سرزمین ِ امروہہ آج بھی گہوارۂ تہذیب و تمدّن ہے۔ اس خطّۂ ارضی نے نثری اور شعری حوالے سے نہایت قدآور شخصیات پیداکیں۔ میر سعادت حسین، غلام ہمدانی مصحفی اور کمال امروہوی جیسے عظیم شعراء کا خمیر بھی اسی سرزمین سے اٹھا۔ پاکستان میں بھی ’’دبستانِ امروہہ‘‘ اپنی مضبوط جڑیں رکھتا ہے۔ رئیس امروہوی، نسیم امروہوی، سیّد محمد تقی، جون ایلیا، شعیب حزیں امروہوی، خیال امروہوی، یکتا امروہوی، ڈاکٹر خورشید رضوی، ڈاکٹر ہلال نقوی، ڈاکٹر محمد علی صدیقی، ڈاکٹر وقار احمد رضوی اور احمد حسن صدیقی سمیت امروہہ سے تعلق رکھنے والے شاعروں اور ادیبوں کی ایک طویل فہرست ہے۔
نظر امروہوی کا شمار بھی اسی خطّے کے قابلِ ذکر شعراء میں ہوتا ہے۔ سرخ و سفید رنگت، بڑی بڑی آنکھیں، دراز زلفیں ،درازقد، ہاتھ میں پان کی ڈبیا، کپڑے کا چوب دار بٹوا، ہونٹوں پر پان کی سرخی اور چہرے پر ہمہ وقت سجی مسکراہٹ سے اُن کی شخصی وجاہت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ ایک قادر الکلام شاعر ہونے کے ساتھ ایک وجیہ و پُروقار شخصیت کے بھی حامل تھے کہ پیرانہ سالی کے باوجود اُن کا چہرہ، آئینے کے مقابل آتا تھا۔ ہمیشہ سفید لباس زیب تن کرتے۔ چار کلی والا کرتا، بڑے پائنچوں کا پاجاما، سیاہ شیروانی اور سلیم شاہی جوتے اُن کا تعارف تھے۔ ہم نے تمام زندگی انہیں اسی حُلیے میں دیکھا۔کبھی کبھی ’’جناح کیپ‘‘ بھی پہن لیتے تھے۔ ایسے وضع دار لوگ اب کہاں۔80برس کی عُمر پائی اور آخری وقت تک ہشاش بشاش، تن درست و توانا، خوب چاق چوبند رہے۔
بے پناہ شہرت و مقبولیت کے حامل، نظر امروہوی پاکستان میں ’’دبستانِ جگر مراد آبادی‘‘کے آخری شاعر تھے اور انھیں اپنے اس اعزاز پر فخر تھا۔ انہوں نے جگر مراد آبادی کی شعری روایت کو آخری وقت تک سینے سے لگائے رکھا۔وہ اُن شعراء میں سے ایک تھے، جنھیں مشاعروں کی ضرورت تصوّر کیا جاتا ہے اور اُس غزل کے مسلّمہ شاعر تھے، جسے موجودہ عہد میں روایتی غزل کہہ کر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اُن کی غزل کی طرح، اُن کا ’’ترنّم‘‘ بھی لاجواب تھا۔ اپنی مترنّم آواز سے اچھے اچھوں کے چراغ گُل کردیا کرتے تھے، مگر بے پناہ شہرت و مقبولیت کے باوجود بہت بے نیازانہ زندگی گزاری، ہمیشہ ادبی گروہ بندیوں سے دُور رہے۔ تاہم،اُن کا حلقۂ احباب خاصا وسیع تھا۔
تمام مکاتبِ فکر کے شاعروں، ادیبوں اور دانش وَروں سے اُن کے دوستانہ مراسم تھے۔ ہر ایک سے محبت کرنا اور ہمہ وقت مُسکراتے رہنا، گویا اُن کی فطرت تھی۔ اردو کے عالمی شہرت یافتہ مزاح نگار، مشتاق احمد یوسفی نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا ہے کہ’’ نظر امروہوی سے میری نیاز مندی 45-40برسوں پر محیط ہے۔ مَیں نے اُنھیں کبھی بغیر شیروانی کے نہیں دیکھا، شنید ہے کہ اگر وہ شیروانی اتاردیں، تو شعر کی آمد بالکل بند ہوجائے۔‘‘ ان سطور سے اُن کی وضع داری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ اگرچہ درجۂ استادی پر فائز تھے، لیکن تقدیم و تاخیر کو کبھی اپنی اَنا کا مسئلہ نہیں بنایا۔ جہاں کلام پڑھایا، پڑھ لیا۔
وہ مشاعروں کے شاعر تھے اور انہیں یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ کلام کس جگہ پڑھنا چاہیے۔ جب دیکھتے کہ مشاعرہ عروج کی جانب رواں دواں ہے تو خود اسٹیج سے اُٹھ جاتے، ناظمِ مشاعرہ لاکھ روکتا، لیکن پھر وہ نہ رکتے۔ اکثر ’’ایک غزل اور، ایک غزل اور‘‘ کی گونج ہی میں اسٹیج سے اُتر آتے۔ اگر سامعین کا زیادہ اصرار ہوتا، تو اُن کی فرمائش بھی پوری کرتے۔ موجودہ دَور میں یہ روایت عام ہوگئی ہے کہ اکثر شعراء اپنا کلام سناکر چلے جاتے ہیں۔ تاہم، نظر امروہوی نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ وہ اختتامِ مشاعرہ تک پنڈال میں موجود رہتے۔ ہاں، اُن کی طبیعت میں کچھ بے کلی سی تھی، تو کبھی اِدھر بیٹھ جاتے، کبھی اُدھر۔ مشاعرے کے دوران ناظم کی دل جوئی کے لیے اسٹیج پر چلے جاتے، پھر کچھ دیر بعد سامعین کے درمیان آکر بیٹھ جاتے۔
انہیں ’’گاؤتکیے‘‘ کے سہارے کی ضرورت نہیں تھی، وہ عوامی آدمی تھے اور عوام ہی کے درمیان رہنا چاہتے تھے۔ لاہور کے ایک بڑے مشاعرے میں معروف اداکارہ انجمن بھی موجود تھیں۔ نظر امروہوی جب اپنا کلام پیش کرنے لگے تو اُن کی شاعری میں اتفاق سے لفظ ’’انجمن‘‘بار بار آرہا تھا۔ مذکورہ مشاعرے میں نظر صاحب نے تین غزلیں سنائیں، تینوں غزلوں میں لفظ انجمن موجود تھا، تو ان اشعار پر انہیں بے پناہ داد ملی۔ پھر مشاعرے کے اختتام پر اداکارہ انجمن نے بطورِ خاص نظر صاحب کا شُکریہ ادا کیا۔ اُنھیں یہ یقین ہوچلا تھا کہ یہ اشعار نظرصاحب نے اُن ہی کے لیے کہے ہیں۔
اُس دن کے بعد نظر امروہوی اور انجمن کی دوستی بھی ہوگئی۔کہتے ہیں کہ دونوں کے درمیان کافی عرصہ خط و کتابت بھی ہوتی رہی۔ پھراکثر ایسا ہوتا کہ جب نظر صاحب کلام سُنانے بیٹھتے، تو سامعین کی جانب سے آوازیں آنے لگتیں کہ انجمن والی غزل سُنائیں۔ اسی واقعے کے تناظر میں نظر امروہوی کے چند شعر ملاحظہ فرمائیں؎ نفس کے سوز نے، سازِ سخن کو لُوٹ لیا.....تری غزل نے نظر، انجمن کو لُوٹ لیا۔؎ مَیں شریکِ رونق ہر انجمن تھا، کل تلک.....آج میرے شہر میں کوئی نہ پہچانا مجھے۔؎ نظر آج دل میں ہے، جشنِ چراغاں..... کہ وہ رونقِ انجمن آگئی ہے۔؎ لباس دے کے ترے غم کو اپنے شعروں کا.....بنادیا ہے تجھے جانِ انجمن مَیں نے۔؎ اپنی اپنی ذات میں ہر آدمی ہے انجمن..... انجمن ہوتے ہوئے ہرآدمی تنہا بھی ہے۔
نظر امروہوی، ایک انتہائی زندہ دل انسان تھے،اُن کی شوخیاں پیرانہ سالی تک برقرار رہیں۔ اس حوالے سے اُن کا ایک شعر ملاحظہ فرمایئے؎ نظر، میں اپنے بڑھاپے کی آبرو کے لیے.....کسی سے عشق نہ کرتا تو اور کیا کرتا۔ بذلہ سنجی اُن کی فطرت میں شامل تھی۔ فقرے لگانا اور جملے پھینکنا اُن کا محبوب مشغلہ تھا۔ محفل آرائی کا ہنربھی آتا تھا۔
دورانِ سفر خود سوتے اور نہ دوسروں کو سونے دیتے، گفتگو اور مکالمے کے چراغ روشن رکھتے۔ انہوں نے اپنے استاد، شعیب حزیں امروہوی کا ذکر ہمیشہ محبّت و عقیدے سے کیا، لیکن اب ایسے استاد رہے اور نہ شاگرد۔ یہ روایت بھی معدوم ہوتی جارہی ہے۔ اپنے استاد کے لیے اُن کا ایک شعر دیکھیے؎ یہ فیضِ حزیں ہے کہ نظر میری غزل میں..... حسرت کا تغزل بھی ہے،فانی کا بیان بھی۔
نظر امروہوی کو عالمی سطح پربھی خوب پذیرائی ملی۔ اُنہیں مختلف ممالک کے مشاعروں میں بصد اصرار مدعو کیا جاتا۔ جہاں بھی جاتے، اپنے اشعار کی خوشبو اور اپنی یادوں کی مالا چھوڑ آتے۔ اُن کی تمام زندگی کا ماحصل اُن کے دوشعری مجموعے ’’متاعِ نظر‘‘ اور ’’شعاعِ نظر‘‘ہیں۔ انہوں نے اپنی کتابوں پر کسی نقّاد سے نہیں لکھوایا، اس حوالے سے جب صاحب زادوں نے اصرار کیا، تو کہا کہ ’’مجھے اپنی شاعری پر اعتماد ہے، کسی نقّاد کی توصیفی رائے کی ضرورت نہیں۔‘‘
اس سے اُن کی خود اعتمادی اور بے نیازی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ’’انجمن سادات ِ امروہہ‘‘ کی جانب سے ہر سال امروہہ کے ایک روحانی بزرگ، شاہ ولایت کا عرس منایا جاتا ہے۔ اُس موقعے پر منعقد ہونے والی ’’محفلِ سماع‘‘ میں نظر امروہوی کو ’’مسندِ خصوصی‘‘ پر بٹھایا جاتا۔ اِس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ’’صاحب ِ سلسلہ‘‘ بھی تھے۔ انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ اُن کے تینوں بیٹوں نے فنونِ لطیفہ کی مختلف جہتوں پر قابلِ قدر کام کرکے پاکستان اور اپنے خاندان کا خوب نام روشن کیا ہے۔
نظر امروہوی کے بڑے بیٹے، اقبال نظر بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے اسٹیج اور ٹی وی کے لیے ڈرامے بھی تحریر کیے اور گزشتہ کئی برسوں سے ایک ادبی جریدہ، سہ ماہی ’’کولاژ‘‘شایع کررہے ہیں۔ دوسرے بیٹے انجم ایاز،عالمی شہرت یافتہ مجسّمہ ساز، پینٹر، خطّاط اور ڈراموں کے ہدایت کار ہیں، جب کہ چھوٹے صاحب زادے، جاوید نظر عرصۂ دراز سے سڈنی میں مقیم ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں، ان کا ایک شعری مجموعہ’’کچھ کہنا ہے‘‘ بھی منظرِ عام پر آچکا ہے۔ انہوں نے سڈنی میں ’’کوچۂ ثقافت‘‘ کی داغ بیل ڈالی ہے۔
نظر امروہوی نے غزل کی کلاسیکی روایت سے اپنا تعلق آخری وقت تک برقرار رکھا اور ان کی غزلوں میں بُلبل کی چہک،گُلوں کی مہک،اپنے محبوب سے مکالمہ اور عشق کی سرمستیاں بھی ہیں۔ انہوں نے جس ماحول میں زندگی گزاری، اُن کا مزاج اُس سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، لیکن اس کے باوجود غزل کی روایتی اصطلاحات کوخود سے کبھی جدا نہیں ہونے دیا، تغزّل کی روایت کو مسلسل آگے بڑھایا۔ ایسے مستقل مزاج لوگ اس دور میں نایاب ہیں۔ نئی غزل میں نظمیہ انداز دَر آیا ہے، لیکن انہوں نے اپنی غزل کو غزل ہی رکھا اور ان ہی مضامین اور علامتوں کو ذریعۂ اظہار بنایا، جو غزل کی بنیاد ہیں۔ ویسے اُن کی شاعری سادگی کا مرقّع ہے۔
انہوں نے مشکل استعارات اور علامات سے بیش تر اوقات گریز ہی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے اشعار فوری طور پر دل میں اتر جاتے تھے۔ معروف مزاح نگار، مشتاق احمد یوسفی اُن کے بارے میں فرماتے ہیں، ’’نظر امروہوی، خواص و عوام میں یک ساں مقبول ہیں، لیکن انہیں یہ بھی قابلِ رشک امتیاز حاصل ہے کہ اُن کی مردانے سے زیادہ زنانے میں دھوم ہے۔ نظر صاحب ذاتی زندگی میں جیسے یک سو، پُراعتماد، سراپا اخلاص، خوش خرد اور خندہ روہیں، یہی اوصاف اُن کی شاعری میں محاسن کی صورت جلو ریز ہوئے ہیں۔ اصنافِ سخن میں انہوں نے غزل کو وسیلۂ اظہار بنایا،ایک بار اُسے اپنانے کے بعد کبھی دوسری اصناف کی جانب حریصانہ یا حریفانہ نگاہ نہیں کی۔
پیچھے مڑکر سفّاکانہ نظر ڈالنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ شعر، خواہ ترنّم سے اپنی مخصوص رمق یا دمک کے ساتھ پڑھیں یا تحت اللفظ، مشاعرہ لُوٹنے کے لیے انہیں کوئی جتن نہیں کرنا پڑتا، نہ شاگردوں اور مصرع اٹھانے والوں کا مرہونِ منّت ہونا پڑتا ہے۔‘‘معروف ادیب و نقّاد، پروفیسر سحر انصاری اُن کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’نظر امروہوی نے جگر مراد آبادی کے ساتھ بڑا وقت گزارا، جگر صاحب بھی اُن سے بہت محبّت کیا کرتے تھے۔ وہ فخر سے کہتے تھے کہ اُن کا تعلق ’’جگر اسکول‘‘ سے ہے۔ جگر مرادآبادی کے یہاں تغزّل بنیادی حیثیت رکھتا تھا، نظر امروہوی نے اُن کے رنگِ سخن کو اپنایا۔
نظر صاحب کے دل میں غزل کا بہت احترام تھا، وہ غزل کے لیے اتنے آگے بڑھے کہ ایک ادارہ ’’غزل انٹرنیشنل‘‘کے نام سے قائم کرلیا۔‘‘ معروف ادیب، شکیل عادل زادہ نے ان کے شاعرانہ کمالات پر کچھ اس طرح اظہار خیال کیا، ’’نظر امروہوی کی زندگی سخن کاری اور سخن وری میں بسر ہوئی۔ امروہہ، مراد آباد، لاہور اور کراچی میں اُن کی پہلی ترجیح تخلیقِ شعر اور حرمتِ شعر رہی ہے۔ وہ اپنے گھر اوراپنے متعلقین کے معاملات بھی حُسن و خوبی سے نبھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے بہترین شعر کہے اور ایک خلقت کو متاثر کیا۔ وہ کئی رُخ اور کئی پہلوؤں سے ایک مثالی شاعر ہیں۔‘‘
نظر امروہوی کے کچھ منتخب اشعار
کوئی تغافل سا ہے تغافل، کوئی توجّہ سی ہے توجّہ
تمام انداز بے رخی کے، تمام عالم سپردگی کا
٭٭٭٭
نہ کارواں ہے، نہ رہ گزرہے، نہ کوئی منزل، نہ کوئی رہبر
مقامِ ہوش و خرد سے آگے، تمام عالم غبار سا ہے
٭٭٭٭
خلاؤں میں بکھر جاتی یہ دنیا
تو ذرّوں میں توانائی نہ ہوتی
٭٭٭٭
پھونک دیتے زمانے کو، جلوے تِرے
وہ تو کہیے کہ ہم درمیاں آگئے
٭٭٭٭
میری وحشت کا زمانہ ہوگا
موسمِ گُل تو بہانہ ہوگیا
٭٭٭٭
اچانک تیری نظروں سے تصادم ہوگیا ورنہ
مکمل میری بربادی کا افسانہ نہیں ہوتا
٭٭٭٭
مرے ہی غم سے عبارت نہیں مری صورت
ہر ایک شخص کا چہرہ کتاب جیسا ہے
٭٭٭٭
اعتبارِ خود شناسی اور وہ بھی اس قدر
کردیا اک آشنا نے مجھ سے بیگانہ مجھے
٭٭٭٭
سرِ محفل کبھی تنہائیاں محسوس ہوتی تھیں
مگر اب خلوتوں میں حشر برپا ہوتا جاتا ہے
٭٭٭٭
ناقدوں نے لُوٹ لی شعر و ادب کی آبرو
اب نظر امروہوی ہے، مرثیہ خانِ غزل