلا لوگوں کے لئے ابتدا میں 160ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کی گئی تھی جو مسئلے کی سنگینی اور حجم کے مقابلے میں ناکافی معلوم ہوتی ہے۔ ممبر ملکوں کی طرف سے اگرچہ مثبت جواب 160 ملین ڈالر سے زائد رقم کی یقین دہانیوں کی صورت میں سامنے آیا مگر اقوام متحدہ کو تاحال صرف 60ملین ڈالر رقم وصول ہوئی ہے۔ اس حقیقت میں کلام نہیں کہ عالمی برادری کو مسئلے کی سنگینی کا نہ صرف پوری طرح احساس ہے بلکہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے ان خطرات کو کم کرنے کا جذبہ بھی رکھتی ہے جن کی زد میں پوری دنیا نظر آتی ہے۔ مگر امدادی وعدوں کو جلد اس نقدی میں بدلنے کی کاوشیں کرنا ہوں گی جس کے ذریعے سیلاب زدگان کو ہمہ جہت مشکلات سے نکالنے کے منصوبوں کو عملی شکل دی جاسکے۔ اس وقت تک کی رپورٹوں کے مطابق بڑی تعداد میں لوگوں کو جہاں بے دری، بے گھری، خوراک کی قلت، شیلٹر سے محرومی کا سامنا ہے وہاں امراض جلد، آنکھوں کے انفیکشن، ڈائریا، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور ڈینگی بخار کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جن کے لئے علاج معالجے سمیت متعدد اقدامات ضروری ہیں۔ سیلاب زدگان سے اظہار ہمدردی کے ضمن میں عالمی برادری کا جذبہ قابل ستائش ہے ، مگر اس حقیقت کا پیش نظر رکھا جانا بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ سے کئے گئے امدادی وعدوں کو جتنی جلد نقدی میں بدلا جائے گا، اتنی ہی جلدی عالمی ادارے کے منصوبوں پر کام شروع ہوگا۔ اس باب میں اہم بریفنگ 4 اکتوبر کو جنیوا کے اجلاس میں دی جائے گی۔ امریکی صدر جوبائیڈن کا 21 ستمبر کو جنرل اسمبلی کے 77ویں سربراہی اجلاس سے خطاب میں کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی قیمت انسان کو ادا کرنا پڑ رہی ہے جس کے لئے تمام ممالک کو مل کر اقدامات کرنے ہوں گے۔ امریکی صدر نے ماحولیاتی تبدیلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے اقدامات پر نہ صرف زور دیا بلکہ اس برس کے لئے دنیا بھر میں انسانی جانیں بچانے اور غذائی تحفظ میں مدد کے لئے 2.9ارب ڈالر فنڈز کا اعلان کیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے اس وقت ایک طرف پاکستان کو پانی میں ڈبو رکھا ہے دوسری جانب افریقہ خشک سالی کا شکار ہے۔ تیسری جانب یورپ کو شدید گرمی کے تجربے اور پوری دنیا کو کورونا سمیت مختلف اقسام کے امراض، شہری زندگی میں خلل اور کساد بازاری سمیت مختلف النوع مسائل سے دوچار کیا ہے۔ ان حالات میں دوست ملکوں سے امدادی سامان کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جاپان سمیت کئی ملکوں اور اداروں نے قرضہ جات کی واپسی موخر کر دی ہے جبکہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں امریکہ کے صدارتی نمائندہ برائے ماحولیاتی تبدیلی سے موجودہ صورت حال سے نمٹنے اور توانائی کے شعبے میں مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ یہ پیش رفتیں وطن عزیز کی مشکلات میں کسی قدر کمی کا ذریعہ بنیں گی۔ تاہم اندرون ملک اس بات کا لحاظ تمام حلقوں کو رکھنا ہوگا کہ جب آتشزدگی یا طوفان میں گِھرنے کا مرحلہ درپیش ہو تو پہلی ترجیح گھر کو یا لوگوں کو بچانا ہوتا ہے۔ دوسرا کوئی بھی معاملہ ایسے وقت ثانوی حیثیت اختیار کر جاتا ہے۔

تازہ ترین