• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسد عمر پی ٹی آئی میں برقرار، عہدے سے مستعفی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل اسد عمر پارٹی میں برقرار ہیں لیکن پارٹی عہدے سے مستعفی ہوگئے اور کور کمیٹی کی رکنیت بھی چھوڑ دی۔ 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے دن جو واقعات ہوئے، اس کی تفصیل میں جانا چاہتا ہوں کہ آخر یہ کیوں ملک کےلیے خطرناک تھے؟

ان کا کہنا تھا کہ جانیں گئیں، لوگ زخمی ہوئے اور املاک کا بھی نقصان ہوا۔ لیکن خطرناک بات یہ تھی کہ فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان بہت مرتبہ کہہ چکے ہیں اگر پاکستان کی طاقتور فوج نہ ہوتی تو پاکستان کا حال بھی ان ممالک جیسا ہوتا جہاں حالات خراب ہوئے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان خود کہہ چکے تھے کہ ملک کو عمران خان سے زیادہ فوج کی ضرورت ہے۔ 

اسد عمر کا کہنا تھا کہ جو لوگ 9 مئی کے واقعات میں ملوث لوگوں پر سخت ایکشن ہونا چاہیے، لیکن بےگناہوں کو جلد سے جلد چھوڑنا بہت ضروری ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ میرے لیے ذاتی طور پر یہ واقعات اس لیے زیادہ تشویشناک تھے کہ میری تین نسلوں کا فوج سے تعلق ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے خرابی ہے۔


انہوں نے کہا کہ عدلیہ میں تقسیم ہے، عدلیہ فیصلے کرتی ہے لیکن عملدرآمد نہیں ہوگا۔ کتنی خطرناک صورتحال ہے کہ اس کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتے۔ 

انہوں نے کہا کہ ملک کے دوسرے اسٹیک ہولڈر فوج جبکہ تیسرے اسٹیک ہولڈر پاکستان تحریک انصاف ہے جو اس ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں چوتھا اسٹیک ہولڈر پی ڈی ایم ہیں، لیکن ان کی سیاست کا بیڑہ غرق ہوگیا۔ 

اسد عمر نے کہا کہ اس ملک کا پانچواں اور سب سے اہم اسٹیک ہولڈر عوام ہیں جن کی زندگی مشکل میں ہے اور ہر پاکستانی تکلیف میں ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ 1971 میں بنگلادیش بننے کے بعد بھی وہ صورتحال نہیں تھی جو اس وقت موجود ہیں۔ اس وقت کوئی اچھی صورتحال میں نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی لیڈرشپ کی ذمہ داری ہے کہ ملک و قوم کو اس بحران سے نکالیں۔ 

اسد عمر کا کہنا تھا کہ ان سب میں اچھی چیز یہ ہے کہ چیف جسٹس بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ بات چیت کرکے راستہ نکالیں، اس میں تحریک انصاف کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس میں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔  

اسد عمر نے کہا کہ میرے لیے اب ذاتی طور پر ممکن نہیں ہے کہ میں قیادت کی ذمہ داریاں نبھاسکوں، اس لیے میں پارٹی سیکریٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو رہا ہوں اور کور کمیٹی کی رکنیت بھی چھوڑ رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنان پاکستان کا بہت بڑا اثاثہ ہیں، مطالبہ ہے کہ بہت سارے بے گناہ اسیر ہیں فوری رہا کیا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میں گھر میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہا تھا کہ لوگ پی ٹی وی میں گھس گئے۔ پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے صرف پارٹی عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، مجھ پر کوئی دباؤ نہیں۔ اپنی مرضی سے عہدہ چھوڑا ہے۔

قومی خبریں سے مزید