مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کی جو خود مختار ریاستيں برصغیر میں قائم ہوئیں، اُن میں سب سے بڑی اور طاقت ور ریاست، حیدر آباد دکن کی ’’مملکتِ آصفیہ‘‘ تھی۔ اس مملکت کے بانی، نظام الملک آصف جاہ تھے، چناں چہ اسی نسبت سے اسے مملکتِ آصفیہ یا آصف جاہی مملکت کہا جاتا ہے۔آصف جاہی ایک مسلم خاندان تھا، جس نے ریاست حیدرآباد پر حکومت کی۔اس سے قبل اکثر بزرگان ِدین اور اولیائے کرامؒ ، اسلام کی اشاعت کی غرض سے دکن کا رُخ کرتے رہے۔
جب کہ علاؤالدین خلجی نے اسلامی سلطنت کے قیام کی فضا ہم وار کی اور دوسرے علاؤ الدین (حسن کانگولے بہمنی)نے آزاد اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالنے کے بعد پایۂ تخت گلبرگہ کو قرار دے کر اس سلطنت کا نام ’’حسن آباد‘‘ رکھا، جس کے بعد گلبرگہ دکن میں مسلم اقتدار کا آغاز ہوا۔ بہمنی سلطنت 1374ء سے1529ء تک قائم رہی۔سلطنت بہمنی کے خاتمے کے بعد دکن میں عماد شاہی، برید شاہی، نظام شاہی، عادل شاہی اور قطب شاہی کی خودمختار ریاستیں قائم ہوئیں۔
پھر1591ء میں جب محمد قلی قطب شاہ نے اپنے پایۂ تخت کو گولکنڈہ کے باہرتک وسعت دی، تو اس وقت گولکنڈہ ایک قلعہ بند شہر تھا۔ بہرحال، 1687ء میں مغلیہ سلطنت نے حیدرآباددکن کو سلطنتِ مغلیہ کا حصّہ بنایااور 1724ء میں آصف جاہ اوّل نے مغل سلطنت سے بغاوت کرکے اور مملکتِ آصفیہ کی بنیاد رکھی۔ مملکتِ آصفیہ کو نظام حیدرآباد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1769ء تا 1948ء حیدرآباد ،مملکتِ آصفیہ کے ماتحت رہا۔ برطانوی دَور حکومت سے آزادئ ہند 1947ء تک یہ ریاست برطانوی ریزیڈنسی، حیدرآباد کہلاتی تھی۔پھر 1948ء میں بھارت نے حیدرآباد کو بھارت میں شامل کیا اور 1956ء میں صوبہ تشکیل ِنو ایکٹ 1956ء کے تحت یہ ایک نئے صوبے آندھرا پردیش کا دارالحکومت بنا۔
ریاستِ حیدرآباد دکن کا جغرافیائی نقشہ ہر دَور میں بدلتا رہا۔ 17ستمبر، 1948ء کو جب بھارتی فوج نے نظام کی حکومت کا خاتمہ کیا، اُس وقت اس کا رقبہ برطانیہ اور اسکاٹ لینڈ کے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ تھا، جب کہ موجودہ شہر تقریباً دو ہزار مربع میل پر مشتمل ہے، جس کے باقی حصّے ریاستِ آندھرا پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر میں شامل ہیں۔ 1923ء میں خلافتِ عثمانیہ کے خاتمے کے بعد خوش حالی، شان و شوکت کے اعتبار سے ریاست حیدرآباد کو بین الاقومی سطح پر خاص مقام حاصل تھا۔ اس حوالے سے بہت سے برطانوی مصنّفین کی تصانیف میں بھی اس کا ذکرموجود ہے۔
ہندوستان کے وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن اپنی سوانح حیات میں اس شہر کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب انگلستان معاشی طور پر دیوالیہ ہوچکا تھا، ایسے وقت میں نواب میر عثمان علی خان کے گراں قدر عطیات نے بڑی حد تک انگلستان کی معیشت کو سہارا دیا۔‘‘1911ءسے 1948ء (بھارت کے حیدر آباد پر قبضے) یعنی37سال تک حیدر آباد دکن پر حکومت کرنے والے میر عثمان علی خان کوئی عام نواب یا بادشاہ نہیں، بلکہ اپنے دَور میں دنیا کے امیر ترین شخص اور رعایا پرور حکم ران تھے۔
میر عثمان علی خان جدید حیدرآباد کے اوّلین معمار مانے جاتے ہیں، کیوں کہ اُن کے دَور میں تعمیر کردہ سرکاری یا عوامی استعمال کی عمارتوں کو آج بھی نمایاں اور کلیدی حیثیت حاصل ہے، چاہے وہ ہائی کورٹ ، اسمبلی کمپلیکس ، عثمانیہ اسپتال ہو یا آصفیہ لائبریری اور آرٹس کالج عثمانیہ یونی ورسٹی۔ نظام حیدرآباد اپنے رفاہی کاموں کی وجہ سے نہ صرف اپنی مملکت، بلکہ دنیا بھرمیں مشہور تھے۔ نیز، اسلام کی ترویج و اشاعت، خصوصاً مکّہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے کئی معاملات میں بھی ریاست کی گراں قدر خدمات قابلِ تحسین ہیں۔
جیسا کہ نظام دکن کے دَور میں سعودی عرب کی بھرپورمالی مدد کی جاتی تھی۔ 20ویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں جب سعودی عرب کے معاشی حالات بہت خراب تھے، اُس وقت حیدرآباددکن نہ صرف سعودی عرب کی مالی مدد کرتا تھا، بلکہ یہاں سے اناج بھی جاتا تھا۔ مکّہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے پانی اور بجلی کے خرچ بھی ریاست حیدرآباد نے اپنے ذمّے لے رکھے تھے۔ میر عثمان علی خان اور اُن کے خاندان نے عازمینِ حج کے لیے مکّہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں رباطیں تعمیر کروائیں، جب کہ حیدر آباد دکن میں ایک عظیم الشان عمارت ’’مدینہ بلڈنگ‘‘ حاجیوں کو سہولتیں بہم پہنچانے اور ان کی خدمت کے لیے تعمیر کی گئی۔
ریاست حیدر آباد دکن، ہمیشہ سےامن و آشتی کی علَم بردار، ہندو مسلم یک جہتی کی مثال اور علم و ادب نوازی کی ایک ایسی مثال رہی، جسے دنیابھر کے علماء، دانش وَروں، مفکرین و مورخین نے اپنی خدمات سے مزید چار چاند لگائے۔ کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں اس شہر کا نام ’’باغ نگر“ (باغوں کا شہر) ہوا کرتا تھا، جسے بعد میں حیدرآباد کردیا گیا۔ 19ویں صدی تک حیدرآباد دنیا بھر میں اپنے ہیروں کی وجہ سے مشہور تھا اور اسے ’’سٹی آف پرلز“ (موتیوں کا شہر) بھی کہا جاتا تھا۔
قدیم و جدید عمارات کی حامل یہ ریاست دیگر کئی حوالوں سے بھی منفرد اہمیت کی حامل ہے۔ یہاں کی ’’ہائی ٹیک سٹی‘‘ نے بہت ترقی کی ہے، جہاں 13سو کے قریب آئی ٹی کمپنیز میں تین لاکھ سے زائد ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جب کہ دنیا کا سب سے بڑا شوٹنگ اسٹوڈیو ’’راموجی فلم سٹی‘‘ بھی اسی شہر میں واقع ہے۔ معیشت کے حوالے آج یہ شہر بھارت کے پانچویں بڑے شہر کی حیثیت رکھتا ہے، جب کہ ماضی کے حوالے سے بھی جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک تہذیب یافتہ مملکت تھی، جہاں شائستگی، نفاست اور قابلِ رشک اسلامی اقدار و روایات کی پاس داری کی جاتی تھی۔ یہاں کا رہن، سہن اور لباس انتہائی شائستہ تھا۔ شیروانی، پاجاما اور ترکی ٹوپی گویا قومی لباس تھا۔ گفتگو میں تہذیب و شائستگی کا خاص خیال رکھا جاتا اور فرقہ واریت کی لعنت سے بھی یک سرپاک تھا۔
ریاست حیدرآباد کا ایک بڑا علمی کارنامہ ’’جامعہ عثمانیہ‘‘ کا قیام ہے۔ جس کا آغاز 1856ء میں دارالعلوم کی حیثیت سے ہوااور 1918ء میں اسے جدید طرز کی جامعہ کی حیثیت دی گئی۔ جامعہ عثمانیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ برصغیر کی پہلی جامعہ تھی، جس نے اردو کو ذریعۂ تعلیم بنایا۔ نظام کی اردو دوستی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست میں نہ صرف اردو زبان کو سرکاری زبان کی حیثیت حاصل تھی بلکہ کرنسی پر تحریریں بھی اردو زبان ہی میں ہوتیں۔ اس وقت کے حیدرآباد میں تمام لوگ اردو بولتے اور سمجھتے بھی تھے۔
تاہم، دوسری مقامی زبانوں جیسی مراٹھی، تلگو اور کنڑ کی ترقی کے لیے بھی ہر ممکن مدد فراہم کی جاتی۔ مسلمانوں کے لیے اسلامی تعلیم اور ہندوئوں کے لیے اخلاقی تعلیم لازمی تھی۔ جامعہ عثمانیہ کے تحت ایک شعبہ ’’تالیف و ترجمہ‘‘ قائم کیا گیا تھا، جس کے تحت عربی، فارسی، انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کی سیکڑوں کتابوں کااردو میں ترجمہ کیاگیا اور اس طرح نہ صرف جامعہ کی درسی ضروریات کو پورا کیا گیا، بلکہ اردو کے علمی ذخیرے میں قیمتی اضافہ بھی ہوا۔
شعبۂ تالیف و ترجمہ نے جن علمی اور فنی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کیا، اُن کی تعداد لگ بھگ 5لاکھ ہے۔حیدرآباد کا کتب خانۂ آصفیہ برّصغیر کے بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے، خاص طور پر عربی اور فارسی کتابوں کے قلمی نسخوں کے لحاظ سے یہ اب بھی برّصغیر کا سب سے بڑا کتب خانہ ہے، جہاں پچاس ہزار سے زائد قلمی نسخے موجود ہیں۔ مخطوطات کی اتنی بڑی تعداد استنبول کے ’’کُتب خانۂ سلیمانیہ‘‘ کے علاوہ شاید دنیا کے کسی اور کُتب خانے میں موجود نہیں۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کے نصف اوّل میں برّصغیر میں اسلامی علوم اور ادب کا سب سے بڑا مرکز حیدرآباد دکن ہی تھا۔
سقوطِ حیدر آباد دکن
برطانوی تسلّط سے آزادی اورتقسیمِ ہند کے بعد اگست1947ء میں ریاست حیدرآباد کو بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق یا آزاد رہنے کا اختیار دیا گیا، لیکن پھر آگے چل کر اسی خود مختاری کو چیلنج کرتے ہوئے انڈین یونین کے سربراہوں نے ستمبر 1948ءکو ’’آپریشن پولو‘‘ کے تحت بھارت کی برّی و فضائی فوج کے ذریعے چاروں طرف سے ریاست پر حملہ کردیا اور یوں ایک خودمختار مملکت کا خاتمہ کرکے اُسے بھارت میں ضم کرنے کے لیے ریاستی دہشت گردی کی فضا ہم وار کی گئی اور بالآخر اسے زبردستی بھارت میں شامل کرلیاگیا۔ جب کہ اس آپریشن دوران لاکھوں مسلمانوں کا قتلِ عام، ہزاروں خواتین کی عصمت دری اورسیکڑوں عبادت گاہوں کی بےحرمتی بھی کی گئی۔ یعنی فوجی ایکشن کے نام پر لاکھوں انسانوں کو تہہ تیغ کردیا گیا۔