• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعر : ملک کاشف اعوان

صفحات: 176 ، قیمت: 595 روپے

ناشر:حق پبلی کیشنز،چیٹرجی روڈ، اُردو بازار، لاہور۔

زیرِ نظر کتاب کے مصنّف کے کئی حوالے ہیں۔ ماہرِ مالیات و اقتصادیات، کالم نویس، شاعر، ناول و افسانہ نگار۔ ہمارے پیشِ نظر اُن کی نثری نظموں کا مجموعہ ہے۔ نثری نظم تواتر سے لکھی جا رہی ہے اور اس کے تخلیق کاروں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن یہ صنف ابھی تک ’’قبول و رَد‘‘ کے درمیان ہے۔ نثری نظم کے حوالے سے ملک کاشف اعوان کا ایک بھرپور مضمون بھی شاملِ کتاب ہے۔ اُنہوں نے نہایت جرأت مندی سے نثری نظم کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ 

نثری نظم کی حمایت اور مخالفت میں فیض احمد فیض، احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، شمس الرحمان فاروقی، ڈاکٹر وزیر آغا، مشفق خواجہ، خلیل الرحمٰن اعظمی، عارف عبدالمتین، ڈاکٹر محمّد حسن، احمد ہمیش اور نصیر احمد ناصر کے مضامین کے اقتباسات نے بھی کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا ہے۔ ملک کاشف اعوان کی نثری نظموں میں موضوعاتی تنوّع نمایاں ہے۔ 

اُنہوں نے روایتی موضوعات سے گریز کرکے نئے نئے خیالات کو الفاظ کا پیرہن دیا ہے، جب کہ اُن کی نثری نظموں میں عصری آگہی بھی ہے اور سماجی شعور بھی۔ کاشف اعوان نے لکھا ہے کہ’’جدید اُردو نظم کئی تجربات کی بھٹّی میں پک کر موجودہ حالت تک پہنچی ہے۔‘‘ اُن کی یہ سطور نئی نظم لکھنے والوں کے لیے آگہی کے در کھولتی ہیں۔ اس کتاب میں اُن کی48 نثری نظمیں شامل ہیں،جب کہ کتاب پر کسی ناقد کی رائے نہیں لی گئی کہ اس کا دیباچہ کئی مقالات پر بھاری ہے۔