’’عیدالاضحی‘‘ اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت اور جلیل القدر پیغمبر، حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ اور اُن کے اطاعت گزار فرزند، سیّدنا اسمٰعیلؑ کے مثالی جذبۂ اطاعت، تسلیم و رضا، عزیمت و استقامت، جاں نثاری و فدا کاری کی علامت، اُس عظیم اور تاریخ ساز قربانی کی یادگار ہے، جو اُنہوں نے پیش کی۔ یہ وہ قربانی ہے، جس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کی تائید و تصدیق خود اللہ عزّوجل نے اپنے ارشاد ’’وَفَدَینَاہُ بِذِبحٍ عظیم‘‘ یعنی’’ اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو اُن کا فدیہ بنا دیا‘‘ کے ذریعے فرمائی۔
دراصل اس عظیم قربانی نے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ کے بے مثال جذبۂ اطاعت، جُرأت و استقامت اور عظمت و جلالت پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔توریت اور قرآنِ کریم، دونوں سے یہ ثابت ہے کہ ملّتِ ابراہیمیؑ کی حقیقی بنیاد قربانی تھی، یہی قربانی حضرت ابراہیمؑ کی پیغمبرانہ اور رُوحانی زندگی کی خصوصیت تھی، اِسی امتحان اور آزمائش میں پورا اُترنے کے سبب وہ اور اُن کی اولاد ہر قسم کی نعمتوں اور برکتوں سے مالا مال کی گئی۔ توریت کی کتاب پیدائش (22، 16تا 18) میں ہے،’’خداوند فرماتا ہے، اِس لیے کہ تُو نے ایسا کام کیا اور اپنا بیٹا، ہاں، اپنا اکلوتا بیٹا دریغ نہ رکھا، مَیں نے قسم کھائی کہ میں برکت دیتے ہی تجھے برکت دوں گا۔‘‘جب کہ حضرت ابراہیمؑ کی پوری زندگی اللہ کی راہ میں ہجرت، دین پر استقامت اور عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔
اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیمؑ کا جذبۂ ایمانی اِس قدر پسند آیا کہ اسے ایمان کا حقیقی معیار قرار دیا اور پھر یہی جذبہ ہر دَور کا ایمانی معیار اور ہر عہد کی کسوٹی ٹھہرا۔دین کی دعوت، عقیدۂ توحید کی عظمت اور بُت شکنی کی پاداش میں آپؑ کو بادشاہِ وقت، نمرود نے آگ میں ڈال دیا، لیکن آپؑ پوری استقامت کے ساتھ عظمتِدین اور عقیدۂ توحید کی سربلندی کے لیے ڈٹے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان جاری ہُوا’’ہم نے حکم دیا کہ اے آگ! سرد ہوجا اور ابراہیمؑ پر(مُوجب) سلامتی بن جا۔‘‘(سُورۃ الانبیاء، 69)۔ شاعرِ مشرق، علّامہ اقبال نے اِس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہُوئے کیا خُوب کہا ہے؎ ’’آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا…آگ کرسکتی ہے اندازِگلستاں پیدا۔‘‘
قرآنِ پاک میں ایک موقعے پر فرمایا گیا۔ترجمہ:’’اور جب ابراہیمؑ کے پروردگار نے چند باتوں میں اُن کی آزمائش کی، تو پھر اُنہوں نے اسے پورا کیا، تو اللہ نے اُن سے کہا کہ میں تمہیں لوگوں کے لیے پیشوا بنانے والا ہوں۔‘‘(سُورۃ البقرہ، 124) مزید ارشاد فرمایا ’’اور ہم نے ابراہیمؑ کو دنیا میں چُنا اور وہ آخرت میں یقیناً نیکوں میں سے ہیں، جب اُن کے پروردگار نے اُن سے کہا کہ اپنے آپ کو سپرد کردو، تو اُنہوں نے کہا، مَیں نے اپنے آپ کو دنیا کے پروردگار کے سپرد کردیا۔‘‘نیز، ’’سُورۃ النحل‘‘ میں فرمایا گیا’’بے شک، ابراہیمؑ لوگوں کے امام (اور) اللہ کے فرماں بردار تھے، جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے، اُس کی نعمتوں کے شُکر گزار تھے، اللہ نے اُنہیں برگزیدہ کیا تھا اور اپنی سیدھی راہ پر چلایا تھا اور ہم نے اُنہیں دنیا میں بھی خُوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے۔‘‘(آیت120-122)
یہ ایک تاریخی اور ابدی حقیقت ہے کہ مقرّبین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ وہ نہیں ہوتا، جو عام انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔اُنہیں امتحان اور آزمائش کی سخت منازل سے گُزرنا پڑتا اور قدم قدم پر جاں نثاری اور تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ بھی چوں کہ اللہ کے جلیل القدر پیغمبر اور نبی تھے، اِس لیے اُنہیں بھی مختلف امتحانات اور آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا اور وہ اپنی جلالتِ قدر کے لحاظ سے ہر مرتبہ امتحان اور آزمائش میں کامل و مکمّل ثابت ہُوئے۔ جب اُنہیں نمرود کے حکم سے آگ میں ڈالا گیا، تو اُس وقت اُنھوں نے جس صبر و رضا کا ثبوت دیا اور جو عزم و استقامت پیش کی، وہ اُن ہی کا مقام تھا۔
اس کے بعد جب حضرت اسمٰعیلؑ اور حضرت ہاجرہؑ کو فاران کے بیابان میں چھوڑنے کا حکم ملا، تو وہ بھی معمولی امتحان نہ تھا، آزمائش اور سخت آزمائش کا مرحلہ تھا، بُڑھاپے اور پیرانہ سالی کی دُعائوں اور تمنّائوں کے مرکز، راتوں اور دنوں کی دُعائوں کے ثمر، قلب و نظر کے چشم و چَراغ، حضرت اسمٰعیلؑ کو آپؑ صرف حکمِ الٰہی کی تعمیل میں ایک بے آب و گیاہ مقام پر چھوڑ آتے ہیں اور پیچھے مُڑ کر بھی نہیں دیکھتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شفقتِ پدری جوش میں آجائے اور حکمِ ربّانی کی تعمیل میں لغزش ہوجائے۔یہ دونوں کٹھن منزلیں عبور کرنے کے بعد اب تیسری آزمائش اور سب سے کٹھن امتحان کی تیاری ہے، جو پہلے دونوں امتحانوں سے زیادہ سخت اور جاں گسل ہے۔
حضرت ابراہیمؑ مسلسل تین رات یہی خواب دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اے ابراہیمؑ ، تُو ہماری راہ میں اپنے اکلوتے بیٹے کو قربان کردے۔‘‘حضرت ابراہیمؑ، اللہ کے جلیل القدر پیغمبر اور تسلیم و رضا کے پیکر تھے، لہٰذا وہ اطاعت و رضا کا پیکر بن کر تیار ہوگئے کہ اللہ کے حکم کی فوری تعمیل کریں، تاہم چوں کہ یہ معاملہ اُن کی اپنی ذات سے وابستہ نہ تھا، بلکہ اس امتحان اور آزمائش کا دوسرا جُزو، وہ بیٹا تھا، جس کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لہٰذا باپ نے اطاعت شعار اور فرماں بردار بیٹے کو اپنا خواب اور اللہ کا حکم سُنایا، حضرت اسمٰعیلؑ اولوالعزم، ثابت قدم، عزیمت و استقامت، تسلیم و رضا اور اطاعتِ ربّانی کے پیکر، عظیم المرتبت اور جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیمؑ کے فرزند تھے، لہٰذا اُنہوں نے فوراً سرِ تسلیم خم کر دیا اور کہا کہ اگر اللہ کی یہی مرضی ہے، تو آپ اِن شاء اللہ مجھے صبرکرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘ (مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی، قصص القرآن، جِلد اوّل 164)
قرآنِ کریم میں اِس واقعے کا ذکر اِس طرح آیا ہے’’جب وہ (اسمٰعیلؑ) اُن کے ساتھ دوڑنے (جوانی کی عُمر) کو پہنچے، تو ابراہیمؑ نے کہا کہ’’ بیٹا، مَیں خواب میں دیکھتا ہُوں کہ(گویا) تمہیں ذبح کررہا ہوں، تم بتائو کہ تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘، اُنہوں نے(اسمٰعیلؑ) کہا کہ’’ ابّا جان، آپؑ کو جو حکم ہُوا ہے، وہی کیجیے، اللہ نے چاہا، تو آپؑ مجھے صابروں میں پائیں گے۔‘‘ جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بَل لِٹا دیا، تو ہم نے اُنہیں پکارا کہ’’ اے ابراہیمؑ! تم نے اپنا خواب سچ کر دِکھایا، ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں‘‘، بِلاشبہ، یہ صریح آزمائش تھی اور ہم نے ایک بڑی قربانی کو ان کا فدیہ بنا دیا اور بعد میں آنے والوں میں ابراہیمؑ کا ذکرِ خیر (باقی) چھوڑ دیا کہ ابراہیمؑ پر سلام ہو، ہم نیکو کاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘ (سُورۃ الصّافات، 102 تا 110)
علّامہ سیّد سلیمان ندوی کیا خُوب لکھتے ہیں’’یہ قربانی کیا تھی؟ یہ محض خون اور گوشت کی قربانی نہ تھی، بلکہ رُوح اور دل کی قربانی تھی۔یہ ماسویٰ اللہ اور غیر کی محبّت کی قربانی، خدا کی راہ میں تھی، یہ اپنی عزیز ترین متاع کو اللہ کے سامنے پیش کردینے کی نذر تھی، یہ اللہ کی اطاعت، عبودیت اور کامل بندگی کا بے مثال منظر تھا، یہ تسلیم و رضا اور صبر و شُکر کا وہ امتحان تھا، جسے پورا کیے بغیر دنیا کی پیشوائی اور آخرت کی نیکی نہیں مل سکتی، باپ کا اپنے اکلوتے بیٹے کے خون سے زمین کو رنگین کر دینا، مقصد نہ تھا، بلکہ خدا کے سامنے اپنے تمام جذبات، خواہشوں، تمنّاؤں اور آرزوؤں کی قربانی تھی۔اللہ کے حکم کے سامنے اپنے ہر ارادے اور مرضی کو معدوم کردینا تھا، جانور کی ظاہری قربانی اُس اندرونی نقش کا ظاہری عکس اور اس خورشیدِ حقیقت کا ظلِّ مجاز تھا۔‘‘(سیرت النبیؐ 201/5)
حقیقت بھی یہی ہے کہ ’’قربانی‘‘ دراصل وہ ذبحِ عظیم ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیلؑ کا فِدیہ قرار دیا‘ لہٰذا اللہ کی راہ میں جانور قربان کرنا درحقیقت اپنے آپ کو قربان کرنے کا قائم مقام ہے۔ یہ اِس بات کا خاموش اقرار ہے کہ ہماری جان اللہ کی راہ کی نذر ہوچکی ہے اور وہ جب اسے طلب کرے گا، ہم بِلاتامّل پیش کردیں گے۔نیز، اسلام کے لفظی معنی بھی اپنے آپ کو سپرد کر دینے اور اطاعت و بندگی کے لیے گردن جُھکا دینے کے ہیں اور یہی وہ حقیقت ہے، جس کا اظہار حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ کی اس عظیم قربانی سے ہوتا ہے۔
ویسے انسانی تاریخ کے آغاز ہی سے قربانی کا ثبوت ملتا ہے، جیسا کہ انسانِ اوّل، حضرت آدمؑ کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی کا ذکر قرآنِ پاک میں کچھ اِس طرح ہے’’اور سُنا دیجیے اُنہیں حال آدمؑ کے دو بیٹوں کا سچّا، جب کہ اُن دونوں نے قربانی پیش کی، تو اُن دونوں میں سے ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی، تو اُس (قابیل) نے کہا، مَیں تجھے ضرور قتل کردوں گا۔ اس (ہابیل) نے کہا کہ بے شک، اللہ تو پرہیزگاروں ہی سے قبول فرماتا ہے۔‘‘(سُورۃ المائدہ/ 27)پھر الہامی اور غیر الہامی، کم و بیش تمام مذاہب اور معاشروں میں’’قربانی‘‘ کا تصوّر ملتا ہے، تاہم یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی قربانی پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد اور بلند مقام رکھتی ہے کہ تاریخ کے اوراق اس عظیم قربانی کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں۔قرآنِ کریم نے’’وَفَدَینَاہُ بِذِبحٍ عظیم‘‘،’’ ہم نے اسمٰعیلؑ کا فدیہ ایک عظیم قربانی بنادیا۔‘‘ ارشاد فرما کر اس قربانی کی عظمت و قبولیت کا اعلان کیا ہے۔ اسے عبادت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
اسی لیے خاتم الانبیاء، سرورِ کائنات، حضرت محمّد ﷺ کی اُمّت میں بھی اس عظیم جذبے اور حضرت ابراہیمؑ کی سنّت کو عبادت کا درجہ عطا کیا گیا۔ صحابیِ رسولؐ، حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے بعض صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا’’ یا رسول اللہﷺ! ان قربانیوں کی حقیقت اور تاریخ کیا ہے؟‘‘ آپﷺ نے فرمایا’’ یہ تمہارے(رُوحانی اور نسلی) مورث حضرت ابراہیمؑ کی سُنّت ہے۔‘‘ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا’’ یا رسول اللہﷺ! ان قربانیوں میں ہمارے لیے کیا اجر ہے؟‘‘ رسول اکرمﷺ نے فرمایا’’ قربانی کے ہر جانور کے بال کے عوض ایک نیکی ہے۔‘‘(مسندِ احمد‘ سنن ابنِ ماجہ)
اُمّ المومنین، حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا’’ذی الحجّہ کی دسویں تاریخ کو(یعنی عیدالاضحیٰ کے دن) فرزندِ آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں کے ساتھ زندہ ہو کر آئے گا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔ پس، اے خدا کے بندو! دل کی پوری رضا اور خوشی سے قربانی کیا کرو۔‘‘ (جامع ترمذی، سنن ابنِ ماجہ)
’’قربانی‘‘درحقیقت ایک عظیم عبادت ہے۔ اسلام کے نظامِ عبادات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے اِس نظام کا اصل مقصد، اسلام کے مطلوب انسان تیار کرنا ہے اور یہ قربانی، انسان کو اُس ذمّے داری کے لیے تیار کرتی ہے، جو اللہ اور اُس کے رسولﷺ نے ہمارے سُپرد کی ہے۔ یہ سیرت و کردار کی تعمیر کرتی اور روحانی ترقّی، اخلاقی بالیدگی کی راہ ہم وار کرتی ہے، چناں چہ عبادت کا اصل مقصد یہ ہے کہ نفس کا تزکیہ ہو، تقویٰ کی رُوح پیدا ہو، اللہ سے تعلق استوار ہو اور اللہ کی اطاعت، اُس کی محبّت، اُس کی بندگی ہر شئے پر غالب آجائے۔یاد رہے، نفس کی اصلاح کے بغیر کوئی اصلاح ممکن نہیں اور نفس کی اصلاح کا حقیقی اور مؤثر ترین طریقہ وہ عبادات ہیں، جو اللہ اور اُس کے رسولﷺ نے مقرّر کی ہیں۔
نیز، قربانی اِس عہد کی تجدید بھی ہے کہ ہمارا جینا، مرنا اور پوری زندگی اللہ کے لیے ہے۔ ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی بندگی ہے اور اس بندگی کے اظہار میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنا ہی ہماری زندگی اور بندگی کا شیوہ ہے۔ ہم مسلمان اِس لیے ہیں کہ ہماری پوری زندگی تسلیم و رضا سے عبارت ہے اور اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی کامل اطاعت، تسلیم و رضا کا اظہار ہی درحقیقت ایمان کا تقاضا اور بندگی کی حقیقی علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ ربّانی ہے’’اللہ تک نہ اِن(قربانی کے جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اُس تک تمہارا تقویٰ اور پرہیزگاری پہنچتی ہے۔‘‘ (سُورۃ الحج، 37)۔
بے شک، تسلیم و رضا‘ اعترافِ بندگی اور تقویٰ و پرہیزگاری ہی قربانی کا اصل مقصد و مفہوم، حقیقی رُوح ہے۔ تقویٰ ہی وہ عظیم رُوحانی جذبہ ہے، جو بندگی کا حاصل اور تمام اسلامی عبادات کا جُزو ہے۔ سو، آج ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم قربانی کی حقیقی رُوح کو سمجھتے ہوئے سنّتِ ابراہیمیؑ کی پیروی میں اپنے اندر یہ جذبہ پیدا کریں کہ دین کی عظمت و سربلندی، اسلام کی ترویج و اشاعت، اُمّتِ مسلمہ کے اتحاد و یگانگت، مُلک کی سلامتی اور اسلامی اقدار کے تحفّظ کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ دین کی عظمت و سَربلندی کے لیے اپنا تَن، مَن، دَھن سب قربان کردیں گے اور درحقیقت یہی عید الاضحیٰ کا اصل پیغام اور سُنّتِ ابراہیمیؑ قربانی کا تقاضا ہے۔