• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بہت سے لوگوں کے نزدیک اس وقت پاکستان کے حالات اس قدر خراب اور مایوس کُن ہیں کہ بہتری کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے ، ہماری معیشت ہی تباہ حال نہیں ، سماجی قدریں بھی دم توڑ رہی ہیں۔ ہمارے قریباً تمام قومی ادارے اس وقت توڑ پھوڑ کا شکار ہیں۔ جوڈیشری کے حوالے سے چرچل کا کہا یہاں بالالتزام پیش کیاجاتا ہے مگر فی الواقع ہماری قومی بربادی میں ہماری جوڈیشری کا کردار شاید ہر ادارے پر بازی لے گیا۔ آج اگر یہ گراوٹ عالمی سطح پر ایک سوپچاسویں درجے میں شمار کی جاتی ہے تو اگلے سروے یا جائزے میں یہ غالباً آخری حدود کو پار کر جائے گی، ہماری قومی بدنصیبی ہے کہ یہاں انصاف کے نام پر کچھ اس طرح پارٹی بازی کی گئی کہ سخت ترین الفاظ کا چناؤ بھی ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں فوت شدہ ججزکے آمریت نوازی پر مبنی فیصلوں کا رونا رویا جاتا ہے جبکہ آج ہماری سپریم جوڈیشری میںبراجمان کئی منصفوں نے اس ملک و قوم کی چولیں ہلا کررکھ دی ہیں۔ کوئی بھی جمہوری الذہن لبرل انسان جو سویلین بالادستی پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے ملٹری کورٹس کی حمایت بلاشبہ ایک مشکل امر ہے مگر اس کڑواہٹ کو پی جانے پر مجبور کس نے کیا ہے؟ خود ہماری اسی سویلین سپریم جوڈیشری نے جہاں انصاف ہر روز چیختا چلاتادکھائی دیتاہے۔ گیا گزرا شخص بھی جب کرسی انصاف پر متمکن ہوتا ہے تو اپنی منصفی کا کچھ نہ کچھ بھرم رکھنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ یہاں اس کےبالکل برعکس تاریخ رقم کی جارہی ہے، جس آئین کی یہ تخلیق ہے اس کی مقدس و محترم ماں یعنی پارلیمنٹ کی یہاں ہر روز تذلیل کی جاتی ہے چند پبلک سرونٹ پبلک کے نمائندوں کی تحقیر پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کے ذاتی مفادات عوامی امنگوں کے ترجمان ادارے پر بھاری ہیں۔ یہ پارلیمنٹ کے وضع کردہ قوانین کو کبھی معطل کرتے ہیں اور کبھی بائی پاس۔ ایسے میں اگر پارلیمنٹ اس نوع کی قرار داد منظور کرتی ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہونے والوں یا اس کے ماسٹر مائنڈ کے کیسز فوجی عدالتوں میں چلنے چاہئیں تو یہ فیصلہ قابلِ فہم ہونا چاہئے۔ حالانکہ ان سزاؤں کا ہوناکچھ بھی نہیں کیونکہ بالآخران مقدمات نے اپیلوں کی صورت میں آنا انہی سویلین عدالتوں میں ہے۔ آج ہم اپنی سپریم جوڈیشری پر جتنی بھی تنقید کرلیں لیکن اس کوتاہی سے بری الذمہ ہماری منتخب قومی قیادت بھی نہیں ۔ جب پی پی اور ن لیگ کی حکومتیں تھیں ،جب ٹوتھرڈ میجارٹی کے ساتھ وہ اٹھارویں یا انیسویں ترامیم منظور کررہے تھےتو ان لوگوں نے سپریم جوڈیشری کی تشکیل میں ایسا میکنزم یا سسٹم کیوں نہ بنایا جس سے بے لگامی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی اور یہ ادارہ منتخب پارلیمنٹ اور اس کی بالادستی کو آنکھیں دکھانے کے قابل نہ ہوتا۔ اس میں قصوروار خود تین مرتبہ منتخب ہونے والے میاں نوازشریف بھی ہیں، جو ثاقب نثار جیسےلوگوں کو اوپر لاتے رہے۔ حد ہے اس موجودہ عبوری دور میں بھی دو جونیئر افراد کو یہاں لابٹھانے میں پوری معاونت کی گئی۔ آخر ا سکے خلاف اسٹینڈ کیوں نہ لیا گیا اور پھر ابھی تک بقیہ دو ججزمیرٹ پر یا اپنی ترجیح پر آپ یہاں کیوں نہ لاسکے ؟آئینی ترامیم کرتے ہوئے ان لوگوں نے اس حوالے سے غوروفکر کیوں نہ کیا کہ کل کو اگر کوئی چیف جج اپنے مفادات کے زیرِاثر من مانی پر تل گیا تو وہ خود کو پارلیمان سے بھی اوپر خیال کرنے لگے، گویا وہ دوسری خلائی مخلوق ہے تو آئین میں اسے قابو کرنے کا کیا اہتمام ہے؟ سپریم جوڈیشری کی تعیناتیاں پارلیمنٹ کے کنٹرول میں کیوں نہ دی گئیں؟ انتظامیہ عدلیہ کی علیحدگی یا آزادی کا تصور اپنی جگہ لیکن پارلیمانی ضوابط کو چیلنج کردینے کی آزادی کے تو ہرگز کوئی معنی نہیں بنتے۔ اس طرح تو قومی یکجہتی کسی بھی لمحے پارہ پارہ ہوسکتی ہے، جواس وقت ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ کہ پارلیمنٹ کے بالمقابل کھڑے ہوجانے کی صورت میں بھی آخر کیوں پارلیمنٹ ان سب کی باگیں نہ کھینچ سکی یا اپنی بالادستی نہ منواسکی۔ ن لیگ پر اس وقت سب سے بڑھ کر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے الیکشن سے قبل ہی یہ اصول یا فیصلہ منوالےکہ جیت کر آنے کے بعد اولین قدم یہ اُٹھایا جائے گا کہ پارلیمنٹ جوڈیشری کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت و طاقت دکھائے گی اور اس حوالے سے آئینی ترمیم سامنے لاتے ہوئے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی جائے گی۔ آج خود سپریم جوڈیشری کے اندر سے اس نوع کی آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ چیف ججز کے زیرِ اثرا س انصافی ادارے میں بڑی بڑی بے انصافیاں اور زیادتیاں کیوں روا رکھی گئی ہیں؟پوچھا جارہا ہے کہ پاناماکیس میں تو کوئی ساڑھے تین سو نام تھے کیا یہ کھلی بے انصافی نہیں کہ محض نوازشریف کو طاقتوروں کی ساز باز سے نکالنے کیلئےصرف انہی کے خلاف کاروائی کی گئی اور دیگر تمام کو چھوڑ دیا یا نظرانداز کردیا گیا حالانکہ ذاتی طور پر نوازشریف کا تو اس میں نام بھی نہیں تھا اور پھر جب غیرقانونی جے آئی ٹی بنانے جیسی تمام تر کارروائیوں کے باوجود پاناما سے نوازشریف کے خلاف کچھ نہ ملا توانہیں اقامہ میں دھر لیا گیا، جس کا قطعی کوئی جواز نہیں تھا۔ جنرل فیض نے جسٹس شوکت صدیقی کو جس طرح واضح لفظوں میں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے کیلئے کہا اور ان کے اس استدلال پر کہ میں میرٹ پر فیصلہ کروں گا۔ جنرل فیض کے یہ الفاظ ریکارڈ پر ہیں کہ ’’اس طرح تو ہماری دو برسوں کی محنت ضائع ہوجائے گی‘‘۔ یوں میرٹ پر انصاف کی بات کرنے والے جج کو نوکری سے ہی نکال باہر کیا گیا، یہاں اکثر جسٹس منیر کی جان کو رویا جاتا ہے جبکہ یہی ذہنیت آج بھی یہاں دندنا رہی ہے۔ پاکستان کو اگر اس نوع کے خلفشار یا عدم استحکام سے نکالنا ہے تو اعلیٰ و سپریم جوڈیشری کی تطہیر لازم ہے۔

تازہ ترین