آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پچھلے کچھ عرصہ سے ملک پاکستان کے نونہالوں میں خواب دیکھنے کی بڑھتی ہوئی شرح اور ان کی تعبیروں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’خواب آپ کے تعبیریں ہماری‘‘ کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔ پچھلے ہفتے ہمیں بے شمار خواب موصول ہوئے مگر جگہ کی کمی کی وجہ سے یہاں صرف چند اہم خوابوں کی تعبیر پیش خدمت ہے۔
خواب:میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں بڑا پولیس افسر بنا ہوا ہوں ۔ سارا دن دفتر میں لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ہر قسم کے دباؤ اور لالچ کی پروا کئے بغیر ہر کیس کا میرٹ پر فیصلہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ حتیٰ کہ کبھی کبھی ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر غریب اور شریف آدمی کے کیس کا میں خود مدعی ہوں ۔ جرائم کو روکنے کی بھی بھرپور کوشش کرتا ہوں ۔ دن میں پندرہ پندرہ گھنٹے کام کرتا ہوں۔کئی دفعہ تو مہینہ مہینہ بچوں سے ملاقات بھی نہیں ہوسکتی۔ اتنی محنت کے بعد رات کو دال چپاتی کھاکر گزارہ کرتا ہوں کیونکہ تنخواہ کے اندر یہی کچھ ہوسکتا ہے ۔ ان میرٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے پورے ضلع میں بہت’’نا مقبول‘‘سا ہوجاتا ہوں ۔ جب لوگوں سے کہتا ہوں کہ یہاں میرٹ کے علاوہ کچھ نہیں چلے گاتو لوگ حیرت سے میرا منہ تکتے ہیں جیسے خبطی ہوگیا ہوں ۔ ان کی باڈی لینگویج سے ایسا لگتا ہے جیسے کہہ رہے ہوں کہ بادشاہو تھوڑا میرٹ

کرو، تھوڑا سفارش چلاؤ اور تھوڑا تھوڑا لوگو ں کو نچلی سطح پر مُک مُکا بھی کرنے دو، نہیں تو لوگوں کا دم گھٹنا شروع ہوجائے گا۔مطلب اتنا کَس کے نہ رکھو بس تھوڑا ’’پولا پولا‘‘ رکھ کے جانے دو۔ ایک دفعہ میں دفتر میں بیٹھا روٹین کا کام کررہا ہوتا ہوں کہ اچانک اوپر سے گڑگڑاہٹ کی آواز آنا شروع ہوجاتی ہے جیسے کوئی جہازنما چیز آرہی ہو۔ اس دوران اچانک میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ برائے مہربانی اس خواب کی تعبیر بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ آیا یہ خواب میرے لئے اچھا ہے کہ بُرا ۔(دل آرام خان۔ ضلع تورغر)
تعبیر:خان صاحب یہ کوئی اچھا خواب نہیں ہے ۔ فوراً صدقہ خیرات کا بندوبست کریں ۔دوسرا ہمارا مشورہ یہ ہے کہ زندگی میں انصاف اچھی چیز ہے مگر ہروقت اس کے جھنڈے گاڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ معذرت کے ساتھ اپنے دل سے یہ خیال بھی نکال لیں کہ مسائل کے حل کے بارے میں صرف آپ ہی جانتے ہیں اور بھی بہت سے لوگ مسائل کے حل کا ادراک رکھتے ہیں مگر وہ آپ کی طرح جذباتی نہیں بلکہ ’’حقیقت پسند‘‘ ہیں لہٰذا اس طرح کے مغالطوں میں اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔ دوسرے لفظوں میں جس طرح آپ نے خود لکھا ہے کہ بس ذرا ’’پولا پولا‘‘ رکھ کے جانے دیں ۔انشاء اللہ بہت جلد افاقہ ہوگا۔
خواب:سر میں خواب دیکھتا ہوں کہ میں ایک بہت عالی شان دفتر میں بیٹھا ہوں اور اس دفتر کا سربراہ ہوں۔ جہاں تک مجھے یادپڑتا ہے میں تقریباً تین چار گھنٹے اس دفتر میں گزارتا ہوں۔ اس دوران دو تین دفعہ کافی پیتا ہوں اور تین چار دوستوں سے فون پر گپ شپ لگاتا ہوں۔اس دوران ایک میٹنگ کی صدارت بھی کرتا ہوں جس میں ’’باہمی دلچسپی‘‘کے امور زیر غور آتے ہیں ۔ دفتر سے باہر نکلتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ دفتر کے احاطے میں بہت سے لوگ جمع ہیں جنہوں نے بستے اٹھا رکھے ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ان بستوں میں کیا ہے۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ ان بستوں میں زمینوں سے متعلق کاغذات ہیں۔ان بستہ بردار لوگوں کے چہرے آسودگی اور مکاری کا حسین امتزاج نظر آتے ہیں۔ دفتر کے احاطے میں ایک طرف مریل قسم کے بوڑھے بھی موجود ہیں جن کے ہونٹوں پر خشکی اور دانتوں پر زردی ہے۔ میرے لئے ایک ٹھنڈی ٹھار گاڑی کھڑی ہو جاتی ہے۔ ملازم میرے لئے گاڑی کا دروازہ کھولتا ہے تو اچانک میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ میری درخواست ہے کہ مجھے اس خواب کی تعبیر بتائی جائے۔ (منشاء۔ ضلع مظفر گڑھ)
تعبیر:ماشاء اللہ ، بہت مبارک خواب ہے ۔ آپ بہت جلد ایک اعلیٰ انتظامی عہدے پر پہنچنے والے ہیں جہاں راوی ہر طرف چین ہی چین لکھتا ہے ۔بس صرف ایک چیز کا خیال رکھنا ہے کہ جس طرح آپ حقیقت پسند شخصیت کے مالک ہیں بس اس وصف کو پلے باندھے رکھنا ہے۔
خواب:میں خواب دیکھتا ہوں کہ رات کا وقت ہے ہم پانچ چھ دوست ایک کمرے میں اکٹھے ہیں اور گپ شپ لگارہے ہیں۔ ہماری باتوں کا موضوع ہوتا ہے کہ پاکستان میں کوئی نیک اور صالح لیڈر شپ آئے جو ملک کو ترقی کی آخری منزلوں پر لے جائے ۔ سارے دوست ناامید سے لگتے ہیں کہ یہاں اس طرح کی قیادت کا آنا بہت مشکل ہے ۔ ہم باتیں کررہے ہوتے ہیں کہ اچانک کمرے کی چھت پر دھک سے کوئی زور دار چیز گرنے کی آواز آتی ہے ۔ ہم سارے دوست تھوڑا گھبرا جاتے ہیں اور جلدی سے سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر جاتے ہیں کہ دیکھیں کیا چیز گری ہے ۔اوپر جاکر دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ بہت ہی نیک اور شرعی وضع قطع کے چند بزرگ بیٹھے ہوتے ہیں ۔ہم سوچتے ہیں کہ شاید یہ وہی نیک قیادت ہے جس کی ہم تمنا کررہے تھے اور شاید یہ ہمارے لئے اوپر سے بھیجی گئی ہے۔ ان میں سے ایک بزرگ اس چیز کی تصدیق بھی کرتا ہے کہ ہم ہی وہ قیادت ہیں جس کی آپ تمنا کررہے تھے اور ہم پورے ملک کو اپنی طرح ہی نیک بنا کے دم لیں گے ۔ اس دوران ایک بزرگ کی چادر زیرِتن میں کلاشنکوف کا بٹ نظر آتا ہے تو ہم سارے دوست خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور ڈرکے نیچے بھاگتے ہیں۔ اس دوران ہماری آنکھ کھل جاتی ہے ۔مہربانی کرکے ہمارے اس خواب کی تعبیر بتائی جائے۔(لالہ جی۔سوات)
تعبیر:لالہ جی یہ کوئی اچھا خواب نہیں ہے۔ اللہ سے معافی مانگیں اور استغفار کا ورد کثرت سے کریں۔ دراصل جس کو آپ اوپر سے نازل کی گئی نیک قیادت سمجھ رہے تھے وہ حقیقت میں ایک لعنت تھی جو تم لوگوں پر نازل کی گئی تھی مگر یہ لعنت اپنی وضع قطع تبدیل کرکے لوگوں کو دھوکے دیتی ہے ۔ اس لئے ہمارا مشورہ ہے کہ کبھی اس طرح دھوکے میں مت آنا۔ فی الحال جو نظام چل رہا ہے اسی پر گزارہ کریں۔
خواب:سر میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں کچھ اجنبی لوگوں کی محفل میں بیٹھا ہوں اور یہ لوگ مختلف عنوانات پر زور دار بحث کررہے ہیں ۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی کرپشن ، بدعنوانی ، نااہلی پر بطور خاص سیر حاصل گفتگو کرتے ہیں۔میں اس بحث میں شریک ہونے کی کوشش کرتا ہوں تو یہ لوگ مجھے عجیب سے انداز سے طنز کا نشانہ بناتے ہیں ۔ وہ تقریباً دنیا جہاں کے ہر موضوع پر گفتگو کرتے ہیں اور ایسے لگتا ہے جیسے دنیا کے ہر موضوع کا علم اور دنیا کے ہر مسئلے کا حل ان کے پاس موجود ہو اور دنیا میں ایمانداری اور کردار ان پر ختم ہو ۔ پھر اچانک یہ محفل برخاست ہوتی ہے تو یہ سب لوگ بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص مجھے گھر چھوڑنے کے لئے لفٹ دے دیتا ہے اور میں اس کی بڑی گاڑی میں بیٹھ جاتا ہوں ۔راستے میں، میں ان سے پوچھتا ہوں کہ بھائی آپ کی تعلیم کیا ہے اور کس یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ اس پر وہ مجھے اپنی گاڑی سے اتار دیتا ہے۔ پھر اچانک میری آنکھ کھل جاتی ہے ۔ (حازق بٹ۔ اسلام آباد)
تعبیر:بٹ صاحب یہ ایک عام سا خواب ہے ۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ایک مشورہ ہے کہ اس طرح کے لوگوں کو زیادہ چھیڑنا نہیں پڑتا ہے۔ ایسے لوگوں سے تعلیم، یونیورسٹی وغیرہ کے سوال نہیں کرنے پڑتے، نہیں تو آپ کا ’’موقف‘‘ لے کر آپ کو اپنی اوقات یاد دلا دیں گے۔ باقی دنیا کا ہر علم ان کے پاس ہے یا دنیا کے ہر مسئلے کا حل ان کے پاس موجود ہے یا صرف ان کے علاوہ ساری دنیا بے ایمان ہے ،حازق صاحب یہ سوال کرکے آپ ایسے خواہ مخواہ ’’مامے‘‘مت بنیں ۔ان لوگوں کے بارے میں اگر پھر کوئی کنفیوژن ہو تو رات کو کسی ’’پرائم ٹائم‘‘پر کوئی چینل لگاکے یا صبح کسی اخبار کا ادارتی صفحہ پڑھ کے دیکھ لیں تو خواب مزید واضح ہوجائے گا!!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں