• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تصوف نہ تو کوئی فرقہ ہے اور نہ ہی اس پر مخصوص عقائد کی چھاپ ہے بلکہ تصوف کو ایسا جوہر کہا جاسکتا ہے جو مذہب سے کشید کیا گیا ہے۔ اگر تصوف کی ایک مصرعے میں تعریف کرنی مقصود ہو تو بلھے شاہؒ کی کافی کا یہ عنوان ہی کافی ہے کہ ’اِک نکتے وچ گل مُکدی اے‘۔ یہ نکتہ تصوف کا جوہر اور بنیادی حقیقت ہے اور اسی پر اس کا تمام فلسفہ استوار ہے اور یہی وحدت الوجودی فکر کا آغاز بھی ہے اور انجام بھی۔ صوفی شاعروں کے کلام میں ’اِک‘ اور ’الف‘ پر خاص زور دیا جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو ’اِک‘ (1) اور ’الف‘ (ا) ایک ہی معنی کے حامل ہیں۔ وحدت الوجودی فکر میں ’اِک‘ یا ’الف‘ اس مرکزیت کا نام ہے جس کے گرد ہر شے گھومتی ہے اور ہر شے میں اس کا عکس ہے۔ ایک ہستی کے وجود کا فلسفہ نوفلاطینوس کی فکر کا نچوڑ تھا جو مختلف فلسفیوں، براعظموں اور زبانوں سے ہوتا ہوا پنجابی زبان کے شاعروں تک پہنچا تو اس زبان کی گہری علامتوں کے باعث مزید نکھرا۔ بابا فریدؒ نے پنجاب دھرتی کے بطن میں ’’اِک‘‘ کا پودا لگایا جو شاہ حسینؒ اور سلطان باہوؒ کی حسیاتی اور کیفیاتی شاعری سے سرشار ہوتا ہوا بلھے شاہؒ کے آفاقی شعور تک پہنچا تو بلھے شاہؒ نے کثرت سے وحدت اور وحدت سے کثرت کے اس شجر کو انسانی وحدت بلکہ وحدتِ مخلوق کا فلسفہ بنا دیا۔ بنیادی طور پر اِک کا فلسفہ کثرت کو وحدت میں ڈھالنے کی خواہش کا نام ہے۔ بلھے شاہؒ سے قبل انسانی وحدت کے اس فلسفے کو صرف ہستی ٔ مطلق کے حوالے سے سمجھا گیا اور بات قطرے اور دریا کے اِک مِک ہونے تک محدود رہی۔ بلھے شاہؒ نے اسے اس کے منطقی نتیجے تک پہنچاتے ہوئے بتایا کہ جب تک وحدتِ انسانی کا سفر طے نہ کرلیا جائے وحدتِ حق کا مرحلہ طے نہیں ہوتا اس لئے وہ ’الف‘ اور ’اِک‘ سے آگے بڑھتے ہوئے نقطے کی بات کرتا ہے۔ نقطہ کائنات کی سب سے چھوٹی اکائی ہے جسے کسی صورت بھی مزید تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔ نقطے کی طرح انسانی وحدت بھی ایک ایسی اکائی ہے جو ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر ہے یعنی جوہر ایک ہے اور انسانوں میں تفریق محض ظاہری ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر بلھے شاہؒ احترامِ انسانیت کا آفاقی نظریہ پیش کرتا ہے اور انسان کے احترام کو خالق کے احترام کے برابر درجہ دیتا ہے۔ ’اِک الف پڑھو چھٹکارا ہے‘ کا پرچار علم سے بے رغبتی کا سبق نہیں بلکہ اِنتشار سے وحدت کی طرف کا سفر ہے۔ الف میں سما جانا دراصل من کی صفائی، باطن کی طرف رجوع، ظاہریت پسندی سے اجتناب اور عشق کی مستی و سرشاری میں کھوجانا مراد ہے۔ ’اِک‘ کی بات کرتے ہوئے بلھے شاہؒ ون پوائنٹ ایجنڈا پیش کرتے ہوئے خالق کی محبت کے حصول کو مخلوق سے محبت سے مشروط کر دیتا ہے۔
اللہ یونیورسل ہے کیوں کہ وہ سب کا سانجھا ہے، وہ رب العالمین ہے اور ان کا بھی رب ہے جنہیں اس کا شعور بھی نہیں۔ رب نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو آفاقیت عطا کرتے ہوئے انہیں رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ شریعت تبدیل ہوتی رہی ہے اس لئے وہ شریعت کی بجائے یونیورسل اللہ اور رسول کی ذات پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ وہ ’’احد احمد بن آیا‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مذاہب کے ظاہری فرق کی نفی کر دیتا ہے کیوں کہ احد سے محبت میں احمد کی محبت بھی شامل ہے۔ قرآن میں متقین کے ساتھ ساتھ ’’ھدی للناس‘‘ یعنی سب کو مخاطب کیا گیا ہے، کسی خاص قوم کو نہیں، اس طرح قرآن بھی یونیورسل ہے۔ خدا نے اہلیتوں، صلاحیتوں اور نعمتوں کے حوالے سے بھی کوئی تفریق نہیں کی۔ زمین سب کو اپنے اندر سموتی ہے اور زندگی میں سب پر اپنی پیداوار نچھاور کرتی ہے۔ وہ کسی کو نیک یا بد کہہ کر دھتکارتی نہیں۔ جب خدا نے اپنی مخلوق میں کسی قسم کی تقسیم روا نہیں رکھی تو انسان کا انسانوں کو تقسیم کرنا جرم ہے اور اسے فساد فی الارض کہا گیا ہے۔ خدا اور رسول کے آفاقی ہونے سے بلھے شاہؒ نے آفاقیت کا فلسفہ اخذ کیا ہے۔ احترامِ آدمیت اور فہمِ وحدتِ انسانی کی حقیقت تک پہنچنے کے لئے صرف عبادتوں پر اکتفا کرنے کی بجائے کامل مرشد کی ضرورت پر زور دیا ہے جو آنکھوں پر بندھی پٹی اتار سکے، دل پر لگے جالے صاف کرسکے تاکہ انسان کی ظاہری اور باطنی آنکھیں اصل حقیقت کا دیدار کر سکیں۔
کوئی خاص قوم اللہ کا کنبہ نہیں بلکہ پوری مخلوق اس کا کنبہ ہے۔ خدا سے ظاہری طور پر براہِ راست رشتہ استوار نہیں کیا جا سکتا صرف اس کی مخلوق سے رشتہ استوار کر کے اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ بندے سے رابطہ خدا سے رابطے کے مترادف ہے۔ عبادت کے زور پر آج تک کسی کو خدا نہیں ملا۔ جنہیں بھی اس کا قرب حاصل ہوا وہ خدمت کے ذریعے ہی حاصل ہوا۔ اللہ کی تلاش میں نکلنے والوں کو ہمیشہ کوئی اللہ والا ہی ملا ہے۔
دوسری بات یہ کہ بلھے شاہؒ نے اس کافی میں ظاہریت پرستی پر جو کڑی تنقید کی ہے اس کے پس منظر میں یہ حقیقت پوشیدہ ہے کہ عبادات بندگی نہیں بلکہ اظہارِ بندگی ہیں، اصل بندگی خدمت ہے اور خدا کی طرف سے ودیعت کی گئی صلاحیتوں کا اللہ کی راہ میں مثبت استعمال ہے۔ مذاہب میں بھی ہمیشہ خدمت فوکس رہی ہے عبادت نہیں۔ عبادت کی تلقین لوگوں کی تربیت کے لئے کی گئی ہے تا کہ وہ ایک نظم و ضبط کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں۔ لیکن جب اعمالِ زندگی عبادات سے مختلف ہوں تو ظاہر اور باطن کی تفریق سامنے آتی ہے اور یہی تفریق ظاہر پرستی کو جنم دیتی ہے۔ بلھے شاہؒ اس تفریق کو ناپسند کرتا ہے کیوں کہ وہ ہر عمل کو خدا کی خوشنودی سے جوڑتے ہوئے اسے عبادت بنا دینے پر زور دیتا ہے۔ جب ہر عمل اس کی خوشنودی کا مقصود ٹھہرے تو پھر انسانی وحدت کا فلسفہ انسانی شعور پر آشکار ہوتا ہے اور اسے خبر ہوتی ہے کہ نام مختلف ہو سکتے ہیں مگر حقیقت ایک ہے اور یہاں تمام تر عقائد ایک نظرئیے میں ڈھل جاتے ہیں۔ بلھے شاہؒ کا یہ نظریہ بھی قرآنی تعلیمات سے اخذ کیا گیا ہے۔ قرآن میں خدا کہتا ہے، ’’اگر ہم چاہتے تو تم سب ایک دین پر ہوتے۔‘‘ یعنی مختلف ادیان کا ہونا خدا کی اپنی منشاء ہے۔ وہ ورائٹی کو پسند کرتا ہے۔ الگ الگ پرندے، ذائقے اور رنگ زندگی اور کائنات کو خوبصورت بناتے ہیں۔ اگر کائنات ایک سی ہوتی تو ہر کوئی ڈپریشن کا شکار ہو جاتا۔ لیکن ان مختلف رنگوں، انسانوں اور مذاہب میں باقاعدہ ربط ہے اور وہ ربط ’اِک‘ کی موجودگی ہے جس کا جلوہ دیکھنے پر قادر آنکھوں کو کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ اقبال کثرت میں وحدت کے رازوں کی حقیقت سے آگاہ ہو کر کہتا ہے
کثرت میں ہو گیا ہے وحدت کا راز مخفی
جگنو میں جو چمک ہے وہ پھول میں مہک ہے
یہ اختلاف پھر کیوں ہنگاموں کا محل ہو
ہر شے میں جب کہ پنہاں خاموشی ازل ہے
(یہ مضمون پوسٹ گریجویٹ کالج وحدت روڈ میں منعقدہ عالمی صوفی کانفرنس میں پڑھا گیا)
تازہ ترین