کلفٹن اربن فاریسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) نے الزام عائد کیا ہے کہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) نے سندھ حکومت کے منصوبے کلفٹن اربن فاریسٹ کی زمین پر لگے 60 ہزار مینگروز تباہ کر دیے۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کے ڈی اے نے الزام مسترد کرتے ہوئے مؤقف دیا کہ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے اربن فاریسٹ کی زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا انہوں نے اس الزام کو پیپلز مرین بیچ واک منصوبے کی تعمیر روکنے کی کوشش قرار دے دیا۔
کلفٹن اربن فاریسٹ کے سی ای او مسعود لوہار کے مطابق کلفٹن اربن فاریسٹ کی زمین پر مینگروز کے 60 ہزار درخت کے ڈی اے نے کاٹ ڈالے۔
سربراہ اربن فاریسٹ کا بتانا ہے کہ سندھ حکومت نے کلفٹن اربن فاریسٹ کا منصوبہ 3 سال قبل شروع کیا تھا اور 150 ایکڑ پر پھیلے کلفٹن اربن فاریسٹ میں7 لاکھ درخت لگائے گئے تھے جس میں اربن فاریسٹ میں 83 مختلف اقسام کے درخت اور پودے ہیں، جبکہ سمندری طوفان سے بچاؤ کیلئے 6 لاکھ مینگروز لگائے گئے تھے اور 120 مختلف اقسام کے پرندے اربن فاریسٹ میں موجود ہیں۔
مسعود لوہار کے بیان پر کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد علی شاہ نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ کے ڈی اے نے اربن فاریسٹ کی زمین کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا، تاہم پیپلز مرین بیچ واک کا منصوبہ تعمیر کیا جارہا ہے اور منصوبے کیلئے زمین پر کام جاری تھا جسے رکوانے کی کوشش کی گئی، بیچ واک منصوبے کے تحت ڈیڑھ کلو میٹر ٹریک دعا چورنگی سے ہائپر اسٹار تک ہے۔
ذرائع کے ڈی اے کا مزید کہنا ہے کہ واٹر پارک، ہوٹل اور دیگر بین الاقوامی طرز پر مرین بیچ واک منصوبہ کا حصہ ہوگا اور منصوبے کا سنگ بنیاد وزیر بلدیات ناصر شاہ نے رواں سال مئی میں رکھا تھا۔