• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: مولانا شکیل احمد ظفر

صفحات: 272، قیمت: درج نہیں

ملنے کا پتا: مکتبہ عثمان بن عفّان، وہاڑی، پنجاب۔

فون نمبر: 9023803 - 0306

شیخ الحدیث مولانا ظفر احمد قاسم جامعہ خالد بن ولید، وہاڑی کے مہتمم تھے۔ اُن کی ابتدائی زندگی بہت غربت و تنگ دستی میں بسر ہوئی،کم عُمری ہی میں والد اور والدہ کے سائے سے محروم ہوگئے تھے، مگر تحصیلِ علم کا شوق برقرار رہا۔ 9 ماہ میں قرآنِ پاک حفظ کیا۔ دارالعلوم کبیر والا سے درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد تقریباً19 برس تک مختلف مدارس میں تدریسی ذمّے داریاں سرانجام دیتے رہے اور پھر جامعہ خالد بن ولید کے نام سے وہاڑی( ٹھینگی کالونی) میں8ایکڑ پر پھیلے مدرسے کی بنیاد رکھی، جس کا شمار آج مُلک کے ممتاز مدارس میں ہوتا ہے۔

مولانا ظفر احمد قاسم درس و تدریس، مدرسے کی تعمیر اور انتظامی امور کی نگرانی کے ساتھ مختلف تحریکات میں بھی سرگرم رہے۔اِسی سلسلے میں تحریکِ ختمِ نبوّت کے دوران گرفتار بھی ہوئے۔ اُنھیں حضرت نفیس شاہ، مولانا عبدالمجید لدھیانوی، مولانا ناصرالدّین خاکوانی اور مفتی محمّد تقی عثمانی سے خلافت و اجازتِ بیعت بھی حاصل تھی۔ 

اُنہوں نے 2022ء میں وفات پائی۔زیرِ نظر کتاب اُنہی مولانا ظفر احمد قاسم کی ابتدائی سوانح حیات ہے کہ اِس ضمن میں تفصیلی کام ابھی جاری ہے۔ یہ سوانح حیات، مولانا شکیل احمد ظفر نے مرتّب کی ہے، جنہیں14 برس تک اپنے استاد و مربّی کی خدمت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔ کتاب کے شروع میں امامِ کعبہ شیخ علی عبداللہ، اِمام مسجدِ نبویؐ شیخ علی عبدالرحمٰن، مولانا عبدالمجید لدھیانوی، حضرت نفیس شاہ، مولانا محمّد یوسف بنوری، مولانا خواجہ خان محمّد، مولانا سلیم اللہ خان، مفتی تقی عثمانی، مولانا فضل الرحمٰن، مفتی نظام الدّین شامزئی، مولانا سمیع الحق اور دیگر علمائے کرام کے پیغامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں مولانا ظفر احمد قاسم کی دینی خدمات کی تعریف و تحسین کی گئی ہے۔ بعدازاں’’ مختصر سوانحی خاکہ‘‘ کے عنوان سے اُن کی زندگی کے مختلف پہلو اجاگر کیے گئے ہیں۔ 

پھر اُن کے معمولات و عادات کا ذکر ہے اور آخر میں منظوم نذرانۂ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ مولانا عبدالقیوم حقّانی، مولانا محمّد زاہد انور، مولانا ولی خان المظفّر اور مولانا منظور یوسف نے اپنے تاثرات میں اِس امر کی خاص طور پر نشان دہی کی ہے کہ فاضل مرّتب نے عقیدت و محبّت میں افراط و تفریط سے گریز کیا ہے اور واقعات کے اندراج میں حوالے کا خاص طور پر اہتمام کیا گیا ہے۔ یہ کتاب دراصل ایک شاگرد کی جانب سے اپنے استاد کو ایک بے مثال خراجِ عقیدت ہے۔