• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات کو مضبوط کرنے کے خواہاں ہیں، چین


چین نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی بھرپور حمایت، تعاون پر مبنی تعلقات کو مضبوط بنانے، اسٹریٹجک کوآرڈینیشن کو گہرا کرنے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک قریبی چین پاکستان کمیونٹی کی تعمیر کو تیز کرنے کا خواہاں ہے۔ 

ان خیالات کا اظہار چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے منگل کو پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے دورہ چین کے حوالے سے بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کیا۔ 

انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے 4 سے 8 جون تک چین کا سرکاری دورہ کیا۔ دوسری مدت کےلیے پاکستان کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محمد شہباز شریف کا یہ چین کا پہلا دورہ تھا اور چین کی جانب سے ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔

انھوں نے اپنے دورہ چین کے موقع پر صدر شی جن پنگ، وزیر اعظم لی کیانگ اور چیئرمین ژاؤ لیجی سے ملاقات کی۔ جن  میں دونوں ممالک کے رہنماؤں نے پاک چین تعلقات اور مشترکہ تشویش کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور پاک چین تعلقات کے فروغ کے لئے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کی۔ 

 ملاقات میں صدر شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور پاکستان کے درمیان ہر موسم میں اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ مسلسل گہری ہوئی ہے، جس میں رائے عامہ کی مضبوط بنیاد، مضبوط اندرونی محرک قوت اور وسیع تر ترقی کے امکانات موجود ہیں۔ 

ترجمان نے مزید بتایا کہ چین پاکستان کی بھرپور حمایت، تعاون کے تعلقات کو مضبوط بنانے، اسٹریٹجک کوآرڈینیشن کو گہرا کرنے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے ساتھ ایک قریبی چین پاکستان کمیونٹی کی تعمیر کو تیز کرنے کا خواہاں ہے۔ 

انھوں نے کہا اپنے دورے کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان آہنی دوستی کو کوئی طاقت کمزور نہیں کر سکتی اور پاکستان چین کا سب سے بڑا قابل اعتماد دوست اور شراکت دار بنے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وہ اپنے اپنے بنیادی مفادات اور بڑے خدشات سے متعلق امور پر ایک دوسرے کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔ فریقین نے پاکستان کی قومی ترقی کے فروغ اور پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے میں پاک چین اقتصادی راہداری کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔ 

ترجمان نے مزید بتایا کہ "بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے" اور پاکستان کے ترقیاتی منصوبے کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دینے، مقامی حالات کے مطابق مختلف شعبوں میں عملی تعاون کرنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں تاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے "اپ گریڈڈ ورژن" کو مرکز کے طور پر تخلیق کیا جا سکے تاکہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں بہتر مدد مل سکے۔ 

ترجمان بتایا کہ پاکستانی حکومت نے ایک بار پھر 26 مارچ کے داسو دہشت گرد حملے میں ہلاک ہونے والے چینی اہلکاروں سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور انہیں سخت سزا دے گی اور پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے عملی اور موثر اقدامات کرے گی۔ 

ایک اور سوال جے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے ہمراہ پاکستانی وفد نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی دور اندیشی اور شاندار قیادت کو پاکستان کے عوام اور دنیا بھر میں خلوص دل سے سراہا گیا ہے۔ صدر شی جن پنگ کی جانب سے مشترکہ طور پر "بیلٹ اینڈ روڈ" منصوبے کی تعمیر کی تجویز اور تمام انسانیت کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے تین بڑے عالمی اقدامات نے عالمی امن، سلامتی، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لئے اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کی ہے۔

 پاکستان اس کی بھرپور تعریف اور اس کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ فریقین نے مختلف بین الاقوامی کثیر الجہتی میکانزم کے اندر تعاون اور ہم آہنگی کو مستحکم کرنے، مشترکہ طور پر مساوی اور منظم عالمی کثیر الجہتی اور جامع اقتصادی عالمگیریت کو فروغ دینے اور ترقی پذیر ممالک کی ایک بڑی تعداد کے مشترکہ مفادات اور بین الاقوامی شفافیت اور انصاف کا مشترکہ تحفظ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

دورے کے دوران فریقین نے پاک چین اقتصادی راہداری، نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، زراعت، صنعت، بین الحکومتی معاونت، مارکیٹ کی نگرانی، جغرافیائی سروے اور نقشہ سازی، میڈیا، فلم اور ٹیلی ویژن وغیرہ سے متعلق تعاون کی 23 دستاویزات پر دستخط کیے۔

اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے شینزین، شیان اور دیگر شہروں کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے چین کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی تعریف کی اور چین کے ساتھ حکمرانی میں تجربے کے تبادلے کو مضبوط بنانے پر آمادگی کا اظہار کیا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید