• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رابعہ فاطمہ

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسانی زندگی کے ادوار میں جوانی کا دَور جوش و جذبات سے بھر پور ہوتا ہے، جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کئی فتوحات اپنے نام کرتا، خُوب نام کماتا ہے۔ لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسی دَور میں ایک ایسے رہبر کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، جس کی زندگی کو اپنے لیے نمونہ سمجھتے ہوئے اس کی تقلید کی جا سکے، جسے اپنا رول ماڈل بنایا جا سکے۔ ہم اس حوالے سے خوش قسمت ترین ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم، خاتم النبیین حضرت محمّدﷺ کو مبعوث فرمایا۔ 

آپﷺکی ذاتِ اقدس سے ہمیں زندگی کا نصب العین ملا۔ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ سے اگر ہم اُن کی جوانی کے ایام کا جائزہ لیں، تو اُن میں نسلِ نو کے لیے بہترین زندگی گزارنے کے گُر پوشیدہ ہیں، جن پر عمل کرکے نوجوان اپنے معاملاتِ زندگی دُرست کر سکتے ہیں اور معاملات کی یہ دُرستی صرف اعمالِ صالح کے لیے نہیں، بلکہ معاشرے میں موجودہ بگاڑ کے سُدھار میں بھی کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔

نبی اکرم ﷺ کی صداقت و امانت کا مطالعہ ہم بچپن سے کرتے آئے ہیں، اُنؐ کی صداقت و امانت کا عالَم یہ تھا کہ دشمنِ جاں بھی انہیں ’’صادق و امین ‘‘ گردانتے تھے۔کفارِ مکّہ نے آپﷺ کی ذاتِ مبارکہ کے حوالے سے سنگین ترین الفاظ کا استعمال کیا، لیکن کبھی اُنہیں جھوٹا نہیں کہا۔ نوجوان نسل اگر سچائی کی طاقت کو سمجھ کر اسے اپنی زندگی میں شامل کر لے، تو بہت سے مسائل تو خود بخود ہی حل ہوجائیں گے، کیوں کہ برائی کی سب سے بڑی جڑ توجھوٹ ہے۔

نبی اکرمﷺ کی زندگی کا ایک اور خُوب صُورت پہلو ،اُن کا تجارتی انداز تھا، جس سے حضرت خدیجہؓ کو دُگنا فائدہ ہوا کہ آپؐ نے اُنؓ کے مال کی فقط تجارت نہیں کی، بلکہ اس کے امین بھی رہے۔ ہم اپنے معاشرے کے تجارتی معاملات پر نظر دوڑائیں، تو واضح ہوگا کہ ہم نے جو اندازِ تجارت اپنایا ہوا ہے، وہ دھوکے اور فریب پر مبنی ہے۔ یعنی مال بیچتے ہوئے جھوٹ و مکر غالب رہتا ہے، کسی کے ساتھ کاروبار میں شراکت داری کریں، تو دھوکا دینے سے باز نہیں رہتے، سودی نظام رائج ہے، ناقص مال بیچ رہے ہیں۔ جب کہ تعلیمات نبویﷺ بتاتی ہیں کہ اگر نقص ہو تو گاہک پر واضح کردو، پھر اُس کی مرضی کہ وہ خریدے یا نہ خریدے۔

پھر رسول اکرمﷺ کی حیاتِ طیّبہ کا ایک اور منفرد پہلو جہدِ مسلسل ہے۔ آپ ﷺ نے دعوت و تبلیغ میں بے حد تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کیا، لیکن اپنی تحریک سے پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ نے اپنی مستقل مزاجی سے ہمیں یہ باور کروایا کہ علمی و عملی میدان میں لگن اور محنت ہی کام یابی کی ضامن ہے۔ سیرت کا ایک اور پہلو، جو سب سے بنیادی اور اہم ہے، وہ ہے سادگی۔ رسول اکرمﷺکی زندگی سادگی پر مبنی تھی اور سادگی کا یہ عالم تھا کہ کبھی پُر تکلّف کھانوں کی طرف طبیعت مائل ہی نہیں ہوئی، رہن سہن ایسا کہ اپنے لیے پُرتکلّف رہائش کا کبھی اہتمام نہیں کیا اور لباس کی سادگی کا یہ عالم کہ پیوند لگے کپڑے زیبِ تن کرتےتھے۔غرض یہ کہ سیاست سے قانون،اخلاقیات اور گفتار تک ہر معاملے میں آپ ﷺکی ذاتِ اقدس ہمارے لیے کامل نمونہ ہے۔

مسلمان اپنے عروج و زوال کی داستان پر اگر نظرِ ثانی کریں، تو معلوم ہوگا کہ جب تک ہم سیرتِ محمّدیﷺ کے پہلوؤں پر کاربند رہے، تب تک دنیا پر حکومت کرتے رہے، جوں ہی سیرتِ رسولؐ کو ترک کیا، اسلامی تعلیمات پسِ پُشت ڈالیں، وہیں زوال نے ہمیں آلیا۔

اسی طرح ربّیع الاوّل میں ہم میلاد کی تقریبات کا تو اہتمام کرلیتے ہیں، لیکن اس ماہ میں جلوہ افروز ہونے والی ہستی کی زندگی، سیرت سے سارا سال ہی صرفِ نظر کیے رکھتے ہیں۔ کیا ہم نے خود سے کبھی سوال کیا کہ ’’کیا ہم واقعی ویسے ہی ہیں، جیسا رسول اکرمﷺ ہمیں دیکھنا چاہتے تھے؟‘‘تو بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ تعلیماتِ نبویﷺکو اپنی زندگیوں میں شامل کریں۔

فروغِ سیرتِ نبویﷺ کے لیے معاشرتی سطح پر کام کی اشدضرورت ہے اور اس کی ذمّے داری معاشرے کے ہر طبقے، بالخصوص نوجوانوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ تعداد، قوت میں زیادہ ہیں۔ جس دن نوجوان یہ سمجھ لیں گے کہ سیرتِ نبوی ﷺ ہی میں ہماری فلاح ہے، بس اُسی دن سے ہمارا معاشرہ تنزّلی کی ڈگرسے نکل کر کام یابی کی راہ پر گام زن ہوجائے گا۔