واقعۂ کربلا کو گزرے ہوئے 1400 سال ہوچکے ہیں، پوری اُمّت مسلمہ آج بھی نواسۂ رسولؐ کے ساتھ پیش آنے والے المناک سانحے پر افسردہ ہے۔ امام عالیٰ مقامؓ دین ِاسلام کی بقاء کی خاطر دشتِ کربلا میں بے مثال قربانی دے کر سرخرو ہوئے، اپنے پیاروں کو بھوک و پیاس سے بلکتے دیکھا، مگر آپ کے پائے استقلال میں ذرا سی بھی لغزش نہیں آئی۔
سیّد الشہداؓ کی شہادت عظمیٰ عالم اسلام کا سب سے زیادہ کرب ناک سانحہ ہے۔ دشتِ کربلا میں آپ کی عدیم المثال قربانی نے شہادت کے و ہ پھول کھلائے، جس کی مہک سے چمن اسلام تاقیامت معطر رہے گا۔ آپ کے خاندان اور آپ کے رفقاء نے انسانیت کے فروغ اور حق و انصاف کی سربلندی کے لیے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تاریخ بنی نوع انسان میں ا یک روشن باب رقم کیا ہے۔
واقعۂ کربلا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ابھی سانحۂ کربلا رونما نہیں ہوا تھا، ام المومینن اّمّ مسلمہؓ سے منقول ہے، نبی اکرمﷺ نے کربلا میں پیش آنے والے مصائب کا ذکر مجھ سے کیا اور کہا کہ ایک دن میرا یہ فرزند کربلا میں بھوکا و پیاسا شہید ہوگا، اس کے بعد آپ نے مجھے ایک شیشی دی، جس میں خاک تھی اور کہا کہ جس روز یہ خاک سرخ ہوجائے، سمجھ لینا کہ میرا حسین شہید کردیا گیا، کیونکہ دس محرم 61 ہجری کو آپ حیات تھیں اور مدینہ میں موجود تھیں، آپ نے دیکھا کہ 10 محرم 61 ہجری کو یہ خاک سرخ ہوگئی، آپ اس خاک کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگئیں اور سمجھ گئیں کہ آج حسینؓ شہید ہوگئے ہیں۔
یزید جب تخت خلافت پر متمکن ہوا تو سب سے پہلے اس نے امام عالیٰ مقامؓ سے بیعت کا مطالبہ کیا، تو آپ نے روضۂ رسولؐ پر حاضری دی اور کہا کہ ’’بارالہا، یہ تیرے نبی محمدﷺ کی قبر ہے اور میں تیرے نبی کا نواسہ ہوں اور جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا ہے تو اس سے آگاہ ہے، میں نیکی اور بھلائی سے پیار کرتا ہوں اور برائی سے نفرت۔ اے ربِ ذوالجلال، اس قبر اور صاحبِ قبر کے واسطے تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے لیے وہ راہ پسند فرما، جس میں تیری اور تیرے رسولؐ کی خوشنودی ہو۔‘‘
2 محرم الحرام کو آپ کا قافلہ کربلا پہنچا، آپ نے حکم دیا کہ یہیں پر خیمے نصب کردیے جائیں، یہی ہماری قتل گاہ ہے، ابن زیاد کا حکم آیا کہ حسینؓ کے خیموں کو دریا کے کنارے سے ہٹا دیا جائے، اس پر حسینی فوج کے علمدار حضرت عباسؓ جلال میں آگئے اور کہا کہ کس کی مجال ہے کہ ہمارے خیموں کو یہاں سے ہٹائے، یہ خبر جب امام عالی مقامؓ تک پہنچی تو آپ نے دریائے فرات سے تین میل کے فاصلے پر خیموں کو نصب کرنے کا حکم دیا، آپ کا یہ طرز عمل بتاتا ہے کہ آپ کا مقصد جنگ و جدل کرنا نہیں تھا، بلکہ اپنے نانا کے دین کی حفاظت کرنا تھا اور جو مذہب امن و امان اور صلح و آتشی کا درس دیتا ہے، اس کے روح رواں ہم ہیں۔
7 محرم الحرام کو امام حسینؓ اور ان کے جاں نثاروں پر پانی بند کردیا جاتا ہے۔خیمہ آل محمد میں چھوٹے بچوں کی العطش العطش کی صدائے بلند ہوتی ہیں، حضرت عباس علمدار ؓپانی مانگنے کی اجازت مانگتے ہیں، آپ اجازت دیتے ہیں، لیکن ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ عباس جنگ میں پہل مت کرنا، عباس نہر فرات پر پہنچتے ہیں، فوجیں دور دور بھاگ جاتی ہیں، آپ مشکیزہ بھرتے ہیں، بھاگی ہوئی فوجیں مل کر حملہ کرتی ہیں اور آپ کو شہید کردیتے ہیں۔
10 محرم کی صبح نمودوار ہوتی ہے، فوج اشقیا سے امام حسینؓ مخاطب ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ’’اے لوگو! میرے شجرۂ نسب اور خاندان کو د یکھو، پھر پلٹ کر سوچو اپنے آپ کو ملامت کرو اور غور کرو کہ کیا تمہارا مجھے قتل کرنا اور میری حرمت کو پامال کرنا جائز ہے؟ کیا میں تمہارے نبیؐ کی بیٹی کا بیٹا نہیں ہوں؟ کیا حضرت حمزہ ؓمیرے چچا نہیں؟ جعفر طیار میرے چچا نہیں؟ کیا تم نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں نبی اکرمﷺ کا وہ قول نہیں سنا جس میں آپﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ دونوں جنّت کے جوانوں کے سردار ہیں۔
مگر صدافسوس کہ دشمن کا اس تقریر پر کوئی اثر نہیں ہوا اور حکم آتا ہے کہ حسینؓ پر حملہ کردو، جب یزید کی سپاہ نے آپ پر حملہ کیا تو آپ جلال میں آگئے اور تلوار نیام سے نکال کر دشمن پر ٹوٹ پڑتے، آپ نہایت بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے، آپ کی شہادت کے بعد دشمن نے آپ کے خیموں کو آگ لگادی اور باپردہ بیبیوں کو اسیر کردیا گیا۔
بلاشبہ، نواسۂ رسول، شہیدِ کربلا حضرت امام حسینؓ کی ذاتِ گرامی خاندان رسالت اور اسلامی تاریخ کا گراں قدر اور تاریخ ساز باب ہے، آپ نے کربلا میں اپنی جان نثار کرکے اسلام کی عزت و عظمت کو سربلند فرمایا۔