• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر یکم اپریل کو کئے گئے اسرائیلی حملے کے جواب میں، جس کے نتیجے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر سمیت 12افراد شہید ہوگئے تھے، ایران نے ہفتے کے روز اسرائیل پر تقریباً 200ڈرون اور کروز میزائل فائر کردیئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے اسرائیل میں 50فیصد اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ایران کی جانب سے یہ کارروائی اسکے پیشگی اعلانات کے عین مطابق تھی اور اسرائیلی حملے کا جواب دینے کا حق اسے یقیناً حاصل تھا۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنی سرزمین سے اسرائیل کی سرزمین کی طرف بغیر پائلٹ کے طیارے روانہ کیے جن میں سے صرف چند میزائل اسرائیل میں گرے جس سے فوجی اڈے اور انفراسٹرکچر کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ ایرانی حملوں کے جواب میں امریکا اور اردن نے اسرائیل کی مدد کرتے ہوئے کئی ایرانی ڈرونز مار گرائے۔ دوسری جانب یمن کے حوثی قبائل اور لبنان کی حزب اللہ کی جانب سے بھی اسرائیل پر حملے کی اطلاعات ہیں۔ غزہ میں چھ ماہ سے جاری اسرائیلی جارحیت کو روکنے میں ناکام رہنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے اسرائیلی حکومت کی درخواست پر طلب کرلیا گیا ہے ۔ برطانوی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے سلامتی کونسل کا یہ ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی، صدر سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں اسرائیل نے کہا ہے کہ ایران کا حملہ عالمی امن اورسلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ دوسری جانب سلامتی کونسل کے صدر کے نام اپنے جوابی خط میں ایران نے کہا ہے کہ ایران کا اقدام اس کے حق دفاع اور عالمی قوانین کے عین مطابق تھا۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر اسرائیلی حکومت دوبارہ کسی فوجی جارحیت کا ارتکاب کرتی ہے تو ایران کا جواب یقینی طور پر زیادہ مضبوط اور سنگین ہو گا۔ قبل ازیں گزشتہ روز ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں اسرائیلی بحری جہاز قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ جس پر اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ایران بحری قذاقی کر رہا ہے لہٰذا اس پر پابندیاں لگائی جانی چاہئیں۔ ایران نے اسرائیل کیخلاف جوابی کارروائی سے قبل امریکا کو تمام تر معاملے سے دور رہنے کا انتباہ جاری کردیا تھا، جبکہ ممکنہ حملے کے پیش نظر اسرائیل نے مختلف ممالک میں اپنے 28 سفارتخانے بھی بند کردیئے تھے۔ حال ہی میں امریکا اور اسکے حلیف ممالک نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ایران یا اسکے اتحادی مستقبل قریب میں اسرائیل پر بڑے میزائل یا ڈرون حملے کرسکتے ہیں، اور ایسا ہونے سے گزشتہ 6ماہ سے جاری جنگ خطے میں مزید پھیل سکتی ہے۔ اس ضمن میں یہ بات اہم ہے کہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے واضح کردیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف اسرائیل کی جانب سے کسی جارحانہ کارروائی کی صورت میں اسکا ساتھ نہیں دیگا۔ بلاشبہ ہوشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جنگ کی آگ کو پھیلنے کا مزید کوئی موقع دینے کے بجائے جلدازجلد ٹھنڈا کرنے کی خاطر تمام ممکنہ تدابیر اختیار کی جائیں۔ فلسطینیوں کیخلاف اسرائیلی جارحیت بلاتاخیر بند کرائی جائے اور اس تنازع کو منصفانہ طور پر حل کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔ ایسا نہ کیا گیا تو پوری دنیا جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائیگی اور ناقابل تصور تباہی کا سامنا کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سات عشروں سے اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام ہے لہٰذا کم از کم اب اسے اس سمت میں فوری اور مؤثر اقدامات کا فیصلہ کرکے اور ان پر بلاتاخیر عمل درآمد یقینی بناکر اپنے وجود کی افادیت ثابت کرنی چاہئے۔

تازہ ترین