• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دامادِ رسولؐ سیدنا حضرت عثمان غنیؓ سیرت و کردار کا بے مثال اور تاریخ سازباب

اُمّت میں آپ ’’جامعُ القرآن‘‘ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔
اُمّت میں آپ ’’جامعُ القرآن‘‘ کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔

مولانا محمد قاسم رفیع

آپؓ کا نام عثمان ، کنیت ابو عبداللہ، والد کا نام عفان اور والدہ کا نام اروی تھا، قریش کی شاخ بنو اُمیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ مجدو شرف اور عزت و وجاہت کے اعتبار سے بنو ہاشم کے بعد ان ہی کا مرتبہ تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ کا سلسلۂ نسب والد اور والدہ دونوں کی طرف سے پانچویں پُشت میں عبد مناف پر آنحضرت ﷺ کے سلسلۂ نسب سے مل جاتا ہے۔ والد کا سلسلہ نسب یہ ہے: عفّان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدشمس بن عبد مناف، اور والدہ کا سلسلۂ نسب یہ ہے:ارویٰ بنت کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبدشمس بن عبدمناف۔ حضرت عثمانؓ کی نانی امّ حکم (یا حکیم) بیضاء بنت عبدالمطلب آنحضرت ﷺکی پھوپھی تھیں۔

حضرت عثمانؓ ہجرت مدینہ سے ۴۷ برس قبل مطابق ۵۸۸ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے، آپ مکہ کے ان چند اور نمایاں لوگوں میں تھے جو نوشت و خواند (لکھنا پڑھنا) جانتے تھے۔ قریش کا عام پیشہ تجارت تھا، حضرت عثمانؓ نے بھی تجارت کو ذریعۂ معاش بنایا اور ایک شخص ربیعہ بن حارث کی شرکت میں کپڑے کا کاروبار بہت بڑے پیمانے پر شروع کردیا۔ اس میں انہوں نے وہ کامیابی اور شہرت حاصل کی کہ ان کا لقب ہی عثمان ’’ غنی ‘‘ ہوگیا۔ آپ فطرتاً بڑے حلیم، سخی اور اعلیٰ اخلاق و فضائل کے انسان تھے۔

حضرت عثمانؓ فطرتاً بڑے نیک، راست باز اور ایماندار تھے، شراب عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، اس ماحول میں دولت و ثروت کے ساتھ رہنے کے باوجودآپ ان چند اکابر قریش (مثلاً حضرت عباس، ابوبکر، عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ) میں سے تھے جو سلیم الفطرت ہونے کے باعث شراب سے نفرت کرتے تھے۔

اسی طرح گانا بجانا، لہو و لعب اور زناکاری عرب کے پسندیدہ مشاغل تھے، لیکن حضرت عثمانؓ ان سب چیزوں سے بھی طبعاً مجتنب تھے، چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا: میں نے عہد جاہلیت یا اسلام میں نہ کبھی زنا کیا ہے، نہ شراب پی ہے اور نہ گایا بجایا ہے۔

طبیعت کی اس نیکی اور حق پرستی کے باعث مکہ مکرمہ میں پہلے پہل جب اسلام کا غلغلہ بلند ہوا اور یہ صدائے روح نواز فردوس گوش ہوئی۔ آپ فوراً مشرف بہ اسلام ہوگئے، آپ کے سابقین اوّلین میں شامل ہونے پر سب متفق ہیں۔ ایک روایت میں خود فرماتے ہیں: ’’جب حضرت ابوبکرؓ کی تبلیغ پر میں نے اسلام قبول کرلینے کا ارادہ کرلیا تو اسی غرض سے ہم دونوں خدمت اقدس میں حاضر ہونے کا ارادہ کر ہی رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: عثمان! میں مخلوق کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہوں، تو خدا کی جنّت قبول کر۔ حضرت عثمانؓ کا بیان ہے: ان دو سادہ جملوں میں کس غضب کی تاثیر تھی کہ کلمۂ شہادت بے اختیار میری زبان پر جاری ہوگیا۔‘‘ (الاصابۃ لابن حجر، ج:۸، تذکرہ : سعدی بنت کریز)

کچھ دنوں کے بعد آنحضرت ﷺنے یہ شرف عطا فرمایا کہ اپنی صاحبزادی حضرت رقیہؓ جو حضرت زینبؓ اور حضرت امّ کلثومؓ کے درمیان تھیں، ان کا نکاح پہلے ابو لہب کے لڑکے عتبہ سے ہوا تھا، ابو لہب اگرچہ آنحضرت ﷺکا رشتے میں چچا تھا، لیکن اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کا سخت ترین دشمن تھا، اس لئے اس نے بیٹے پر دباؤ ڈال کر حضرت رقیہؓ کو طلاق دلوادی، اب آنحضرت ﷺنے ان کا نکاح حضرت عثمانؓ سے کردیا اور اس طرح ان کے ساتھ مصاہرت کا رشتہ بھی قائم فرمالیا۔

حضرت عثمان ؓ کا یہ نکاح دوسرا تھا، پہلے نکاح سے جو بچہ پیدا ہوا تھا ،اس کی نسبت سے حضرت عثمانؓ کی کنیت ابوعمرو تھی، لیکن حضرت رقیہؓ کے بطن سے جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبداللہ تھا، اس لئے اب حضرت عثمانؓ کی کنیت ابو عبداللہ ہوگئی۔(طبقات ابن سعد، ج:۳، ص:۳۷ )

دعوتِ اسلام تین برس تک پوشیدہ رہی، پھر قرآن کے حکم :ـ’’فَاصَدَعْ بِمَا تُؤمَرْ‘‘ (سورۃالحجر: ۹۴ ) ۔۔۔’’ جو کچھ آپ کو حکم دیا جاتا ہے، اسے برملا واشگاف کہیے۔۔۔‘‘ کے مطابق دعوت اسلام علیٰ الاعلان ہونے لگی اور لوگوں میں اس کی مقبولیت پھیلنے لگی تو آنحضرت ﷺنے مسلمانوں کو ہجرت حبشہ کا مشورہ دیا، شروع میں دس مسلمان گئے، اس کے بعد کچھ اور متفرق اوقات میں گئے، ان کی مجموعی تعداد تراسی تھی، ان ہی مہاجرین میں حضرت عثمان ؓ اور ان کی اہلیہ حضرت رقیہؓ بھی تھے۔ (سیرت ابن ہشام، ص:۲۹۴، قسم اول)

چند برس کے بعد حبشہ خبر پہنچی کہ قریش مسلمان ہوگئے ہیں تو بہت سے مہاجرین مکہ واپس آگئے، ان میں حضرت عثمانؓ بھی تھے، جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی تو بہت سے مہاجرین واپس حبشہ چلے گئے، لیکن حضرت عثمانؓ واپس نہ گئے اور اپنی اہلیہ کے ساتھ یہیں مقیم رہے۔

قریش کی روز افزوں عداوت اور ایذا رسانی کے باعث جب آنحضرت ﷺنے ہجرت کا عزم فرما لیا تو جتھہ جتھہ صحابۂ کرامؓ کو مدینہ بھیجنا شروع کردیا، چنانچہ خود آنحضرت ﷺسے پہلے جو مسلمان مدینہ پہنچ گئے تھے، ان میں حضرت عثمانؓ مع اہل و عیال بھی تھے۔

حضرت عثمانؓ تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ جان و مال سے شریک رہے، البتہ غزوئہ بدر (رمضان ۲ھ) میں اس لئے شریک نہ ہوسکے کہ آپ کی اہلیہ حضرت رقیہؓ سخت علیل تھیں۔آنحضرت ﷺنے انہیں حکم دیا کہ وہ بیوی کی دیکھ بھال اور علاج کی خاطر مدینہ میں ہی قیام کریں۔

حضرت رقیہؓ جاں بر نہ ہوسکیں اور ٹھیک اس وقت جب زید بن حارثہؓ آنحضرت ﷺکی ناقہ پر سوار مدینہ میں داخل ہوکر غزوئہ بدر میں فتح مبین کا اعلان کررہے تھے، حضرت عثمانؓ اور حضرت اسامہ بن زیدؓ قبرستان میں حضرت رقیہؓ کی تدفین میں مصروف تھے ، تاہم چونکہ غزوئہ بدر میں عدم شرکت آنحضرت ﷺکے حکم سے تھی، اس لئے آپ نے حضرت عثمانؓ کو بھی مال غنیمت میں سے ایک مجاہد کا حصہ عطا فرمایا۔ (طبقات ابن سعد، ج:۳، ص:۳۸)

حضرت عثمانؓ خود بہت دولت مند تھے، انہیں مالِ غنیمت میں سے حصہ لینے کی کیا ضرورت ہوسکتی تھی، لیکن حضور ﷺنے ان کو یہ اس لئے دلوایا کہ آئندہ کوئی شخص غزوئہ بدر میں عدم شرکت کے باعث حضرت عثمانؓ پر زبانِ طعن دراز نہ کرسکے۔

حضرت رقیہ ؓ کی ذات سے حضرت عثمانؓ کو جو شرف خاص حاصل تھا، اس سے محرومی کا انہیں سخت ملال اور رنج تھا، اس لئے آنحضرت ﷺنے حضرت رقیہؓ سے چھوٹی صاحبزادی حضرت امّ کلثومؓ کو بھی حضرت عثمانؓ کے حبالۂ عقد میں دے دیا۔ یہ وہ شرف و امتیاز خاص تھا، جس کے باعث حضرت عثمانؓ کا عام لقب ذوالنّورین ہوگیا۔

آنحضرت ﷺکو اس معاملے میں حضرت عثمانؓ کی دل جوئی اس قدر منظور تھی کہ چند برس کے بعد جب حضرت امّ کلثومؓ کا بھی انتقال ہوگیا تو ارشادِ نبوی ہوا: اگر میری کوئی (بن بیاہی) بیٹی اور ہوتی تو میں اس کا نکاح بھی عثمانؓ سے کر دیتا۔ (فتح الباری، ج:۶، ص:۳۳۶) یہ روایت طبقات میں بھی ہے۔

صلح حدیبیہ تاریخ اسلام کا ایک نہایت اہم موڑ ہے، کیونکہ اس کے بعد سے اسلام کی تبلیغ و اشاعت کی رفتار بہت تیز ہوگئی، خود کفار مکہ کو اب موقع ملاکہ وہ مدینہ طیبہ آکر مسلمانوں کی دینی، اخلاقی اور عملی زندگی کو قریب سے دیکھیں اور متأثر ہوں، یہی سبب ہے کہ قرآن میں اس صلح کو ’’فتح مبین‘‘ ’’اِنَّا فَتَحْنَالَکَ فَتْحاً مُّبِیْناً‘‘ (سورۃالفتح: ۱) فرمایا گیا ہے۔ حضرت عثمانؓ کو اس موقع پر جو شرفِ خاص حاصل ہوا وہ ان کے صحیفۂ عظمت و منقبت کا ایک نہایت روشن باب ہے، اس کی تفصیل حسب ِ ذیل ہے: آنحضرت ﷺنے ایک خواب دیکھا تھا کہ آپ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور طواف کر رہے ہیں۔

آپ نے صحابہ کرامؓ سے اس کا ذکر کیا تو چونکہ نبی کا خواب جھوٹا نہیں ہوتا، اس لئے سب میں خوش کی لہر دوڑ گئی، چنانچہ جب ماہ ذوالقعدہ ۶ ہجری میں آنحضرت ﷺعمرہ کی نیت سے مدینہ طیبہ سے نکلے تو ڈیڑھ ہزار صحابہ کرامؓ کا جم غفیر آپ کا ہمرکاب تھا۔ آنحضرت ﷺنے اپنی قربانی ساتھ لےلی تھی، تاکہ سب کو معلوم ہوجائے کہ مقصد سفر صرف عمرہ کی ادائیگی ہے، جنگ میں ملوث ہونا نہیں۔

ساتھ ہی آنحضرت ﷺنے قبیلۂ بنی خزاعہ کے ایک شخص کو جاسوس بناکر روانہ کیا کہ وہ آگے چل کر قریش کے حالات اور ان کے عزائم سے مطلع کرے، چنانچہ جب آنحضرت ﷺجاں نثاروں کے قافلہ کے ساتھ مقام عسفان (مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کی ایک درمیانی منزل کا نام ہے) کے قریب پہنچے تو جاسوس نے آکر بتایا کہ قریش نے متفرق قبیلوں کے لوگ بڑے پیمانے پر جمع کر رکھے ہیں، وہ لازمی طور پر مزاحمت کریں گے اور آنحضرت ﷺکو مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔

آپ نے سفر جاری رکھا، جب حدیبیہ آیا تو آپ نے یہاں پڑاؤ ڈالا اور قریش سے مصالحت کی گفتگو کا ارادہ فرمایا، اس مقصد کے لئے آپ نے پہلے حضرت عمرؓ کو بھیجنا چاہا تو انہوں نے کہا: یارسول اللہﷺ! اب مکہ مکرمہ میں میرے قبیلہ بنی عدی کا کوئی نہیں ہے کہ اگر وہاں ضرورت پڑے تو میری مدد کرسکے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ عثمانؓ کو بھیجیے کیونکہ مکہ مکرمہ میں ان کے قبیلہ کے لوگ موجود ہیں اور پھر وہ آپ کی صحیح ترجمانی بھی کرسکیں گے، اب آنحضرت ﷺنے حضرت عثمانؓ کو بلاکر حکم دیا کہ مکہ جاکر قریش سے صاف صاف کہہ دیں کہ ہم تو صرف عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں، جنگ ہمارا مقصد نہیں ہے۔ ساتھ ہی فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں جو مؤمن مرد اور خواتین ہیں، ان سے بھی ملنا اور انہیں بتادینا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب اپنے دین کو مکہ مکرمہ میں بھی غالب کرنے والا ہے۔وہ گھبرائیں نہیں، اطمینان رکھیں۔

حضرت عثمانؓمکہ مکرمہ آئے اور یہاں ابوسفیان اور دوسرے سردارانِ قریش سے ملاقات کرکے انہیں پیغام نبوی پہنچادیا۔ قریش کے ہاں حضرت عثمانؓ کا بڑا مرتبہ اور وقار تھا، انہوں نے پیشکش کی کہ اگر آپ طوافِ کعبہ کرنا چاہتے ہیں تو کیجیے، لیکن حضرت عثمانؓ نے انکار کر دیا ، بعد میں لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا: ’’رسول اللہ ﷺحدیبیہ میں فروکش ہوں اور میں یہاں طواف کروں، یہ کیوں کر ممکن ہے؟ اگر اس حالت میں سال بھر بھی مکہ مکرمہ میں قیام کروں، جب تک رسول اللہ ﷺطواف نہیں کرلیں گے میں طواف نہیں کروں گا۔‘‘

بہرحال !مکہ مکرمہ سے واپسی میں حضرت عثمانؓ کو تاخیر ہوئی، یہاں یہ خبر عام ہوگئی کہ وہ شہید کردیے گئے ہیں۔ آنحضرت ﷺنے انتقام کے لئے فوراً جنگ کی تیاری شروع کردی اور اس مقصد کے لئے آپ نے جنگ سے فرار نہ ہونے پر بیعت لینے کا اعلان عام فرمادیا، چونکہ یہ بیعت ایک درخت کے زیر سایہ لی گئی تھی، اس لئے قرآن کریم میں اس درخت کا خاص طور سے ذکر ہے، ارشاد ہوا:’’بے شک اللہ مؤمنوں سے اس وقت راضی ہوگیا جب کہ (اے محمد!) یہ سب آپ سے ایک درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے، اور جو کچھ اس وقت تمہارے دلوں میں تھا، اللہ تعالیٰ کو اس کا علم تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو سکونِ قلب عطا فرمایا اور ایک فتح عاجل تک تم کو پہنچایا۔‘‘ (سورۃالفتح:۱۸)

کسی کو عذر ہی کیا ہوسکتا تھا؟ سب نے بیعت کی ، حضرت عثمانؓ وہاں موجود نہیں تھے، آنحضرت ﷺنے اپنا دست مبارک دوسرے دست مبارک پر رکھا اور فرمایا: یہ ایک ہاتھ عثمان کا ہے، میں ان کی طرف سے خود بیعت لیتا ہوں۔(سیرت ابن ہشام، ج:۳، ص:۲۰۲۔ زادالمعاد، ج:۱، ص:۲۸۲۔ نیز اس کا ذکر صحیح بخاری میں بھی ہے۔)

بیعت ہوچکی تھی کہ اس کے بعد حضرت عثمانؓ پہنچ گئے اور قریش کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوگیا، جس کے نتیجے میں حدیبیہ کا صلح نامہ مرتب ہوا۔حضرت عثمانؓ کی مناسبت سے یہ دیکھنا چاہیے کہ آنحضرت ﷺنے قریش کے پاس اپنی سفارت کے لئے حضرت عثمانؓ کو منتخب فرمایا۔ یہ بذات خود حضرت عثمانؓ کی فضیلت اور ان پر مکمل اعتمادِ نبوی کی دلیل ہے۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ جب ان کے شہید ہوجانے کی خبر آنحضرت ﷺکو پہنچی تو آپ نے فوراً ان کا انتقام لینے کے لئے تیاری شروع کردی۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺنے اپنے دست ِمبارک کو حضرت عثمان ؓ کا ہاتھ قرار دیا اور اس طرح خود ان کی طرف سے اپنے سے بیعت لی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ یہ اتنا بڑا شرف اور امتیاز ہے کہ اس میں کوئی اور شخص ذوالنورین کا شریک نہیں۔

حضرت عثمانؓ کا رنگ سفید تھا، جس میں کچھ زردی کی آمیزش تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا چاندی اور سونا دونوں کو مخلوط کردیا گیا ہے۔ خوبصورت اور خوش قامت تھے ۔ دونوں ہاتھوں کی کلائیاں خوش منظر تھیں۔ بال سیدھے تھے، یعنی گھنگریالے نہیں تھے۔جب عمامہ زیبِ سر کرلیتے، بڑے حسین و جمیل نظر آتے تھے۔ ناک ابھری ہوئی، جسم کا حصہ اسفل بھاری پنڈلیوں اور دونوں بازوئوں پر بال کثرت سے۔ سینہ چوڑا چکلا۔

کاندھوں کی ہڈیاں بڑی بڑی۔ چہرے پر چیچک کے کچھ نشانات۔دانت ہموار اور خوبصورت، جن کو سونے سے باندھا گیا تھا۔ داڑھی بڑی گنجان، زلف دراز، اخیر عمر میں زرد خضاب کرنے لگے تھے۔ جسم کی کھال ملائم تھے۔ بڑے پیمانے پر تجارت کے باعث دولت مند شروع ہی سے تھے، اس لیے ’’فَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ‘‘ (الضّحیٰ:۱۱) کے حکم کے مطابق اللہ کی نعمتوں سے استفادہ آپ کی طبیعت کا شیوہ تھا، چنانچہ لباس بھی عمدہ قسم کا استعمال کرتے تھے۔

غذا بھی عمدہ قسم کی اور پُرتکلف استعمال کرتے تھے۔ عرب میں ایک خاص قسم کا سالن ہوتا تھا جسے خزیرہ کہتے تھے، اس کو بکری کی کلیجی، گردہ،دل، گھی اور دودھ سے تیار کیا جاتا تھا۔ حضرت عثمانؓ کو اس کا بہت شوق تھا۔ عمرو بن امیہ الضمری کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عثمانؓ کے ساتھ طعامِ شب میں شریک تھا، خزیرہ سامنے آیا تو حضرت عثمانؓ نے پوچھاـ:ـ کیسا ہے؟ میں نے کہا: بہت لذیذ اور نفیس ہے ! میں نے آج تک ایسا خزیرہ نہیں کھایا۔

اس پر حضرت عثمانؓ بولےـ: ’’اللہ تعالیٰ عمرؓ بن الخطاب پر رحم فرمائے، تم نے خزیرہ کبھی ان کے ساتھ بھی کھایا ہے ؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں! میں نے کھایا ہے، لیکن وہ خزیرہ ایسا تھا کہ نہ تو اس میں گوشت تھا اور نہ گھی اور دودھ۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا: تم سچ کہتے ہو ۔ عمر ؓ نے جہد و مشقت کی ایسی زندگی بسر کی ہے کہ اس کی پیروی کرنا مشکل ہے، وہ لذیذ و نفیس غذائوں سے اجتناب کرتے تھے۔

میں اللہ کی قسم! مسلمانوں کے مال سے ایک پیسہ نہیں لیتا ، جو کچھ کھاتا ہوں اپنی کمانی سے کھاتا ہوں۔ تم کو معلوم ہے کہ میں قریش میں سب سے زیادہ مالدار تھا اور میرا تجارتی کاروبار سب سے بڑا تھا۔ میں ہمیشہ نرم غذائوں کا عادی رہا ہوں، اب تو میری عمر بھی زیادہ ہوگئی ہے، اس لیے مجھ کو نرم غذائوں کی اور بھی ضرورت ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی شخص کو اس معاملے میں مجھ پر نکتہ چینی کا حق ہے۔

بایں ہمہ مزاج میں بڑی سادگی تھی، اس میں کسی قسم کے تکلف یا تصنع کو ہرگز کوئی دخل نہ تھا۔ شب میں تہجد کی نماز کے لیے اٹھتے تو وضو کا پانی خود لیتے تھے۔ کسی نے کہاـ: آپ کسی خادم سے کام کیوں نہیں لیتے؟ فرمایا: آخر رات تو آرام کرنے کے لیے ان کے واسطے بھی ہے۔ حضرت حسن بصریؒ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عثمانؓ کو دیکھا کہ مسجد میں اپنی چادر کا تکیہ بنائے سورہے تھے، اسی حالت میں دو سقّے لڑتے ہوئے آگئے توآپ نے وہیں ان کا فیصلہ کردیا۔آپؓ نہایت رقیق القلب تھے، ان کے غلام ہانی کا بیان ہے کہ حضرت عثمانؓ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ریش مبارک تر ہوجاتی تھی۔ (تذکرۃ الحفاظ للذہبی،ج:۱، ص:۱۰)

جُود و سخا آپ کی طبیعت کا جوہر خاص تھا۔ اسلام کے لیے اور فی سبیل اللہ آپ نے جس عالی حوصلگی سے خرچ کیا وہ تو آپ کی کتابِ فضائل کا ایک روشن باب ہے ، لوگوں کی مالی امداد و اعانت کرناآپ کا شیوئہ خاص تھا۔حضرت عثمانؓ آئے دن لوگوں کو کھانے پر مدعو کرتے رہتے، لیکن ان کو دارالامارت کا مکلّف کھانا کھلاتے اور خود گھر میں جاکر سرکہ یا زیتون کا تیل تناول فرمالیتے تھے۔

حضرت عثمانؓ کی ذات پیکر ِمحامد و فضائل اخلاق تھی، لیکن حیا کا وصف معاصرین و رفقا میں طرئہ امتیاز تھا۔ آنحضرت ﷺبھی اس کا بڑا لحاظ رکھتے تھے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ از راہ بے تکلفی آپ اس طرح بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کا زانو کھلا ہوا تھا، حضرت ابوبکرؓ اور پھر حضرت عمرؓ آئے مگر آپ اسی طرح بیٹھے رہے، لیکن جب حضرت عثمانؓ آئے تو آپ نے زانوئے مبارک کو ڈھانپ دیا، لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو ارشاد فرمایا: ’’کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں، جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔‘‘ (کتاب المناقب، باب فضائل عثمان بن عفانؓ) حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺنے یہ بھی فرمایا: ’’اَصْدَقُ اُمَّتِیْ حَیَاءً عُثْمَانُ‘‘ (میری امت میں حیا میں سب سے زیادہ سچا عثمان ہے)۔

حضرت عثمان فطرتاً کم سخن اور کم گو تھے، لیکن جب کسی موضوع پر اظہارِ خیال فرماتے تو گفتگو سیر حاصل اور بلیغ کرتے تھے، عبدالرحمٰن بن حاطب کا بیان ہے کہ اس وصف میں مَیں نےا ن کا کوئی ہمسر نہیں دیکھا۔

مدینہ طیبہ آنے کے بعد مہاجرین کو میٹھے پانی کی بڑی تکلیف تھی، بیر رومہ کے نام سے ایک کنواں تھا جس کا پانی شیریں تھا، لیکن قبیلہ بنو غفار کا ایک شخص اس کا مالک تھا اور وہ اس پانی کی ایک مشک ایک مُد (تقریباً دوسیراناج ) کے بدلے میں بیچتا تھا، آنحضرت ﷺکو اس کا علم ہوا تو فرمایا: دیکھیں! بیررومہ کون خریدتا اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرتا ہے،اسے جنت ملے گی۔ حضرت عثمانؓ نے پیش قدمی کی اور ۳۵ ہزار درہم میں اسے خرید کر وقف عام کردیا۔

عبادت ، قربت الٰہی اور انابت الی اللہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، اس لیے اپنے چند درچند مشاغل اور گوناگوں مصروفیتوں کے باوجود عبادت کثرت سے کرتے اور فرائض و واجبات کے علاوہ مندوبات و نوافل کا بھی اہتمام کرتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے خاندان کی ایک جاریہ رہیمہ کا بیان ہے کہ آپؓ صائم الدہر اور قائم اللیل تھے، اول شب میں سوتے تھے۔

قرآن کریم سے آپ کا بڑا شغف اور عشق تھا، بعض اوقات ایک شب میں ایک رکعت میں پورے قرآن کریم کی تلاوت کرجاتے تھے۔ نماز بے حد خشوع و خضوع سے پڑھتے تھے، اس میں اس درجہ محویت ہوتی تھی کہ گردو پیش کی کوئی خبر نہیں رہتی تھی، چنانچہ عین اس موقع پر جب کہ محاصرہ کے دنوں میں باغیوں نے قصرِ خلافت کے دروازوں کو آگ لگادی تو حضرت عثمانؓ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے سورئہ طٰہٰ پڑھنی شروع کی تھی۔

باہر شوروغل ہورہا تھا لیکن آپ سب سے بے خبر کمال طمانیت و یکسوئی کے ساتھ نماز میں مشغول رہے، پھر اسی عالم داروگیر میں نماز ختم کی تو قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف ہوگئے۔ یہاں تک کہ شہادت کا واقعہ پیش آگیا۔ (طبری، ج : ۴ ، ص: ۳۸۹ )شہادت کے بعد حضرت حسان بن ثابتؓ نے جو مرثیہ لکھا تھا اس میں ایک شعر یہ بھی تھا:

منحو ابا شمط عنوان السجود بہ

یقطّع اللّیل تسبیحاً و قرآناً

ترجمہ: ’’ظالموں نے ایک ایسے معمّر بزرگ کو ذبح کردیا جن پر سجدہ کا نشان تھا، اور جو پوری شب تسبیح اور قرآن خوانی میں کاٹ دیتا تھا۔‘‘

شمعِ رسالت کے پروانے سب ہی تھے اور حضرت عثمانؓ کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ شرفِ دامادی رکھتے اور خود محبوبِ حبیب خدا تھے۔