آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

حامد میر، گمشدہ لوگ اور بلٹ پروف خواب

کئی دن ہوئے کہ مجھے میرپورخاص سے ایک بڑے سندھی اخبار کے نمائندے کا ای میل پیغام موصول ہوا،جس میں اس نے کہا کہ اس کا یہ پیغام میں ڈیلیٹ نہ کروں بلکہ اسے محفوظ کر رکھوں اور اس پر کسی قاتلانہ حملے ، قتل یا اس کی گمشدگی کی صورت میں کسی اور کو نہیں ملک کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
اس صحافی نے اپنے پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ خفیہ ایجنسی کے اہلکار اس کی جان کے درپے ہیں اور ان کی طرف سے اسے مسلسل سنگین نتائج کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ روپوش رہ کر اپنا صحافتی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سندھی صحافی نے مجھے اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ اس کا جرم صرف یہ ہے کہ اس نے تب کئی ماہ سے لاپتہ سندھی قوم پرست کارکن بشیر آریسر کے میرپورخاص کے قریب شدید زخمی حالت میں پھینک دیئے جانے کی خبر اپنے چینل سے نشر کی تھی۔ سندھی صحافی شاہد خاص خیلی کا جرم یہ تھا کہ اس نے گمشدہ سیاسی کارکنوں پر رپورٹنگ کی تھی اور اسی لئے خفیہ ایجنسیاں اس کی جان کے درپے ہو گئیں۔ اسی طرح کئی سندھی، بلوچ اور پشتون صحافی ایسے تشدد سے روزمرہ کی بنیاد پر گزرتے رہے ہیں۔ کئی تو جان سے گزر گئے اور کئی وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے لیکن یہ سب مقامی صحافی کہلائے۔ یہ بات اب سمجھنی چاہئے کہ کیوں پاکستان میں میڈیا کا ایک بہت بڑا حصہ سوائے حامد میر

سمیت دو چند صحافیوں اور لکھنے والوں کے گمشدہ لوگوں کے بارے میں رپورٹ نہیں کر رہا تھا۔ بالکل اسی طرح پاکستان کا ہائی پروفائل صحافی اور معروف اینکر حامد میر اس میں کوئی شک نہیں کہ خفیہ ایجنیسوں کے غیض و غضب کا نشانہ بنا ہے کہ اس نے گمشدہ لوگوں کی وکالت کی ہے۔ وہ بھی بلوچ اور سندھی گمشدہ قوم پرستوں کی۔ سیاسی کارکنوں کی، جن کی متواتر مسخ شدہ سوختہ لاشیں پھینکی جا رہی تھیں۔ حامد میر کو ایک قبائلی انتقام کی طرح نشانہ بنایا گیا ہے۔
مجھے کوئی وجہ نہیں کہ میں حامد میر کے بھائی اور تحقیقاتی صحافی عامر میر کے اس دعوے پر یقین نہ کروں کہ حامد میر کو پاکستان کی طاقتور ترین ایجنسی آئی ایس آئی نے نشانہ بنایا ہے (عامر میر جو خود نواز شریف سے لیکر پرویز مشرف تک کی سول و فوجی آمریتوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں)۔ حامد میر نے مبینہ طور پر ایسا بیان اپنے اوپر حملے سے قبل وڈیو ریکارڈ کرواکر اپنے ساتھیوں اور ادارے کے پاس چھوڑا کہ اس پر قاتلانہ حملے یا اس کے قتل ہونے کی صورت میں خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے کیونکہ حامد میر کو خبر تھی کہ بقول سندھی شاعر سرویچ سجاولی کمزوروں کی حمایت اور بھیڑیوں سے بغاوت کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے؟ نیز کون اس کے پیچھے ہوسکتا ہے؟
حامد میر وآئس آف بلوچ مسنگ پرسنز کے ماما قدیر اور گمشدہ ذاکر مجید کے بہن بانک فرزانہ مجید اور گمشدہ بلوچ ڈاکٹرکی بیٹی سمی بلوچ و دیگران کے بے نوا قافلے کو ایک زوردار آواز دینے والا اور انہیں اپنے چینل پر ٹاک شو کیپٹل ٹاک پر لے آنے والا بھی تھا۔ اس سے قبل وہ اپنے والد کی طرح بنگلہ دیش میں سنہ اکہتر میں سینہ چاکان مشرق کے ساتھ جو ہمارے پراسرار غازیوں اور بندوں نے سلوک کیا تھا اس کا سب سے بڑا نقاد بھی تھا اور بنگلہ دیش میں وزیر اعظم حسینہ واجد کی حکومت کی طرف سے ان کے والد کی مظلوم مشرقی بنگالیوں کے حق میں تحریروں کے اعتراف کے طور پر ملنے والے ایوارڈ کا وصول کندہ بھی تھا بلکہ وہ بھی اپنے والد اور حبیب جالب، سید آصف شہکار، باسط میر، ملک جیلانی اور احمد سلیم کی طرح ان گنے چنے پنجابی اہل قلم میں سے ہیں جو سابقہ مشرقی پاکستان میں پاکستان فوجی جنتا کے جنگی جرائم کو انسانی جرائم کہتا ہے۔ اسی لئے اس کی ایسی صحافت اور آواز بھی ناقابل جرم معافی بن گیا۔
بنگال کی طرح وہ بلوچستان میں فوج کشی کے سخت خلاف ہے بلکہ کئی بار اس کا اظہار کرچکا ہے کہ ’’جاگ میرے پنجاب کہ پاکستان گیا’’لیکن ظاہر کہ پنجاب جاگنے کے بجائے ایسی کسی کوشش کرنے والوں کو ہمیشہ کی نیند سلادیتا ہے۔ آخری دفعہ حامد میر سندھی قوم پرست کارکنوں کو خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے اغوا کر کے، قتل کر کے زندہ جلانے کے خلاف سخت بولا تھا۔ اب پاکستان اور ان کے قومی اداروں کو بدنام کون کر رہا ہے حامد میر کر رہا تھا یا ایسی ایجنسیاں اور ان کے اہل کار۔ بقول ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار سادہ لباس والے۔گمشدہ قوم پرست سندھی اور بلوچ کارکنوں یا پشتونوں اور اب پھر اردو بولنے والے متحدہ کے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل اور ان کی مسخ شدہ لاشوں کے پھینکنے جانے یا گمشدہ پاکستانی شہریوں پر بولنا اور لکھنا قتل اور گمشدگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور یہ آسان نہیں۔ حامد میر پر قاتلانہ حملے کے مسٹری یہ ہے کہ یہ حملہ سندھ اور کراچی میں ہوا ہے۔مجھے حالیہ دنوں میں ضلع دادو کے علاقے فریدآباد سے میرا ایک دوست متواتر پیغام بیھج رہا ہے کہ فریدآباد میں ’’نامعلوم‘‘ افراد مسخ شدہ لاشیں پھینک کر جار رہے ہیں اور یہ متواتر پھینکی جا رہی ہیں۔ ملنے والی لاشوں پر تشدد کے نشانات ہیں۔ بقول ایسے پیغام بھیجنے والے کے شکل و شباہت سے یہ لوگ تیس چالیس کے پیٹے میں اور اپنے بھیس میں بلوچ لگتے ہیں۔ میرے دوست کا کہنا ہے کہ عام قیاس آرائیاں یہ کی جار ہی ہيں کہ ملنے والی مسخ شدہ لاشیں گمشدہ سیاسی کارکنوں کی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ میڈیا اپنے نمائندے بھیجے اور وہ آکر تحقیقات کریں۔
سندھ کا فریدآباد جہاں تیل اور گيس کے ذخائر برآمد ہوئے ہیں وہاں اب اطلاعات ہیں کہ مسخ شدہ لاشیں برآمد ہو رہی ہیں۔ حامد میر ان مسخ شدہ لاوراث لاشوں کو زبان دے رہا تھا۔ اسی لیے اسے خاموش کردینے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ یہ ہر میڈیا اور اینکر کے بس کا کام نہیں کہ انہیں نہ ہمت ہے اور نہ ان کے پاس اس وقت ہے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے۔ غداری کے سرٹیفکیٹ جاری کرنے والے کئی احباب و عزیزوں اور دنیا سے دوسرے نمبر پر سب سے پرانے پیشے والوں کی تنخواہیں زیادہ تر ان کے اداروں سے زیادہ ان مقدس گائے نما اداروں میں لگی ہوئی ہیں جن کو حامد میر نے محض چھونے کی جرأت کی ہے اور وہ اچھوت کہلائے ہیں۔ بقول فراز
اپنی بود و باش نہ پوچھو
ہم سب بے توقیر ہوئے
کس کی ہے دستار سلامت
ہم ہوئے تم ہوئے میر ہوئے
فراز نے تو یہ بھی کہا تھا نہ:
آج شاعر پہ ہی قرض مٹی کا ہے
اب قلم میں لہو ہے سیاہی نہیں
آج تم آئینہ ہو میرے سامنے
پیشہ ور قاتلو تم سپاہی نہیں
کہنے لگے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کا نام حامد میر پر قاتلانہ حملے کے الزام میں کیوں لیا جا رہاہے۔ عامر میر صدمے میں ہے، جذباتی ہوگیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب ایک نواب کے قتل کے شبہے میں ملک کا پاپولر وزیر اعظم تختۂ دار تک لایا سکتا ہے تو کم از کم تحقیقات مکمل ہونے تک کیا کسی پر الزام بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ جب ایک سفیر سے تحقیقات سے قبل استعفیٰ طلب کیا جا سکتا ہے تو کسی فوجی افسر سے کیوں نہیں!حامد میر سے ہزاروں اختلافات کئے جا سکتے ہیں لیکن اس پر قاتلانہ حملہ اور اس کی کردار کشی انتہائی قابل مذمت اور بزدلانہ فعل ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جس طرح بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے سے پہلے مرتضیٰ بھٹو ختم کیا گیا تھا اسی طرح اب بھی کچھ ایسی بازی بچھائی ہے بازی گروں نے کہ اپنے ہاتھوں سے اپنی پگڑی ہوا میں اچھال کر اب بے گناہوں کے گلے میں کمندیں ڈالی جائیں۔ حامد میر کو تو آپ نے گولیاں مار لیں لیکن حامد میر نے جو اپنے پڑھنے اور سننے، دیکھنے والوں میں ایک اعتبار پیدا کیا ہے۔ جو سچ بولنے کی جرأت پیدا کی ہے اسے مارنے کو کون سی گولی ہے جو اب تک ایجاد ہوئی ہے کیونکہ خواب تو بلٹ پروف ہوتے ہیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید