ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی
’’قربانی‘‘ پر اعتراض کرتے ہوئے بعض حضرات کی طرف سے قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روح کے بر خلاف کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کے تاریخی واقعے کی یاد میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور نبی اکرمﷺ کی اتباع میں کی جانے والی قربانی کے بجائے غرباء ومساکین کو نقد رقم دے دی جائے۔
یہ گویا قربانی سے بہترہے، اس طرح کی باتیں عموماً اُن حضرات کی طرف سے سامنے آتی ہیں جو قرآن وحدیث کی واضح تعلیمات کے مقابلے میں دنیاوی اور وقتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس موقع پر چند باتیں عرض ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان بموجب حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے واقعے کے بعد سے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے جانوروں کی قربانی کرنا خاص عبادت میں شمار ہوگیا۔
چنانچہ حضور اکرم ﷺ کی امت کے لئے بھی ہر سال قربانی نہ صرف مشروع کی گئی، بلکہ اسے اسلامی شعار بنایا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اتباع میں حضور اکرمﷺ کے طریقے پر جانوروں کی قربانی کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا،(ان شاء اللہ)۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قربانی کرنے کا حکم دیا ہے اور حکم عمومی طور پر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ۔ (ترجمہ) نماز پڑھئے اپنے رب کے لئے اور قربانی کیجئے۔(سورۃ الکوثر ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قربانی کاحکم دیا ہے، عربی زبان میں امر کا صیغہ عموماً وجوب کے لئے ہوا کرتا ہے۔ وَانْحَرْ کے متعدد مفہوم مراد لئے گئے ہیں ،مگر سب سے زیادہ راجح قول قربانی کرنے کا ہی ہے۔
اردو زبان میں تحریر کردہ تراجم وتفاسیر میں قربانی ہی معنی تحریر کئے گئے ہیں۔ جس طرح فَصَلِّ لِرَبِّکَ سے نماز عید کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے ،اسی طرح وَانْحَرْ سے قربانی کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔ (اعلاء السنن) نیز نبی اکرمﷺ سے حالات تنگ ہونے کے باوجود قربانی کے حکم کے بعد سے کسی ایک سال بھی قربانی نہ کرنا ثابت نہیں ہے۔ قربانی کی استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرنے والوں کو حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ وہ عید گاہ کے قریب بھی نہ آئیں۔
اس نوعیت کی وعید واجب کے چھوڑنے پر ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر ایک گھر میں ایک سے زیادہ صاحب استطاعت ہیں تو ہر صاحب استطاعت کو قربانی کرنی چاہئے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو ،پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو (ایسا شخص) ہماری عیدگاہ میں حاضر نہ ہو۔ (مسند احمد وابن ماجہ)
نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے نماز عید سے قبل قربانی کرلی تو اسے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنی ہوگی۔ قربانی نماز عید الاضحی کے بعد بسم اللہ پڑھ کر کرنی چاہئے۔ (بخاری ومسلم) نبی ا کرم ﷺ نے عرفات کے میدان میں کھڑے ہوکر فرمایا: اے لوگو! ہر سال ہر گھر والے پر قربانی کرنا ضروری ہے۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی)
قرآن وحدیث کی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ قربانی کے دنوں میں بڑھ چڑھ کر قربانی میں حصہ لیا جائے کیونکہ تمام مکاتب فکر کے فقہاء وعلمائے کرام قرآن وسنت کی روشنی میں قربانی کے اسلامی شعار ہونے اور ہر سال قربانی کا خاص اہتمام کرنے پر متفق ہیں اور قربانی کے ایام میں کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں ہے، جیسا کہ پوری کائنات میں سب سے افضل حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی 10 تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں، سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرف قبولیت حاصل کرلیتا ہے، لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی)
حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرامؓ نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے؟) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت (اور طریقہ) ہے۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: ہمارے لیے قربانی میں کیا اجر ہے؟
حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں (بھی) نیکی ملے گی۔ (سنن ابن ماجہ)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کئے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔(سنن دار قطنی باب الذبائح، سنن کبریٰ للبیہقی ج9 ص 261)
نیز حضور اکرم ﷺ بذات خود نماز عید الاضحی سے فراغت کے بعد قربانی فرماتے تھے، نبی اکرمﷺ کی قربانی کرنے کا ذکر حدیث کی ہر مشہور ومعروف کتاب میں ہے۔ آپﷺ نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ اپنے گھر والوں اور امت مسلمہ کی طرف سے بھی قربانی کیا کرتے تھے۔ باوجود یہ کہ آپ کے گھر میں کبھی کبھی پکانے کی اشیاء موجود نہ ہونے کی وجہ سےبسا اوقات دو دو مہینے تک چولھا نہیں جلتا تھا۔ آپ ﷺ نے کبھی ایک دن میں دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔
آپ ﷺ نے بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر بھی باندھے۔ حضور اکرم ﷺ پوری زندگی میں ایک بار بھی صاحب استطاعت نہیں بنے، یعنی پوری زندگی میں آپ ﷺ پر ایک مرتبہ بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہوئی، لیکن اس کے باوجود حضور اکرم ﷺ ہر سال قربانی کیا کرتے تھے، نیز آپ ﷺنے حجۃ الوداع کے موقع پر انہی قربانی کے ایام میں ایک دو نہیں، دس بیس نہیں سو اونٹوں کی قربانی کی۔ غرضیکہ قربانی کے دنوں میں خون بہانا یعنی قربانی کےجانوروں کو ذبح کرنا ایک اہم عبادت ہے۔
جانوروں کی قربانی سے اللہ کا تقرب حاصل ہونا صرف مذہب اسلام میں نہیں، بلکہ دنیا کے دیگر مذاہب میں بھی ہے اور حضور اکرم ﷺ سے قبل دیگر انبیائے کرامؑ کی تعلیمات میں بھی قربانی کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عظیم واقعہ مشہور ہے۔ جب قربانی سے اللہ کا تقرب حاصل ہوتا ہے تو عید الاضحی کے موقع پر قربانی میں حصہ نہ لینے کی دوسروں کو ترغیب دینا کیسے درست ہوسکتا ہے۔
حضور اکرم ﷺ کے زمانے میں عمومی طور پر صحابہ کرامؓ کے معاشی حالات بہتر نہیں تھے، کتابوں میں درج سیکڑوں واقعات اس کے شاہد ہیں۔ نیز صحابۂ کرامؓ کو اپنے مال کا اچھا خاصا حصہ جہاد وغیرہ میں بھی لگانا ہوتا تھا،اس کے باوجود حضور اکرمﷺ صحابہ کرام ؓکو قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تعلیم دیتے تھے، حالانکہ آپ ﷺ اپنی امت پر شفقت کا معاملہ کیا کرتے تھے۔
شریعت اسلامیہ میں غریبوں کی مدد کی بار بار تاکید کی گئی ہے، بلکہ اسلام ہی ایسا مذہب ہے جس نے یتیموں، بیواؤں، محتاجوں اور مسکینوں کا سب سے زیادہ خیال رکھا ہے۔ اسی لئے ہمیں یقیناً غریبوں کی مدد کرنے میں سبقت کرنی چاہئے۔
شریعت اسلامیہ کی تعلیمات کے مطابق جہاں مالدار لوگ اپنے مال کی مکمل زکوٰۃ ادا کریں، وہیں ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کمزور لوگوں کی مدد کرے، مگر قرآن وحدیث سے ثابت شدہ واضح حکم میں اپنی خواہش کی اتباع کے بجائے شریعت اسلامیہ کے حکم کو بجالانا ہی ضروری ہے۔