• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بائیوٹیکنالوجی: غذائی قلت کے خاتمے میں معاون

پاکستان میں شرح خواندگی شرم ناک حد تک کم ہونے کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ اچھے خاصے تعلیم یافتہ افراد کی اکثریت بھی اِس بات سے لاعلم ہے کہ ہمارے اطراف کیا ہو رہا ہے۔ یہ ہمارا ہی مُلک ہے، جہاں بہت سے لوگوں کو اب بھی اِس بات پر یقین نہیں کہ انسان دہائیوں قبل چاند پر پہنچ گیا تھا، جب کہ آج تو انسان اِس مرحلے سے بہت آگے نکل چُکا ہے۔ جدید سائنس کے بہت سے شعبوں، بشمول بائیو ٹیکنالوجی کی حقیقت سے عام افراد تو کیا، تعلیم یافتہ افراد بھی بے خبر ہیں۔

دراصل، پلانٹ بائیو ٹیکنالوجی پودوں کی افزائش کی تیکنیک ہے، جو فصلوں کے پودوں میں تبدیلی لانے اور اُنھیں بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ہمارے زرعی ماہرین کے ایک گروپ نے برسوں پہلے مُلک میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث پیش آنے والے حالات، بالخصوص خوراک کی قلّت کا ادراک کر لیا تھا اور پھر اُنھوں نے اِن مسائل پر غور و فکر کے لیے 1987ء میں فیصل آباد میں زرعی تحقیقاتی ادارہ برائے بائیو ٹیکنالوجی قائم کیا۔

اس ادارے میں آج مختلف فصلوں، جیسے گندم، چاول، کپاس، گنے، جانوروں کے چارے، تیل دار اجناس، دالوں اور سبزیوں میں بہتری کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیق ہو رہی ہے۔ یہی نہیں، ہمارے ماہرین اعلیٰ ترین بیج بنا کر زیادہ فصلیں حاصل کرنے کے بھی قریب پہنچ چُکے ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ’’ بائیو ٹیکنالوجی کا استعمال، پودوں میں ایسی مثبت تبدیلیوں کو کم وقت میں ممکن بنا دیتا ہے، جو روایتی افزائشِ نسل کے طریقوں سے ممکن نہیں۔‘‘

ماہرین اب جینیاتی انجینئرنگ، فصلوں کے افزائشی لائحۂ عمل کی مدد کے لیے ڈی این اے مارکر کے استعمال، بی ٹی فصلوں کی کھوج، شناخت اور مخصوص جینیاتی اظہار کے تعیّن، ٹشو کلچر کے ذریعے پیدا شدہ جینیاتی تغیّر کے حیاتیاتی اور غیر حیاتیاتی ماحولیاتی عوامل کے استعمال، خرد بینی تولیدی طریقوں سے بیماریوں سے پاک بیج کی پیداوار، غیر پھلی دار اجناس میں پودوں اور جرثوموں کی شراکت داری، پودوں کے لیے غذا سے مربوط انتظامی نظام، زمین، ماحول اور جرثوموں کی سرگرمیوں کے درمیان نسبت کا سراغ لگانے، فصلوں سے مخصوص جراثیمی ٹیکوں کی تیاری اور ماس میڈیا کے ذریعے جدید زرعی تحقیق کی کسانوں تک رسائی جیسے منصوبوں پر کام یابی سے کام کر رہے ہیں۔واضح رہے، بائیو ٹیکنالوجی صرف زراعت تک ہی محدود نہیں ہے۔

مالیکیولر بائیولوجی اور بائیو ٹیکنالوجی ایک قدم مزید جدید ترین شعبہ ہے، جس نے حیاتیات، طب اور متعلقہ قدرتی سائنس کے شعبوں میں انقلاب برپا کر دیا ہے، جس سے بیماریوں کے علاج، ادویہ کی تیاری اور فرانزک کے ساتھ، ارتقاء کے مطالعے میں بھی قابلِ ذکر پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔دنیا بَھر میں بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی تحقیق بڑی فصلوں کی پیداوار پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے میں مدد کر رہی ہے۔پاکستان میں اہم غذائی اجناس کی پیداوار ضرورت کے مطابق نہیں ہے اور گندم کی فی ہیکٹر پیداوار3 ٹن ہے۔

لہٰذا، بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال سے پاکستان میں غذائی تحفّظ کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی گرمی یا خشک سالی کے اثرات سے محفوظ بیج تیار کرنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے اور اِس طرح کیڑے مار ادویہ پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔ 

پاکستان کو سیلاب جیسی قدرتی آفات کے سبب اکثر و بیش تر غذائی اجناس درآمد کرنا پڑتی ہیں، جب کہ بڑھتی آبادی سے خوراک کی طلب میں مسلسل اضافے نے مسئلے کو پہلے ہی پیچیدہ بنا رکھا ہے۔اِس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیو ٹیکنالوجی ہمارے مُلک کو درپیش اِس طرح کے بیش تر غذائی مسائل حل کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

جنیاتی طور پر پیدا کردہ فصلوں کے ساتھ ہمیں جو تحفّظ کا احساس ہوتا ہے، وہ دوسری تمام فصلوں میں نہیں ہوتا۔تحفّظ کا یہ عمل اِس امر کو یقینی بناتا ہے کہ فصلوں میں وہ تمام فوائد موجود ہیں، جو دوسری روایتی فصلوں سے حاصل شدہ غذاؤں میں ہوتے ہیں اور اس میں زیادہ خدشات بھی نہیں ہیں۔گزشتہ دنوں انسٹی ٹیوٹ آف زوآلوجی اور شعبہ مائکرو بائیولوجی اینڈ مالیکولر جینٹکس، بہاالدّین زکریا یونی ورسٹی، ملتان کے زیرِ اہتمام ہونے والے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی، ڈاکٹر یوسف ظفروائس پریذیڈنٹ نیشنل کاٹن کمیٹی (سابقہ چیئرمین پی اے آر سی ) نے بائیوٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی شعبے میں جدید خطوط پر استوار فصلوں کی پیداوار پر زور دیا۔ 

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ بائیوٹیکنالوجی سے خوراک کی تمام مُلکی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ درحقیقت، بائیوٹیکنالوجی کی صنعت معاشی ترقّی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس نے گزشتہ سال کے اعداد وشمار کے مطابق، تقریباً 140ارب ڈالرز ریونیو پیدا کیا اور اِس وقت امریکی بائیوٹیکنالوجی فرمز 1.66ملین سے زائد افراد کو ملازمتیں دے چُکی ہیں،جب کہ اِس شعبے میں جس تیزی سے جدّت طرازی ہو رہی ہے، ہنر مند اور پیشہ ور افراد کی مانگ میں بڑے پیمانے پر اضافہ متوقع ہے۔

چوں کہ بائیو ٹیکنالوجی کا بہت سی صنعتوں پر اطلاق ہوتا ہے، تو اِس لیے پیشہ ور اور ماہر افراد کے لیے سرکاری اداروں، نجی کمپنیز، ریگولیٹری اداروں یا کلینیکل لیبارٹریز کے دروازے کُھلے ہیں۔ مائیکرو بائیولوجسٹ، بائیو میڈیکل اور صنعتی مصنوعات تیار کرنے کے لیے وائرس، بیکٹیریا اور مدافعتی نظام کا مطالعہ کرتے ہیں۔

یہ ماہرین متعدّی بیماریوں کی تشخیص اور علاج میں مدد کے لیے پیچیدہ تحقیقی منصوبے اور لیب تجربات کرتے ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بائیو ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے گندم، کپاس، چاول، مکئی، گنے اور دیگر فصلوں کی پیداوارمیں 30فی صد تک اضافہ ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

ہمارا پڑوسی مُلک، ایران اِس ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایشیا میں سرِفہرست ہے۔ اگر پاکستان کی بات کریں، تو یہاں حالیہ دنوں میں ایک یہ پیش رفت سامنے آئی کہ ایک چینی اور ایک پاکستانی یونی ورسٹی مشترکہ طور پر فوڈ سیکیوریٹی اور پلانٹ بائیو ٹیکنالوجی پر تحقیقی مراکز قائم کریں گی۔اِس ضمن میں لین ای یونی ورسٹی میں قائم کیے جانے والے ریسرچ سینٹر اور لیبارٹریز میں بائیو ٹیکنالوجی، ایگرانومی اور فوڈ سائنسز کے شعبوں پر تحقیق کی جائے گی۔یاد رہے، حالیہ برسوں میں چینی اور پاکستانی محقّقین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے کئی مشترکہ تحقیقی منصوبے شروع کیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے کروائی جانے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دنیا میں ہر سال تیار کی جانے والی ایک تہائی خوراک ضائع ہوجاتی ہے۔تحقیق کے مطابق، ہر سال ضائع ہونے والی خوراک کا وزن تقریباً ایک ارب ٹن ہوتا ہے۔اِس تحقیق میں سفارش کی گئی ہے کہ ترقّی پذیر ممالک میں خوراک کی تیاری اور اس کی تقسیم میں بہتری لانے کی ضرورت ہے تاکہ خوراک کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکے، جب کہ صنعتی ممالک کو مشورہ دیا گیا کہ وہ خوراک پھینکنے سے اجتناب برتیں۔

دنیا بَھر کے سائنس دان نہایت باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ایسے پودوں سے اُگائی جانے والی غذا صحت کے لیے مفید ہے کہ نہیں، جو کیڑے مکوڑوں اور جڑی بوٹیوں کے خلاف مزاحمت رکھتے ہوں اور اُن سے زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہو۔گو کہ اِس سوال کا جواب’’ ہاں‘‘ میں ہے، مگر پھر بھی بہت سے ممالک نے کسانوں کے ایسی فصلیں اُگانے اور جنیاتی طور پر تبدیل شدہ نامیاتی اجزا سے بنی غذاؤں کی درآمد پر پابندی عاید کر رکھی ہے اور ان میں یورپی ممالک بھی شامل ہیں۔

بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعے فصلیں اُگانے میں امریکا دنیا بَھر میں سب سے آگے ہے۔ اِس ٹیکنالوجی کے ذریعے عموماً سویا بین، مکئی اور کپاس اُگائی جاتی ہے۔ یورپ کے بہت سے ممالک مویشیوں کے لیے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چارہ تو درآمد کرتے ہیں، مگر بائیو انجینئرنگ کے ذریعے انسانی استعمال کے لیے فصلیں اُگانے کی ممانعت ہے۔ (مضمون نگار، کراچی یونی ورسٹی کے شعبہ بائیو ٹیکنالوجی سے بطور چیئرمین وابستہ ہیں)