شاعر: شبّیر نازش
صفحات: 176، قیمت: 700 روپے
ناشر: آرٹس کاؤنسل آف پاکستان،کراچی۔
کسی دوسرے شہر یا صوبے سے کراچی آکر اپنے لیے جگہ بنانا کوئی آسان بات نہیں۔ دیگر صوبوں سے آنے والے بیش تر شاعر اور ادیب کراچی میں گم نامی کی زندگی گزار کر راہیٔ ملکِ عدم ہوئے۔ جن شعرا کا کراچی نے کشادہ دلی سے استقبال کیا، اُن میں شبّیر نازش کا نام نہایت اہم ہے۔ اُنہوں نے اپنی پہچان کروانے کے لیے کوئی حربہ استعمال نہیں کیا، صرف اور صرف اپنی شاعری پر توجّہ دی، یہی وجہ ہے کہ آج اُن کا شمار کراچی کے نمائندہ شعراء میں ہوتا ہے، اُنہیں مشاعروں میں بُلایا جاتا ہے اور توجّہ سے سُنا بھی جاتا ہے۔ شبّیر نازش اُن نوجوانوں سے بہت مختلف ہیں، جو پیدا ہوتے ہی بڑے ہوگئے۔ وہ بڑوں کا احترام جس طرح کرتے ہیں، اُس سے اُن کی خاندانی روایات کا پتا چلتا ہے۔
ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ شبّیر نازش ہمارے پسندیدہ شاعر ہیں۔اس وقت پیشِ نظر اُن کا دوسرا شعری مجموعہ ہے، جس میں تین نعتیں، پانچ سلام، بحضورِ امامِ عالی مقام، حضرت علیؓ کی شان میں ایک منقبت، 48 غزلیں اور25 نظمیں شامل ہیں۔بس ایک حمد کی کمی محسوس کی گئی،جو بسم اللہ سے بھی پوری ہوسکتی تھی۔ کتاب کا تفصیلی مقدمہ معروف شاعر، نقّاد اور محقّق، اکرم کنجاہی نے تحریر کیا ہے، جس میں شبّیر نازش کی تمام شاعرانہ جہتوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
ان کی غزل جدید دَور کا منظر نامہ پیش کرتی ہے اور نظم میں ہر اُس موضوع کو سمو دیا گیا ہے، جو زندگی کی رنگ آمیزیوں سے عبارت ہے۔نیز، اُن کی شاعری سے متعلق اکرم کنجاہی کی یہ رائے بھی ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے کہ’’ شبّیر نازش نے بے شک علامات، استعارات اور تراکیب سے زیادہ کام نہیں لیا، مگر ایک متوازی اسلوب ضرور اپنایا ہے، جس میں سادگی اور شعریت نمایاں ہے۔ وہ غزل کی تہذیب کو بالکل فراموش بھی نہیں کرتا اور اسلوبِ بیان کی نمود و نمائش کی طرف بھی نہیں جاتا، صرف جذبے اور احساس کو رمزیہ و ایمایہ کیفیت میں پیش کرکے غزل کا تاثر قائم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘