مصنّفین: ڈاکٹر توصیف احمد خان/ ڈاکٹر عرفان عزیز
صفحات: 316، قیمت: 1000 روپے
اہتمام: ورکرز ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن۔
فون نمبر: 8236764 - 0300
ڈاکٹر توصیف احمد خان تحقیق و تدریس کا ایک معتبر و مستند حوالہ ہیں۔سیکڑوں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کے استاد بھی ہیں۔ اِس سے قبل اُن کی تین کتب’’ پاکستان میں صحافت کی متبادل تاریخ‘‘،’’آزادیٔ صحافت کی جدوجہد میں اخباری تنظیموں کا کردار‘‘ اور’’عشق وہ کارِ مسلسل ہے‘‘ خاصی پذیرائی سمیٹ چُکی ہیں۔ آخر الذکر کتاب، راشد رحمٰن کی جدوجہدِ حیات پر مبنی ہے۔
ڈاکٹر عرفان عزیز نے بھی علمی و تحقیقی حلقوں میں کم وقت میں بہت نام کمایا ہے۔ ڈاکٹر توصیف احمد اور ڈاکٹر عرفان عزیز کی مشترکہ تصنیف ’’پاکستان میں میڈیا کا بحران‘‘اپنے موضوع پر ایک شان دار کتاب قرار پائی ہے اور اب اِن دونوں محقّقین کی نئی مشترکہ کاوش زیرِ نظر کتاب کی صُورت سامنے آئی ہے۔
اِس ضمن میں ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ’’ اِس کتاب میں مصنّفین نے تحقیق کے بعد حقوقِ انسانی کی تاریخ مختلف ادوار میں تقسیم کرکے پیش کی ہے اور ساتھ ہی اِس تحریک کے بارے میں نظریاتی بحث و مباحثے بھی شامل کیے ہیں۔ اُمید ہے، یہ کتاب پاکستان کے معاشرے میں حقوقِ انسانی کے مسئلے کو لوگوں تک پہنچا کر اُن کے شعور میں اضافے کا سبب بنے گی۔‘‘
ڈاکٹر ریاض شیخ نے کتاب کی افادیت اِس نظر سے بھی دیکھی ہے کہ’’اِس کتاب کا اِس وقت شایع ہونا انتہائی بروقت ہی نہیں، بلکہ اُن تمام سیاسی کارکنوں، سِول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے دوستوں، صحافیوں اور خاص طور پر اُن نوجوان طلبہ کے لیے بڑی اہمیت رکھتا ہے، جو انسانی اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور استحصال سے پاک سماج کا خواب دیکھتے ہیں۔
یہ کتاب انسانی حقوق، شخصی آزادیوں اور میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والے کارکنان کے حوصلے بلند کرے گی۔‘‘جب کہ حسین نقی کی رائے میں’’یہ کتاب نہ صرف زمانۂ قدیم اور مختلف مذاہب میں انسانی حقوق کے تصوّر کا احاطہ کرتی ہے، بلکہ مشرق و مغرب کے ممالک امریکا، برطانیہ، فرانس اور ہندوستان کی اُن تحریکات سے متعلق بھی آگہی فراہم کرتی ہے، جو انسانی حقوق کے ارتقا میں کلیدی حیثیت کی حامل ہیں۔‘‘
اسد بٹ کا کہنا ہے کہ’’ زیرِ نظر کتاب ایک اچھوتا خیال ہے۔ شاید ہی کسی دانش وَر یا مصنّف نے اردو زبان میں انسانی معاشرے کے ارتقاء کو انسانی حقوق کے تصوّر کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا ہو یا اِس انداز میں انسانی حقوق کی تاریخ قلم بند کرنے کی کوشش کی ہو۔‘‘
سعدیہ بلوچ کے مطابق اِس کتاب کو کالج اور جامعات کی سطح پر متعارف کروانا چاہیے اور کتاب کے ناشر، میر ذوالفقار علی کا خیال ہے کہ ’’انسانی حقوق کے ارتقا اور پاکستان میں انسانی حقوق کی صُورتِ حال سے متعلق کتاب کی تیاری اور اشاعت انسانی حقوق کی آگاہی اور اُن کے تحفّظ کی ضرورت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور یہ کتاب اِس اہم ضرورت کو پورا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔‘‘
یہ کتاب’’انسانی حقوق کا تصوّر اور ارتقاء‘‘،’’ریاست کا قیام‘‘،’’مختلف مذاہب میں انسانی حقوق کا تصوّر‘‘، ’’فطری انسانی حقوق‘‘،’’انسانی حقوق کے جدید عالمی نظام کا آغاز و ارتقاء‘‘،’’پاکستان میں انسانی حقوق‘‘، ’’انسانی حقوق سے متعلق نئے مسائل‘‘،’’انسانی حقوق کا متبادل نقطۂ نظر‘‘ اور’’ انسانی حقوق اور ہمارا ماحول‘‘ کے عنوانات سے 9 ابواب میں تقسیم کی گئی ہے اور پھر یہ ابواب مزید درجنوں ذیلی عنوانات پر مشتمل ہیں۔جیسے: ’’کسانوں، مزدوروں، عورتوں، غلاموں، بچّوں، تیسری جنس کے حقوق کی جدوجہد، لیگ آف نیشنز اور اقوامِ متحدہ سمیت مختلف عالمی ادارے، انسانی حقوق کا عالم گیر اعلامیہ، انسانی حقوق کے عالمی معاہدات، پاکستان میں انسانی حقوق کی صُورتِ حال اور تحفّظ کے ادارے، انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے سے متصادم قوانین، ٹیکنالوجی اور انسانی حقوق، نوآبادیات کے انسانی حقوق پر اثرات، اسلام، ہندومت، جین مت، بدھ مت، کنفیوشن ازم، مسیحیت میں انسانی حقوق(یہودیت کا ذکر شامل نہیں)، میڈیا ورکرز کے حقوق اور ان کا تحفّظ، مزدور تنظیمیں، عالمی تحریکات، جبری مشقّت، انسانی حقوق میں سوشلسٹ اور لبرل نظریات کی بحث۔‘‘کتاب کے دو ابواب ’’انسانی حقوق کا متبادل نقطۂ نظر‘‘ پروفیسر سہیل سانگی، جب کہ’’ انسانی حقوق اور ہمارا ماحول‘‘جسٹس فہیم احمد صدیقی کے تحریر کردہ ہیں۔
انسانی حقوق اور ان کی پامالی کا موضوع صدیوں پر محیط ہے، جسے کسی ایک کتاب میں سمونا ناممکن ہے کہ وقت کے ساتھ، اِس کی وسعت بڑھ رہی ہے، تاہم ڈاکٹر توصیف احمد اور ڈاکٹر عرفان عزیز نے اپنے تدریسی و تصنیفی تجربے کی بنیاد پر اِس کتاب میں بلامبالغہ ہزاروں برس کی تاریخ نہایت خُوب صُورتی، حُسنِ ترتیب اور جامعیت سے سمو دی ہے۔
چوں کہ اِس معاملے پر اُن کا ذہن کسی اگر، مگر کے بغیر بالکل واضح ہے، اِس لیے کتاب میں کہیں بھی کوئی جھول نظر نہیں آتا۔ کتاب کی ایک خُوبی غیر جانب دارانہ اور دیانت دارانہ اسلوب ہے، پھر یہ کہ قاری کو غیر ضروری بحث مباحثے میں اُلجھانے سے بھی شعوری طور پر گریز کیا گیا ہے۔
ایک ایسے وقت میں، جب انسانی حقوق پر بات کرنا’’ دہشت گردانہ سوچ‘‘ تصّور کی جاتی ہو اور حقوق کے تحفّظ کے داعیوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا ہی سلوک روا رکھا جاتا ہو، ایسی کتاب کا منظرِ عام پر آنا بذاتِ خود کسی تاریخی کارنامے سے کم نہیں۔ کتاب کا انتساب جسٹس دُرّاب پٹیل کے نام اِن الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے’’جنہوں نے جمہوری ریاست میں آئین کی بالادستی کے اصول کی پاس داری کرتے ہوئے 1981ء میں فوجی صدر جنرل ضیاء الحق کے احکامات کے خلاف سپریم کورٹ کی ملازمت سے مستعفی ہونے کو ترجیح دی۔‘‘