• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر نعمان نعیم

’’حسنین کریمینؓ ‘‘ سرورِ کونین، امام الانبیاء، سیدِ عرب و عجم، حضرت محمدﷺ کے چہیتے نواسے، خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃالزہراءؓ اورشیرِ خدا سیدنا علی المرتضیٰؓ کے فرزند ہیں۔

سرکارِ دوجہاں ﷺ حسنین کریمینؓ کو بہت زیادہ محبوب رکھتے تھے۔ آپﷺ نے ان دونوں حضرات سے عقیدت و محبت کو دین کی بنیاد اور اپنی اطاعت و محبت کی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان دونوں حضرات کی سیرت وکردار، فضائل و مناقب کا ایک روشن اور تاریخ ساز باب ہے۔

ذیل میں اس حوالے سے نگاہِ سرور کونین ﷺ میں ان کے مقام اور فضائل و مناقب کے حوالے سے ارشاداتِ نبویؐ پیش خدمت ہیں۔ جن سےحسنین کریمینؓ کی عظمت و مقام کا پتا چلتا ہے۔ حدیث شریف میں ہے، سرور کائنات ﷺ نے فرمایا : حضرت ہارونؑ نے اپنے بیٹوں کا نام شّبروشبّیر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کانام ان ہی کے نام پر حسن اور حُسین رکھا۔ اسی لیے حسنین کریمین ؓ کو شبّر و شبّیرکے نام سے بھی یا د کیا جاتا ہے، سریانی زبان میں شبّروشبّیر اور عربی زبان میں حسن وحسین دونوں کے معنیٰ ایک ہیں۔

حدیث میں ہے کہ حسنؓ اور حُسینؓ جنتی ناموں میں سے دو نام ہیں۔ رسول اللہﷺ نے حضرات حسنین کریمینؓ کے بارے میں گواہی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’حسنؓ اور حسینؓ جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔‘‘(ابن ماجہ) آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’حسنؓ اور حسینؓ دنیا کے میرے دو پھول ہیں۔‘‘(مشکوٰۃ)

حضرت علی ؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب حضرت حسنؓ اور حسینؓ پیدا ہوئے تونبی اکرم ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا: مجھے ان کے نام تبد یل کر نے کا حکم د یا گیا ہے، میں نے عر ض کیا اللہ اور اس کا رسولﷺ بہتر جانتے ہیں، پس آپ ﷺنے ان کے نام حسنؓ و حسینؓ رکھے۔ (مسند ا حمد بن حنبل)

حضرت اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں، میں ایک رات کسی ضرورت سے آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دروازے پر دستک دی، آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو میں نے دیکھا کہ کوئی بچہ آپﷺ کی گود مبارک میں ہے، مگر مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ کون ہے؟ جب میں اپنے آنے کی غرض بیان کر کے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یارسول اللہﷺ ، آپ ﷺکی گود میں کیا ہے؟

آپ ﷺ نے چادر ہٹائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک طرف سیدنا حسنؓ اور دوسرے پہلو میں سیدنا حسینؓ ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دونوں میرے اور بیٹی فاطمہ ؓ کے لختِ جگر ہیں۔ ’’اے اللہ! مجھے ان سے محبت ہے تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان سے محبت کرے تو اس سے بھی محبت فرما۔‘‘(ترمذی)

حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے ’’وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے دریافت کیا گیا کہ یارسول اللہﷺ! آپ کو آپ کے گھرانے کے افراد میں کون زیادہ محبوب ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حسنؓ و حسینؓ ! چناں چہ آپ ﷺ حضرت فاطمہؓ سے فرماتے کہ میرے بیٹوں کو میرے پاس بھیج دو۔

وہ آتے تو آپ ﷺ انہیں سینے سے لگاتے اور خوب پیار کرتے۔‘‘ (ترمذی) حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، حسنؓ و حسین ؓ بھی ساتھ تھے۔ ایک دائیں کندھے پر اور دوسرے بائیں کندھے پر سوار تھے۔ آپ ﷺ کبھی اِن کا بوسہ لیتے اور کبھی اُن کا۔ دونوں سے خوب پیار کرتے۔ (مسند احمد) حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ (بسا اوقات) سجدہ فرماتے، اتنے میں حسنؓ و حسینؓ آکر آپ ﷺ کی پیٹھ مبارک پر سوار ہوجاتے تو آپ ﷺ سجدہ لمبا فرما دیتے۔

چناں چہ آپ ﷺ سے عرض کیا جاتا کہ آپﷺ نے سجدہ طویل فرمادیا؟ تو آپ ﷺ فرماتے ’’میرے لختِ جگر میری پیٹھ پر سوار تھے، اس لیے جلدی کرنا مجھے اچھا نہ لگا۔‘‘ (مسندِ ابویعلیٰ) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں ہوتے، جب آپ ﷺ سجدہ فرماتے تو سیدنا حسنؓ و حسین ؓ آپ ﷺ کی پیٹھ مبارک پر جابیٹھتے، صحابۂ کرامؓ انہیں روکنا چاہتے تو آپ ﷺ اشارے سے منع فرما دیتے کہ انہیں مت روکو! آپ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو انہیں اپنی گود میں بٹھا لیتے اور فرماتے کہ: ’’جو مجھ سے محبت رکھتا ہے، وہ ان سے بھی محبت رکھے۔‘‘ (طبرانی)

حضرت انسؓ فرماتے ہیں، آپﷺ سجدہ فرماتے، اتنے میں حسنؓ و حسین ؓ آکر آپﷺ کی پیٹھ مبارک پر سوار ہوجاتے جس کی وجہ سے آپ ﷺ سجدہ طویل فرما دیتے۔ جب آپ ﷺ سے پوچھا جاتا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! آپ نے سجدہ بہت طویل فرمایا (کیا بات تھی؟) تو آپ ﷺ فرماتے میرے بیٹے میری پشت پر سوار تھے۔ اس لیے جلدی کرنا اچھا نہ لگا۔ (مسند ابویعلیٰ) عبدالرحمن بن ابی نعیم فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : حسنؓ و حسینؓ میری دنیا کی بہار ہیں۔ (صحیح بخاری)

حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ’’جس نے حسن ؓو حسین ؓ سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض رکھا۔‘‘ (ابنِ ماجہ) عبدالرحمن بن ابی نعیمؓ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’حسنؓ و حسینؓ میری دنیا کی بہار ہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)

آپﷺ نے فرمایا :حسنؓ میری سیادت و ہیبت اور حسینؓ میری جرأت و سخاوت کا وارث ہوگا۔ (طبرانی) ان تمام روایات اور فرامین نبویؐ سے حضرات حسنین کریمینؓ کے مقام و مرتبے کا پتا چلتا اور ان کے فضائل و مناقب کا اظہار ہوتا ہے۔بلاشبہ، حسنین کریمینؓ کی حیات و خدمات اسلامی تاریخ کا روشن اور تاریخ ساز باب ہے۔

اسپیشل ایڈیشن سے مزید