• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سائنسدانوں نے بحرہند میں گریوٹی ہول کی وجہ دریافت کرلی

کراچی(نیوز ڈیسک)بحر ہند میں ایک گریویٹی ہول(کشش ثقل کا سوراخ) موجود ہے - ایک ایسا مقام جہاں زمین کی کشش ثقل کمزور ہے، اس کی کمیت معمول سے کم ہے، اور سطح سمندر 328 فٹ (100 میٹر) سے کم ہے۔اس عدم یکسانی نے ماہرین ارضیات کو ایک طویل عرصے تک حیران کر رکھا ہے، تاہم اب بھارت میں بنگلور کےانڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے محققین نےدریافت کیا ہے کہ سیارے کے اندر گہرائی سے آنے والے میگما کے پلمز، جو کہ آتش فشاں کی تخلیق کا باعث بنتے ہیں اس کی تشکیل کے لیے ایک قابل اعتبار وضاحت ہے۔اس مفروضے تک پہنچنے کے لیے، ٹیم نے 140 ملین سال پیچھے جاکر اس علاقے کی تشکیل کی نقل کے لیے سپر کمپیوٹرز کا استعمال کیا۔ حال ہی میں جرنل جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اس دریافت کی تفصیلات موجود ہیں، مرکز جس کے گرد قدیم سمندر موجود تھا، اب موجود نہیں ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ زمین مکمل طور پر گول ہے تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے سینٹر فار ارتھ سائنسز میں جیو فزیکسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر، مطالعہ کی شریک مصنفہ اٹری گھوش نے کہا کہ زمین کی شکل بنیادی طور پر ایک گانٹھ والے آلو کی طرح ہے۔لہٰذا تکنیکی طور پر یہ کوئی کرہ نہیں ہے، بلکہ ہم اسے بیضوی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ جیسے جیسے سیارہ گھومتا ہے درمیانی حصہ باہر کی طرف بڑھ جاتا ہے۔اٹری گھوش نے مزید کہا کہ ہمارا سیارہ اپنی کثافت اور اس کی خصوصیات میں یکساں نہیں ہے، کچھ علاقے دوسروں سے زیادہ کثیف ہیں -

دنیا بھر سے سے مزید