صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستانی جانوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اس حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
اپنے بیان میں صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان نے طویل عرصہ تحمل دکھایا اور کارروائیاں محدود علاقوں تک رکھیں، تشدد کے منصوبہ ساز کہیں بھی ہوں، دسترس سے باہر نہیں رہیں گے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن، استحکام اور تعاون پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، امن صرف تب ممکن ہے جب دہشت گردی کے خلاف عملی اور سنجیدہ اقدامات ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی کےلیے برداشت اپنی حد کو پہنچ چکی ہے، پاکستان دفاع کے فطری حق کے تحت اقدامات کر رہا ہے۔
اپنے بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ بین الاقوامی انتباہات کے باوجود دہشت گرد گروہوں کو مسلسل جگہ ملتی رہی، افسوس کہ افغان حکام نے انتباہات کے باوجود کوئی قابلِ اعتبار اقدام نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حالات پچھلے دور سے بھی زیادہ تشویشناک اور غیریقینی ہوچکے ہیں۔ افغانستان میں طالبان رجیم نے نائن الیون سے پہلے جیسی یا اس سے بھی بدترصورتحال پیدا کردی ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ نے متعدد گروہوں کی افغانستان میں سرگرم موجودگی کی تصدیق کی، رپورٹ کے مطابق داعش خراسان اور ٹی ٹی پی سمیت کئی تنظیمیں افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دوحہ معاہدے کے وعدوں کے برعکس دہشت گرد عناصر کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ داعش خراسان، ٹی ٹی پی، القاعدہ، ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں۔ جماعت انصاراللّٰہ، اتحاد المجاہدین پاکستان اور دیگر گروہ افغانستان میں موجود ہیں۔