• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہاؤسنگ سوسائٹی میں کاٹیج انڈسٹریز کے پلاٹوں کی چائنہ کٹنگ، ہائیکورٹ کا اظہار حیرت

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے لکھنؤ ہاؤسنگ سوسائٹی میں کاٹیج انڈسٹریز کے پلاٹوں کی چائنہ کٹنگ سے متعلق درخواست گزار کو درخواست ترمیم کرکے درست طریقے سے دائر کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے ہاؤسنگ سوسائٹی میں انڈسٹریل پلاٹس پر اظہار حیرت کیا ، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صنعتی پلاٹوں کو چھوٹے چھوٹے پلاٹوں میں تقسیم کرکے غیر قانونی تعمیرات کردی گئی ہیں، جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے پلاٹ کا نمبر درج نہ کرنے سے درخواست کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے،عمومی درخواست پر کیا حکم کریں، یہ تو دروازہ کھل جائے گا، وکیل نے کہا کہ پلاٹ کا نمبر اندرونی صفحات پر موجود ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے جن افراد کے پلاٹس پر تعمیرات ہوئی ہیں، انہیں بھی فریق بنایا جائے، علاوہ ازیں مذکورہ بنچ میں محمود آباد نمبر2 میں غیر قانونی پورشنز بنانے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، درخواست گزار نے کہا کہ پلاٹ نمبر 254 بی پر گراؤنڈ پلس 2 تعمیرات ہوچکیں، ایس بی سی اے نے عمارت سیل کیا بلڈر نے سیل توڑ دوبارہ تعمیرات شروع کردی ں ، عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حکام سے عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے ریمارکس دیئے بتایا جائے، غیر قانونی تعمیرات توڑنے میں کیا پیش رفت ہوئی،علاوہ ازیں سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے آفیسرز سوسائٹی میں پلاٹس پر قبضے کے خلاف درخواست پر کے ڈی اے سے رقبے کے تعین اور لیز کی دستاویزات طلب کرلیں، درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ کے ڈی اے نے خود لیٹر لکھا تھا یہ 22 نہیں 28 ایکڑ ہے، صنعتی مقاصد کیلیے الاٹ اراضی کسی اور مقصد کیلیے استعمال نہیں کی جاسکتی، کے ڈی اے افسران ہاوسنگ سوسائٹی کو الاٹ کی گئی زمین کی لیز منسوخ کی جائے، عدالت نے سماعت 12اکتوبر کے لئے ملتوی کردی۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید