• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’لیلہ مُبارکہ‘ رب کے حضور مُناجات طلبِ مغفرت اور دعاؤں کی قبولیت کے پُرنور لمحات

’’شعبان المعظّم ‘‘ کی پندرہویں شب کو ’’شب برأت‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ بہت ہی بابرکت، قدرو منزلت اور فضیلت والی رات ہے۔ جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسارؒ فرماتے ہیں: ’’لیلۃ القدر کے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔‘‘

’’شعبان ‘‘ کے معنیٰ ہیں، شاخ در شاخ ہونا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اس ماہ مبارک کا نام ’’شعبان ‘‘ اس لیے رکھا گیا کہ روزے داروں کی نیکیوں میں شاخوں کی طرح اضافہ ہوتا اور یہ بڑھتی رہتی ہیں۔

امّ المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ میں نے سوائے شعبان کے مہینے کے (رمضان کے علاوہ) کسی اور مہینے میں رسول اللہﷺ کو کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔آپؐ کو یہ بہت محبوب تھا کہ شعبان کے روزے رکھتے رکھتے رمضان سے ملا دیں۔(سنن بیہقی)

جمہور علماء، محدثین اور مفسرین نے شعبان کی فضیلت و اہمیت اور اس مبارک مہینے کی پندرہویں شب یعنی ’’شب برأت‘‘ کی قدر ومنزلت کے حوالے سے متعدد روایات بیان کی ہیں۔’’شب برأت‘‘ کے کئی نام ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں۔(1)لیلۃ الرحمۃ:اللہ تعالیٰ کی رحمتِ خاصہ کے نزول کی رات۔(2) لیلۃ المبارکۃ: برکتوں والی رات۔ (3) لیلۃ البرأ ۃ:جہنم سے نجات اور بری ہونے والی رات۔(4)لیلۃ الصّک: دستاویز والی رات۔ جب کہ عام طور پر اسے ’’شب برأت‘‘کہا جاتا ہے۔ ’’شب‘‘ فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنیٰ رات کے ہیں اور برأت عربی زبان کا لفظ ہے ۔جس کے معنیٰ بری ہونے اور نجات پانے کے ہیں۔اس لیے اسے شب برأت کہا جاتا ہے ۔ چوںکہ اس مقدس رات رحمت خداوندی کے طفیل لاتعداد بندگان خدا جہنم سے نجات پاتے ہیں۔ اس لیے اسے ’’شب برأت‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔

شب برأت کی فضیلت و اہمیت کے حوالے سے جلیل القدر صحابۂ کرام ؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ ،حضرت علی مرتضیٰ ؓ،امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ ،حضرت ابوہریرہ ؓ، حضرت عوف بن مالک ؓ ، حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ،حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ،حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ، حضرت عثمان بن ابی العاصؓ کے علاوہ بعض جلیل القدر تابعین ؒ سے بھی متعدد روایات منقول ہیں۔

حضرت عثمان بن ابی العاصؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآبﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ عزو جل کی جانب سے (ایک پکارنے والا) پکارتا ہے۔ کیا کوئی مغفرت کا طلب گار ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ میں اسے عطا کر دوں؟اس وقت پروردگار عالم سے جو مانگتا ہے،اسے ملتا ہے ،سوائے بدکار عورت اور مشرک کے۔‘‘ (بیہقی/شعب الایمان 83/3)

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ سوائے مشرک اور کینہ ور کے سب کی مغفرت فرما دیتا ہے۔ (مجمع الزوائد 65/8)

حضرت ابوثعلبہ خشنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’جب شعبان کی پندرہویں شب (شب برأت) ہوتی ہے تو رب ذوالجلا ل اپنی مخلوق پر نظر ڈال کر اہل ایمان کی مغفرت فرما دیتا ہے، کافروں کو مہلت دیتا ہے، اور کینہ وروں کو ان کے کینے کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے تاوقت یہ کہ وہ توبہ کر کے، کینہ وری چھوڑ دیں‘‘۔(بیہقی /شعب الایمان 3/381)

جب کہ مختلف روایات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ بے شمار بدنصیب افراد ایسے ہیں کہ وہ اس بابرکت رات کی عظمت و فضیلت اور قدر و منزلت سے دور رہتے اور اللہ عزو جل کی بخشش ورحمت سے محروم رہتے ہیں۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی نظر عنایت نہیں ہوتی۔ وہ بدنصیب افراد یہ ہیں:مشرک۔جادوگر۔کاہن اور نجومی۔ ناجائز بغض اور کینہ رکھنے والا۔جلاد ۔ظلم سے ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا۔ جوا کھیلنے والا۔ گانے بجانے والا اور اس میں مصروف رہنے والا۔ ٹخنوں سے نیچے شلوار ، پاجامہ تہہ بند وغیرہ رکھنے والا۔ زانی مرد و عورت۔ والدین کا نافرمان۔ شراب پینے والا اور اس کا عادی۔ رشتے داروں اور اپنے مسلمان بھائیوں سے ناحق قطع تعلق کرنے والا۔

یہ وہ بدقسمت افراد ہیں جن کی اس بابرکت اور قدر و منزل والی مقدس رات میں بھی بخشش نہیں ہوتی اور وہ بدبختی،بداعمالی اور گناہوں کے سبب اللہ کی رحمت اور مغفرت سے محروم رہتے ہیں۔ الّا یہ کہ وہ ’’توبۃ النصوح ‘‘ یعنی سچی توبہ کرلیں، اس لیے کہ توبہ درحقیقت گناہوں کی معافی کا ذریعہ اور گناہوں کا کفارہ ہے۔در توبہ کھلا ہوا ہے اور یہ قیامت تک کھلا رہے گا۔

علماء و محدثین کے مطابق شب برأت کی فضیلت لیلۃ القدر کے بعد ہے،یعنی شب قدر سے کم ہے،تاہم اس کی فضیلت اور قدرو منزلت سے انکار کرنا کسی بھی طرح درست نہیں۔ حضرت عطاء بن یسارؒ فرماتے ہیں:’’لیلۃ القدرکے بعد شعبان کی پندرہویں شب سے زیادہ کوئی رات افضل نہیں۔ ‘‘

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ ہماری پیشی سے حکم ہو کر طے کیا جاتا ہے۔ (سورۂ دخان) یعنی اس رات پورے سال کا حال قلم بند ہوتا ہے، رزق، بیماری، تن درستی، فراخی،راحت ، تکلیف ، حتیٰ کہ ہر وہ شخص جو اس سال پیدا ہونے والا یا مرنے والا ہو،اس کا مقررہ وقت بھی اسی شب لکھ دیا جاتا ہے۔

حضرت عطاء بن یسارؒ فرماتے ہیں کہ جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک فہرست ملک الموت کو دے دی جاتی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ جن جن لوگوں کا نام اس فہرست میں درج ہے، ان کی روحوں کو قبض کرنا، (چناںچہ حال یہ ہوتا ہے کہ) کوئی بندہ تو باغ میں پودا لگا رہا ہوتا ہے، کوئی شادی بیاہ میں مصروف ہوتا ہے، کوئی مکان کی تعمیر میں مصروف ہوتا ہے، حالانکہ ان کا نام مُردوں کی فہرست میں لکھا جاچکا ہوتا ہے۔ (شیخ عبدالحق محدث دہلوی /ماثبت بالسنۃ ص353)

محبوب سبحانی،حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ’’اس کیفیت کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:٭بہت سے لوگوں کے کفن تیار ہو چکے ہیں، مگر وہ ابھی تک بازاروں میں خریدو فروخت میں مصروف اور اپنی موت سے غافل ہیں۔٭بہت سے لوگوں کی قبریں کھد کر تیار ہو چکی ہیں، مگر ان میں دفن ہونے والے غفلت سے خوشیاں مناتے پھر رہے ہیں۔٭بہت سے لوگ ہنستے اور خوشیاں مناتے پھرتے ہیں، حالانکہ وہ بہت جلد ہلاک ہونے والے ہیں۔ ( غنیۃ الطالبین)

آج کی مقدس شب رحمت و مغفرت اور قدر و منزلت والی ہے،اس بابرکت رات کی مقدس گھڑیوں میں جو چودہ شعبان کے سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی اور پندرہ شعبان کی صبح صادق ہونے تک رہتی ہے۔ بارگاہِ رب العزت کی رحمت و مغفرت کا ابرکرم خوب جم کر برستا ہے۔

شیر خدا سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جب شعبان کی پندرہویں شب آئے تو رات کو نماز پڑھو اور اگلے دن روزہ رکھو، کیوںکہ غروب شمس سے صبح صادق کے طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے:’’ہے کوئی مجھ سے بخشش کا طلب گار کہ میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اسے رزق دے دوں،؟ ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں؟ ہے کوئی ایسا،ہے کوئی ویسا؟(بیہقی /شعب الایمان )

امّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس مقدس شب یہ دعا فرماتے تھے:’’ اَعُوذُ بِعفوکَ مِن عِقابِک،اَعُوذُ بِرضاکَ مِن سَخطِکَ واَعُوذُ بِکَ مِنکَ جَلّ وجھِکَ، اللّٰھُمِّ لا اُحصی ثنآئََ علیکَ، اَنتَ کمااَثنیتَ علیٰ نفسِکَ ‘‘۔(سنن بیہقی)اے اللہ ! میں تیرے عفو کی پناہ چاہتا ہوں۔ تیری سزا سے اور تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں۔ تیرے غصے اور ناراضی سے اور پناہ چاہتا ہوں تیری سختیوں سے، یا اللہ، میں آپ کی تعریف شمار نہیں کر سکتا، آپ کی ذات ایسی ہی بلند وبالا ہے،جیسے آپ نے خود فرمایا۔

’’شب برأت ‘‘ کے حوالے سے ملا علی قاریؒ سے یہ دعا ثابت ہے۔(ترجمہ )’’ اے میرے پروردگار، اگر آپ نے میرا نام بدقسمت اور بدبخت لوگوں کے دفتر میں لکھ دیا ہے تو اسے مٹا دیجیے اور اگر میرا نام اپنے نیک بندوں کے دفتر میں لکھا ہے تو اسے باقی رکھیے، کیونکہ آپ نے اپنی کتاب (قرآن حکیم) میں ارشاد فرمایا ہے کہ جس حکم کو چاہیں موقوف کر دیتے ہیں اور جس حکم کو چاہے قائم رکھتے ہیں اور اصل کتاب ان ہی کے پاس ہے۔

شب برأت کی عظمت و اہمیت اور فضیلت کے پیش نظر اس میں عبادت و مناجات، ذکر الٰہی اور تلاوت قرآن کے لیے غسل کر لینا مستحب ہے۔عشاء اور فجر کی نماز با جماعت ادا کرنے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ جتنا سہولت اور آسانی سے ممکن ہو۔ اس مقدس رات کو نوافل اور ذکر تلاوت میں گزاریں، منکرات سے دامن بچاتے ہوئے قبرستان جا کر زیارت قبور کرنا،صحت و عافیت، رحمت و بخشش اور جملہ مقاصد حسنہ کے لیے دعائوں کا اہتمام کیا جائے۔ پندرہویں شعبان کا روزہ رکھیں۔ 

جن گناہوں کی نحوست اور وبال اس مبارک رات کی رحمتوں اور برکتوں سے محروم کر دیتی ہے۔ان سے مکمل پرہیز کرتے ہوئے صدق دل سے توبہ کی جائے، شب بے داری کا تقاضا ہے کہ ان بابرکت اور قیمتی لمحات کو توبہ و مناجات، اللہ کے ذکر اور دعائوں میں بسر کیا جائے۔ نہ کہ شورو غل، پٹاخوں اور آتش بازی کا مظاہرہ کر کے عبادت میں مصروف لوگوں، معصوم بچوں، ضعیف العمر افراد اور مریضوں کو تکلیف میں مبتلا کر کے ثواب کی بجائے گناہ اور اللہ کی ناراضی مول لی جائے۔ 

پٹاخوں کا استعمال اور آتش بازی بدترین گناہ ہے اوریہ دین و دنیا کی تباہی کے مترادف ہے۔ حدیث نبویؐ کے مطابق مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ و مامون ہوں، ہر سال خبروں اور مشاہدوں میں آتا ہے کہ پٹاخوں اور آتش بازی کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور کئی اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ گناہ بے لذت اور دین و دنیا کا ابدی خسارہ ہے، جس سے اجتناب ازحد ضروری ہے۔ اس رات کا تقاضا ہے کہ اس میں اللہ سے مغفرت اور رحمت طلب کی جائے۔ پٹاخے اور آتش بازی اللہ کی رحمت سے دوری کا سبب، نیکیوں کی بربادی کا ذریعہ، بندگان خدا کے لیے ایذا رسانی کا باعث اور اللہ کی ناراضی کا سبب ہیں۔