• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مِرگی کا شمار اہم اور عام دماغی امراض میں ہوتا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ افراد اِس مرض میں مبتلا ہیں، تو اِسی تناظر میں ہر سال فروری کے دوسرے پیر کو ’’مِرگی کا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی کم و بیش22 لاکھ افراد کو ایپی لیپسی(مرگی) کا مرض لاحق ہے اور بدقسمتی سے ایسے مریضوں کو عمومی طور پر بھوت پریت یا جادو ٹونے کا شکار تصّور کیا جاتا ہے، جب کہ اِس مرض سے کئی اور توہمّات، غلط تصوّرات بھی وابستہ ہیں، حالاں کہ مِرگی ایک مرض ہے اور 70 سے 80 فی صد تک قابلِ علاج بھی ہے۔

دراصل، اِس مرض میں دماغ کے اندر برقی انتشار کے سبب متاثرہ فرد کو دَورے پڑتے ہیں۔ یہ مرض بچّوں میں زیادہ عام ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق، پاکستان میں ہر1000 میں سے 14.6 بچّوں میں یہ مرض کسی نہ کسی صُورت پایا جاتا ہے، لیکن درست اور بروقت تشخیص نہ ہونے کے باعث علاج نہیں ہوپاتا، جب کہ بیش تر خواتین میں بھی مِرگی کی درست اور بروقت تشخیص ہو پاتی ہے اور نہ ہی وہ ادویہ کا درست استعمال کرتی ہیں۔ماہرین کے مطابق، شہری آبادی کی نسبت دیہات میں ایپی لیپسی کا تناسب زیادہ ہے۔

مِرگی ہے کیا؟

مِرگی کا دَورہ دراصل دماغ میں کیمیائی تبدیلی اور دماغی خلیوں میں برقی خلل کی وجہ سے پڑتا ہے، نتیجتاً جہاں اور دماغ کے جس حصّے کے خلیوں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے، اُس کے مطابق ہی جسم پر اُس کے اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔دماغی خلیوں میں ارتعاش کی وجوہ میں کوئی دماغی چوٹ، حمل یا زچگی کے دوران کوئی پیچیدگی یا بچپن کی کوئی ایسی بیماری ہو سکتی ہے، جو دماغ پر اثر انداز ہوتی ہو۔ مِرگی کا دَورہ پڑنے پر مریض عام طور پر نیچے گر جاتا ہے، جسم اکڑ جاتا ہے اور دانت سختی سے بھنچ جاتے ہیں، بعض اوقات بے ہوشی بھی طاری ہوجاتی ہے اور منہ سے جھاگ آنے لگتا ہے۔

مریض کو دَورے کے دَوران چوٹ بھی لگ سکتی ہے اور اِن کیفیات کا عمومی دورانیہ چند سیکنڈز سے ایک، دو منٹ تک کا ہوتا ہے۔ اگر کسی مریض میں پانچ منٹ سے زیادہ دیر تک یہ علامات برقرار رہیں، تو اُسے فوراً اسپتال لے جانا چاہیے۔ بچّوں میں بالخصوص اور بڑوں میں بالعموم مرگی کی ایسی قسم بھی پائی جاتی ہے، جس میں درج بالا کیفیات ظاہر نہیں ہوتیں۔اِس میں مریض چند سیکنڈز کے لیے اردگرد کے ماحول سے مکمل لاتعلق یا یوں کہہ لیں کہ گم صُم ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ مرگی کی کم و بیش150 کے قریب اقسام ہیں۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ دماغی دَوروں یا جھٹکوں کا صرف مرگی ہی سے تعلق نہیں ہوتا، بلکہ ان کی کئی اور وجوہ بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً خون میں شکر کا کم ہوجانا، نمکیات کی کمی، کیلشیم کی سطح کا گرجانا، دماغی رسولی، دماغ کا انفیکشن جیسے کہ دماغ کی ٹی بی، دماغی ملیریا، دماغ کا فالج اور سر کی چوٹ وغیرہ۔ لہذا، مرض کی بروقت اور درست تشخیص کے لیے ماہرِ امراضِ دماغ و اعصاب یعنی نیورولوجسٹ ہی سے رجوع کرنا چاہیے۔اگر مِرگی کے کسی مریض کو جھٹکے لگتے ہوئے دیکھیں، تو سب سے پہلے اُسے پیٹ کے بَل لِٹادیں تاکہ سانس کی نالی میں کوئی چیز داخل نہ ہوسکے، اگر مریض نے چُست لباس پہنا ہوا ہے، تو اُس کے بٹن وغیرہ کھول کر ڈھیلا کردیں۔ مریض کے منہ میں کچھ نہ ڈالیں اور نہ ہی اُسے دبوچیں۔ 

اگر جھٹکوں، یعنی دَوروں کا دورانیہ پانچ منٹ سے بڑھ جائے، تو فوراً ایمبولینس بلوا کر مریض کو جلد از جلد اسپتال پہنچائیں۔ پاکستان میں مِرگی سے متعلق آگاہی، درست تشخیص اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے اِس کے قابلِ علاج ہونے سے متعلق بہت سے مفروضے پائے جاتے ہیں۔محتاط اعداد وشمار کے مطابق شہروں میں 27.5 فی صد، جب کہ دیہات میں صرف2 اعشاریہ9 فی صد لوگ مِرگی کے مرض کا باقاعدہ علاج کرواتے ہیں۔

اِس شرح سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں اِس مرض کے قابلِ علاج ہونے سے متعلق شعور و آگاہی کے فروغ کی ضرورت ہے اور اِس ضمن میں تمام متعلقہ حکومتی اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ مِرگی کے مریضوں کو علاج اور ادویہ کی سہولتیں مہیّا کی جاسکیں۔ قابلِ غور امر یہ بھی ہے کہ ہمارے ہاں مِرگی کے کم و بیش پچاس ہزار مریضوں کے لیے صرف ایک نیورو لوجسٹ دست یاب ہے، جس کے سبب اِس مرض کا علاج مزید مشکل ہوجاتا ہے۔

مرض سے متعلق غلط تصوّرات اور توہمّات

یاد رکھیں کہ مِرگی نہ تو متعدّی یا لگنے والی بیماری ہے اور نہ ہی یہ مرض جادو، ٹونے اور بھوت پریت کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔پاکستان میں عام طور پر مِرگی کو کوئی بیماری نہیں سمجھا جاتا،بلکہ اکثر لوگ اسے جنّات کا سایہ یا جادو وغیرہ سمجھ کر عاملوں کے ہتھّے چڑھ جاتے ہیں،جس سے مریض کو مزید نقصان پہنچتا ہے۔ مِرگی کے مسلسل دَوروں سے متاثرہ شخص کا دماغ سخت متاثر ہوتا ہے کہ چند سیکنڈز کے صرف ایک دورے سے دماغ کے لاکھوں خلیات مُردہ ہوجاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق، اگر کسی مریض کو آدھے گھنٹے تک دَورے/جھٹکے پڑتے رہیں، تو اُس کے دماغ کا کم و بیش25 فی صد حصّہ بے کار ہوجاتا ہے۔مِرگی سے متعلق یہ تصوّر بھی پایا جاتا ہے کہ اِس طرح کے مریض شادی کے قابل ہوتے ہیں اور نہ ہی نسل بڑھا سکتے ہیں، یہ ایک مکمل طور پر فضول اور لغو بات ہے۔ ایسے تصّورات کے سبب مرگی کے مریضوں کو نارمل زندگی گزارنے کے مواقع نہیں ملتے۔ ان مریضوں کی شادی سے گریز کیا جاتا ہے اور اِس مرض سے متاثرہ بچّوں کو اسکول سے اُٹھوا لیا جاتا ہے، جس کے سبب وہ سماجی تنہائی اور ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قابلِ علاج مرض ہے اور 70فی صد مریضوں میں مکمل صحت یابی کے ساتھ علاج ممکن ہے۔

آگہی اور علاج

مِرگی سے متعلق دنیا بَھر میں جامع تحقیقات ہوچُکی ہیں اور ماہرین اِسے قابلِ علاج مرض قرار دے چُکے ہیں۔ اِس لیے ہمارے ہاں بھی اِس سے متعلق شعور و آگہی کے فروغ کی بے حد ضرورت ہے تاکہ ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جاسکے۔ اِس کے ساتھ، ایسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں، جن کی مدد سے اِس مرض کا تدارک کیا جاسکے اور جنھیں یہ مرض لاحق ہو چکا ہے، اُنھیں علاج معالجے کی مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں، کیوں کہ منہگی ادویہ علاج میں تاخیر اور متاثرہ مریض پر مالی بوجھ کا سبب بنتی ہیں، اِس لیے حکومت کو ایسی ادویہ پر لازماً سبسڈی دینی چاہیے۔

نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن(نارف) کا کردار 

یہ تنظیم عوام النّاس کو مِرگی اور دیگر دماغی، ذہنی و اعصابی امراض سے متعلق آگہی اور نئی تحقیق تک رسائی کے لیے کوشاں ہے۔نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فائونڈیشن(نارف) نے خصوصاً مِرگی سے متعلق بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلائی ہے۔ 

مریضوں کے لیے مختلف زبانوں میں معلومات پر مبنی ویڈیوز اور لٹریچر کے ساتھ، ڈاکٹرز کے لیے ہنگامی طبّی امداد کی فراہمی کے چارٹس تیار کروا کر مُلک بَھر کے شعبہ نیورولوجی کو فراہم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ، مِرگی کے دَوروں اور جھٹکوں کے ماہانہ ریکارڈ کے لیے مریضوں کو خصوصی ڈائریز فراہم کی گئی ہیں۔بہرحال، اِس سال مرگی کے عالمی یوم کو اِسی پیغام کے ساتھ منانا چاہیے کہ یہ ایک قابلِ علاج مرض ہے۔

(مضمون نگار، لیاقت کالج آف میڈیسن اینڈ ڈینٹیسٹری، کراچی سے وابستہ ہیں،جب کہ نیورولوجی اویئرنس اینڈ ریسرچ فاؤنڈیشن (نارف) پاکستان کے جنرل سیکریٹری اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن(پیما) کے سینئر رکن بھی ہیں)