حیات رضوی امروہوی بھی راہیِ ملکِ عدم ہوئے۔ اللہ، اُن کی مغفرت فرمائے۔ (آمین)! ایسے جہاں دیدہ لوگ روز، روز پیدا نہیں ہوتے۔ اگر انہیں مجموعۂ صفات کہا جائے، تو غلط نہ ہوگاکہ اُن کی زندگی جہد ِ مسلسل سے عبارت تھی، آخری وقت تک مصروفِ کار رہے۔ وہ محض ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایک ایسی تحریک تھے، جس میں وہ تمام زندگی، خود بھی متحرک رہے اور دوسروں کو بھی متحرک رکھا۔ اُن کی شخصیت کے کئی حوالے ہیں، تاہم بنیادی حوالہ شاعری ہے۔
اُن کا خمیر، خاک ِ امروہہ سے اٹھا، اس لیے اُن کی شاعری میں تہذیبی رکھ رکھائو اور ہمہ جہتی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ اُن کی ساٹھ سالہ شاعری کا ماحصل صرف ایک شعری مجموعہ ہے، جو ’’زاویۂ حیات‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ وہ صاحب ِ حیثیت تھے، اگر چاہتے تو شعری مجموعوں کا ڈھیر لگادیتے، لیکن انہوں نے خود کو زمانے کی برق رفتاری سے ہمیشہ دُور رکھا، نئے دَور میں رہتے ہوئے بھی ادب کی کلاسیکی روایت سے جڑے رہے۔ وہ بلاشبہ ’’داغ اسکول‘‘ کے آخری شاعر تھے اور داغ دہلوی کے نقش ِ قدم پر چلنا ،کوئی معمولی بات نہیں۔
حیات رضوی امروہوی زبان و بیان کے معاملے میں تو بہت محتاط تھے ہی، ایک ’’عمارت کار‘‘ کی حیثیت سے بھی انہوں نے عالمی شہرت حاصل کی اور ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے، جو تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ محفوظ رہیں گے، جب کہ ایک ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے تو اُن کی خدمات کو نظر انداز کیا ہی نہیں جاسکتا۔ وہ صاحب ِ طرز ادیب ہی نہیں، تاریخ داں بھی تھے، جب کہ مذاہبِ عالم کا مطالعہ بھی اُن کے دائرۂ فکر و شعور کا ایک اہم شعبہ رہا۔ ششماہی ’’عمارت کار‘‘ کی طباعت و اشاعت اُن کا ایک اہم کام ہے۔ انہوں نے اسے بھرپور معلوماتی و معیاری رسالہ بنانے کے لیے اپنا دل نکال کر رکھ دیاتھا۔ اُس دور میں آرٹ پیپر پر چار رنگوں کی طباعت کوئی آسان بات نہیں تھی۔ پھر عمارت کاری کو ادب سے جس طرح ہم آہنگ کیا، وہ اُن ہی کا خاصّہ تھا۔ ہر مضمون پُرتاثیر اور ہر صفحہ جاذب ِ نظر۔
اتنا خُوب صُورت اور معیاری جریدہ، صرف اپنی مدد آپ کے تحت نکالا، جس کا ہر اِک مضمون، ایک دستاویز کا درجہ رکھتا ہے۔ یوں کہیے، اس حوالے سے انہوں نے غیر شعوری طور پر ایک تاریخ مرتّب کردی ہے۔ پاکستان کے بیش تر اخبارات و جرائد نے ’’عمارت کار‘‘ سے مسلسل استفادہ کیا۔ روزنامہ ’’جنگ‘‘ کراچی نے اُن کے مضامین تواتر کے ساتھ شایع کیے۔ حیات رضوی امروہوی نے اپنی وفات سے پندرہ روز قبل ایک شعری نشست کا اہتمام کیا اور اُس موقعے پر انہوں نے بتایا کہ ’’عمارت کار‘‘ کے 27شمارے منظرعام پر آچکے، 28واں پریس میں ہے، جو اِن شاء اللہ تعالیٰ، جولائی کے پہلے ہفتے میں منظرِ عام پر آجائے گا، اور یہ اس کا آخری شمارہ ہوگا۔‘‘
تاہم، پرچہ بازار میں آنے سے قبل ہی وہ داغ ِ مفارقت دے گئے۔ حیات رضوی امروہوی ’’سادات ِ رضویہ چشتیہ ٹرسٹ‘‘ کراچی کے ترجمان ’’دُرِ مقصود‘‘ کے 50برس، مدیر رہے۔ اُن کی خدمات کے اعتراف میں7مارچ2020 ء کو آرٹس کائونسل آف پاکستان میں ’’جشنِ حیات رضوی ‘‘ کا اہتمام کیا گیا، جس میں پروفیسر سحر انصاری، پروفیسر منظر ایوبی، پروفیسر عقیل دانش، مسلم شمیم ایڈووکیٹ، سرور جاوید، ڈاکٹر جاوید منظر، سلمان صدیقی، سیّد معراج جامی، حامد اسلام خان، یاسین حیدر رضوی، نجیب عُمر اور سیّد محسن رضوی جیسے اکابرین ِ علم و ادب نے اُن کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں پر سیر حاصل گفتگو کی اور اُنھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
حیات رضوی کے مجموعۂ کلام’’زاویۂ حیات‘‘ نے ادبی حلقوں سے خاصی پذیرائی حاصل کی۔ اس ضمن میں پروفیسر سحر انصاری کی رائے ہے کہ ’’حیات رضوی امروہوی دورِ حاضر کے اُن شاعروں میں ہیں، جو روایت اور جدّت دونوں سے کام لیتے ہیں۔‘‘ اُن کی تالیف’’خلاصۂ قرآن‘‘ بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس میں انہوں نے چار جیّد علمائے کرام، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی، مولانا فتح محمد جالندھری، مولانا محمود الحسن دیوبندی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے تراجم منتخب کرکے اُن کا خلاصہ پیش کیا اور اِس خلاصے کے مستند ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کا پیش لفظ ’’جامعہ ابو ہریرہ ‘‘ خالق آباد (نوشہرہ) مولانا عبدالقیوم حقّانی نے تحریر کیا۔
سرسیّد احمد خان کی کتاب ’’آثار الصنادید‘ ‘ کی از سرِ نو ترتیب و اشاعت کا مرحلہ، انجمن ترقی اردو پاکستان کے سامنے آیا، تو اس کے لیے کسی ہمہ جہت، فن کارانہ صلاحیتوں کے حامل، ایسے شخص کی تلاش شروع ہوئی، جو زبان و ادب پر عبور رکھنے کے ساتھ عمارتوں کے لفظی اور تصویری خاکوں کو بھی سمجھتا ہو، چناں چہ یہ قرعہ بھی حیات رضوی کے نام نکلا اور انہوں نے ’’آثار الصنادید‘‘ کے پہلے نسخے کو بنیاد بنایا اور عمارتوں کی قلمی تصاویر کو اُسی صورت برقرار رکھتے ہوئے جدید فنی سہولتوں سے خوش کُن مناظر کی صُورت دے دی۔ اصل تصاویر میں کوئی تبدیلی نہیں کی، صرف پیش منظر اور پس منظر کو رنگین کردیا۔ یہ کتاب حیات رضوی امروہوی نے انجمن ترقی ِ اردو پاکستان کے تعاون سے سرسیّد احمد خان کے دوسو سالہ جشن ولادت کے موقعے پر شایع کی، جو اُن کا تاریخی کارنامہ ہے۔ نیز، حیات رضوی کا مجموعۂ مضامین ’’کراچی کرانچی‘‘ بھی ایک بے حد معلوماتی کتاب ہے، جو قدیم کراچی سے آج تک کے کراچی کا حال بیان کرتی ہے۔
حیات رضوی امروہوی، وہ پہلے آرکیٹیکٹ ہیں، جنہوں نے آرکیٹیکٹ کا اردو ترجمہ ’’عمارت کار‘‘ کے نام سے کیا۔ اس سے بھی اُن کی اختراعی ذہانت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دراصل سیر و سیّاحت اُن کی زندگی کا ایک حسین مشغلہ تھا۔ انہوں نے بھارت کے علاوہ اُردن، شام، مصر، فرانس، اٹلی، روم، برطانیہ، امریکا اور ملائیشیا کے احوال کے علاوہ ’’ایران میں سات دن‘‘ کو بھی نظمیہ انداز میں تحریر کیا کہ جس کے مطالعے کے دوران ایک طلسماتی سفرنامے کا گمان ہوتا ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے وہ ایران کے کوچہ و بازار کی سیر کررہا ہے۔
حیات رضوی امروہوی کو برصغیر کے اہم قلم کاروں نے خراج ِعقیدت پیش کیا ہے۔ پروفیسر سحر انصاری کے مطابق، ’’حیات رضوی امرہوی ایک باعمل اور تخلیقی ذہن کے حامل انسان تھے، انہوں نے زندگی میں جو کام کیا، وہ تکمیلیت اور جمالیات کا دیدہ زیب فن پارہ بن گیا۔ اُن کا ایک اہم کارنامہ ’’عمارت کار‘‘ ہے، جو فن ِ تعمیر اور اس کے متعلقات پر اردو میں اپنی نوعیت کا واحد جریدہ ہے۔ فنِ تعمیر اور عمارت سازی پر اردو میں ایسا رسالہ نکال کر حیات رضوی نے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔‘‘ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی کے مطابق،’’حیات رضوی غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل تھے۔
’’عمارت کار،، کی حیثیت سے اُن کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، تاہم اردو زبان و ادب اور ثقافت کا اعلیٰ ذوق بھی اُن کی فکری شخصیت کا حصّہ رہا ہے۔ ایسی ہمہ جہت شخصیات، روز روز پیدا نہیں ہوتیں۔‘‘ مسلم شمیم ایڈووکیٹ کے مطابق، ’’حیات رضوی کی شخصیت، کئی کارناموں سے عبارت ہے، لیکن میرے نزدیک اُن کا اہم ترین کارنامہ ’’خلاصۂ قرآن‘‘ ہے، جس کا آغاز انہوں نے سعودی عرب میں قیام کے دوران کیا اور ایک عشر ے کے دورانیے میں مکمل کیا، جسے علمی و دینی حلقوں سے غیر معمولی پذیرائی ملی۔‘‘ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے حیات رضوی سے متعلق اپنے جذبات کا اظہار کچھ یوں کیا کہ ’’حیات رضوی، نہایت مخلص انسان تھے، اُن کی زندگی، جہد ِ مسلسل سے عبارت تھی۔ انہوں نے انجمن ترقیِ اردو کی نئی عمارت ’’اردو باغ‘‘ کا نقشہ، انجمن کی تاریخ اور مقاصد کو پیشِ نظر رکھ کر بنایا۔‘‘
تعلیمی خدمات کے حوالے سے بھی ان کا اہم کردار رہا۔ جب امروہہ سے ہجرت کرنے والے افراد، کراچی کے علاقے’’گلبہار‘‘ کے400کوارٹرز میں آباد ہوئے، تو سب سے اہم مسئلہ، بچّوں کی تعلیم کا تھا۔ حیات رضوی نے اپنے مکان کے سامنے دریاں بچھا کر بچّوں کو مفت بنیادی تعلیم بہم پہنچائی، جس کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا۔ بعدازاں، انہوں نے اپنی والدہ، سیّدہ شاہ جہانی بیگم رضوی کی یاد میں ’’میموریل اسکول‘‘ قائم کیا، جو آج ماشاء اللہ ایک معروف تعلیمی ادارے کی حیثیت سے اپنی نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ علم کا ہونا اور اسے دوسروں تک پہنچانا، بے شک احسانِ عظیم ہے۔
حیات رضوی نے علم، دوسروں تک پہنچانے میں وقت بھی صرف کیا اور پیسا بھی گیا۔ زمانے کی بے حسی، لاپروائی اور ناقدری پر نالاں ہونے کے بجائے مسکرا کر کہتے کہ ’’میاں! تم ایک پڑھنے والے کے لیے لکھو، جو پڑھتا بھی ہے اور علم کو بھی آگے بڑھاتا ہے۔‘‘ اُن کی شریکِ حیات، زندگی کے ہر موڑ پر اُن کے ساتھ رہیں۔ ’’گھر کی گواہی‘‘ کے طور پر اُن کے احساسات بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ’’یقیناً عزت و عظمت عطا کرنا، اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے، جو میرے شوہر کو بے پناہ عطا ہوئی۔ میں اس امَر کی چشم دید گواہ ہوں کہ وہ بیماری کی حالت میں بھی لکھنے، پڑھنے کے مشغلے سے دُور نہیں رہے۔
مَیں نے اُنہیں تمام زندگی، ادبی اور دینی کاموں میں مصروف پایا، لیکن کبھی گھریلو ذمّے داریوں اور بچّوں کی تعلیم و تربیت سے غفلت نہیں برتی۔ حیات رضوی، نظم و ضبط پر کاربند نہایت منظّم انسان تھے، بے ترتیبی سے انہیں سخت چڑ تھی، انہوں نے بھرپور زندگی گزاری اور اُن کی جدائی سے پیدا ہونے والے خلا کا بھرنا بہت مشکل ہے۔‘‘ حیات رضوی امروہوی، بحیثیت انسان بھی بے شمار خوبیوں کے مالک تھے، اُن کے سینے میں دلِ درد مند تھا، پریشان حالوں کا خیال رکھنا، اُن کی ہر ممکن مدد کرنا، اُن کی سرشت میں شامل تھا۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں ہر نعمت سے نوازا تھا، اُن کی مہمان نوازی بھی بے مثال تھی، ضعیف العمری کے باوجود، آخری وقت تک فعال اور متحرک رہے۔ اُن کا شمار، اللہ کے اُن خاص بندوں میں ہوتا تھا، جنہیں وہ مخلوقِ خدا کی خدمت کا بھرپور موقع عطا کرتا ہے۔ یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم نے اُن کی صفات سے متعلق صرف سُنا، پڑھا ہی نہیں، یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُن کی باقاعدہ قربت میسّر رہی اور اس دوران اُن سے بہت کچھ سیکھا۔ انہوں نے ہرہر قدم پر رہنمائی کی اور آج یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ میرا دیرینہ اور ناقابلِ تلافی دُکھ ہے۔
حیات امروہوی کے چند منتخب اشعار
؎ گِرتے گرِتے زرد پتّے، کونپلوں سے کہہ گئے
ہم وہ آنسو تھے، جو رخسارِ چمن سے بہہ گئے
؎ افسوس، صد افسوس، صد افسوس کہ چل دی
اب عُمرِ رواں، عُمرِ رواں، عُمرِ رواں بھی
؎ بے زمین لوگوں کا، کب ہوا وطن اپنا
طائرانِ بے مسکن، ڈھونڈ لیں، چمن اپنا
؎ سونے کا نہیں وقت یہ، ہشیار رہو غافل
رنگِ فلکِ پیر، زمانے کی ہوا دیکھ
؎ کہتا ہوں ایک بات، بڑی مختصر سی ہے
جھک کر چلو حیات بڑی مختصر سی ہے
؎ نئے ہیں لوگ، نیا سلسلہ، اَلم کا ہے
جو تیر کر نہ سکے وار، وہ قلم کا ہے
؎ اماں ہو، پیار ہو، سُکھ، چین جو زمانے میں
مَیں چاہتا تو ہوں لیکن، مِری بساط کہاں