آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اپنی صدارت کے آخری ایّام میں جاتے جاتے بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی۔ انہوں نے امریکہ کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکیوں کو بتایا کہ القاعدہ ایک افسانہ ہے۔ اس بیان کے ذریعے حامد کرزئی نے اصناف سخن کا پٹارا بھی کھول دیا ہے۔ اب لوگ سوچنے لگے ہیں کہ ادب کی باقی اصناف کن کن کے نام سے منسوب ہوںگی؟ پھر یہ بھی سوچا جا رہا ہے کہ اگر القاعدہ ایک افسانہ ہے تو اس افسانے کا مصنف کون ہے؟امریکہ میں اب ارنسٹ ہیمنگوے جیسا انسان دوست یا ولیم سرویاں جیسا دردمند دل رکھنے والا افسانہ نگار تو ہے نہیں، اب تو افسانہ نگار ہالی وڈ کیلئے کہانیاں لکھتے ہیں اور ہالی وڈ دہشت گردی کے موضوعات پر مبنی نئی نئی تخلیقات پیش کر کے دنیا بھر میں دہشت گردی کو نئے خیالات دینے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کا نصاب بھی پیش کرتا ہے تو القاعدہ کے افسانے کی تخلیق کس افسانہ نگار نے کی ہے، اس کا پتہ لگایا جائے۔القاعدہ کے افسانے میں رنگ بھرنے کیلئے اس کا آغاز 21؍ویں صدی کے پہلے سال سے کیا گیا۔ ایک کھائی کے کنارے تعمیر ہونے والی عمارت کو جہازوں کے ذریعے زمین بوس کیا گیا پھر اس کا ملبہ مسلم دنیا پر ڈال دیا گیا اور افغانستان پر حملہ کر کے تباہی کے مناظر پیش کیے گئے پھر امریکی افواج کو وہاں اتار دیا گیا۔ القاعدہ کے

افسانے میں کئی خواب بھی تھے کہ اس پر 6؍ماہ میں مکمل قبضہ کر کے وسطی ایشیاء کے پیٹرول اور معدنی وسائل کو پوری دنیا کو سپلائی کرنے کا کام شروع ہو جائے گا۔ القاعدہ افسانے کے کچھ ہیروز تھے اور کچھ ولن بھی۔ اس افسانے کو پڑھ کر اسے حقیقت سمجھنے والوں میں سادہ لوگ بھی تھے۔ ان میں امریکی بھی تھے، پاکستانی بھی اور یورپی دنیا کے مہم جو بھی۔ حامد کرزئی کے اس بیان کے بعد یہ لوگ اب کیا سوچ رہے ہوں گے، اس کا پتہ لگانا بھی ضروری ہے۔ القاعدہ افسانے کا کلائمیکس ایبٹ آباد آپریشن کے نام سے بنایا گیا اور اسے پراسرار اور مشکوک انداز میں اختتام کو پہنچایا گیا۔
القاعدہ ایک افسانہ ہے تو اصناف سخن کے حوالے سے امریکہ کو دیکھا جائے تو وہ ایک پورا ناول لگتا ہے۔ یہ ناول کولمبس کے بحری جہاز سے اتر کر نئی سرزمین پر قدم رکھنے سے شروع ہوتا ہے پھر اس سرزمین کے باشندوں (جن کو ناول میں ’’ریڈ انڈین‘‘ کا نام دیا گیا) کا قتل عام ہوتا ہے۔ نسل کشی کے یہ مناظر ناول کے کئی ابواب پر محیط ہیں پھر اس کے بعد قبضہ، بغاوت، جنگ آزادی اور لوٹ مار کے کئی ابواب ہیں۔ ایٹم بم بنانے اور گرانے کا باب ہے۔ ویتنام میں قتل عام اور شکست کے ابواب ہیں۔ پوری دنیا کی ٹھیکیداری کے ابواب بہت دردناک اور دلچسپ ہیں۔
امریکہ کے ایک شہر نیویارک میں جہاں القاعدہ افسانے کا پہلا منظر تخلیق ہوا وہیں دریا کے کنارے پر اقوام متحدہ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ اصناف سخن کے پٹارے میں اقوام متحدہ کو ’’الف لیلیٰ ہزار داستان‘‘ کہا گیا ہے۔ یوں اقوام متحدہ افسانوں کی ماں بن جاتی ہے جس میں کہانیاں در کہانیاں ہیں۔ یہاں سلامتی کونسل نامی ادارہ بھی ہے جو ایک بہت بڑی فلم ہے۔ اس فلم میں کہیں کشمیریوں کی آزادی کو کچل کر رکھنے کے مناظر ہیں اور کہیں ’’بڑی تباہی کے اسلحے‘‘ کے نام پر عراق کو تباہ کرنے کی اجازت کے مناظر ہیں۔ اس فلم میں بڑے بڑے اداکار آتے ہیں اور اپنا اپنا کردار ادا کر کے جو کچھ کمانا تھا کما کر چلے جاتے ہیں۔اصناف سخن میں امریکہ کا ادارہ ’’سی آئی اے‘‘ ایک کرائم اسٹوری ہے۔ اس کہانی کی کئی اقساط ہیں۔ ہر قسط میں گہری سازش اور واردات کے نت نئے طریقے ہیں۔ اس کرائم اسٹوری کے کرداروں میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ یہ کرائم اسٹوری دنیا بھر کے ملکوں کے واقعات پر مبنی ہے۔ اس کرائم اسٹوری کے مجرم کردار کو جو سرعام قتل کرنے پر پکڑا جاتا ہے، سفارت کار ظاہر کر کے بچا لیا جاتا ہے۔ اس کرائم اسٹوری میں دنیا کی کئی حکومتوں کا تختہ بھی الٹا جاتا ہے۔
اصناف سخن میں ڈرامے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں ڈرامہ ایک مقبول صنف ہے۔ شام کو ڈرامہ دیکھے بغیر جیسے روٹی ہضم نہیں ہوتی اسی لئے دنیا کے اداروں میں IMF کو ایک ڈرامہ کہا جاتا ہے۔ جس طرح ڈرامہ ایک Conflict اور ایک مسئلے سے شروع ہوتا ہے اسی طرح IMF کی ہر کارروائی ایک مسئلے سے شروع ہوتی ہے پھر اس میں بہت سے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں، ڈائیلاگ ہوتے ہیں، منصوبے بنتے ہیں اور پھر اس ڈرامے کا اختتام ایک زنجیر پر ہوتا ہے جو ایک کردار کے پیر یا گلے میں ڈال دی جاتی ہے۔ ٹریجڈی یہ ہے کہ زنجیر پہننے والا خوشی سے ناچتا ہے اور کوئی پوچھے کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ تو وہ گانے لگتا ہے:
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
حامد کرزئی کا بیان پڑھ کر ایک صاحب پوچھ رہے تھے کہ اگر القاعدہ افسانہ ہے تو حامد کرزئی صاحب خود کیا ہیں؟ اس کے جواب میں دوسرے صاحب نے کہا: ’’جناب اصناف سخن میں ایک چھوٹی سی مگر مزیدار صنف بھی ہوتی ہے، وہ ہے لطیفہ اور یہ صنف حامد کرزئی صاحب پر فٹ نظر آتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں