• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ترقی پسند مصنفین کے صدر، اردو، بلوچی، براہوی زبانوں کے لکھاری، پناہ بلوچ سے بات چیت
ترقی پسند مصنفین کے صدر، اردو، بلوچی، براہوی زبانوں کے لکھاری، پناہ بلوچ سے بات چیت

انٹرویو: وحید زہیر، کوئٹہ

پناہ بلوچ ایک درجن سے زائد کتب کے مصنّف اور ترقّی پسند مصنّفین کے صدر ہیں۔ مختلف سیمینارز اور تقاریب میں بلوچی ادب کی نمائدگی کا حق ادا کرتے آرہے ہیں، تاہم، ادبی اداروں اور ادب کی ناقدری پر انتہائی رنجیدہ رہتے ہیں۔

بلوچی، اردو، انگریزی، سندھی، سرائیکی روانی سے بولتے ہیں، جب کہ چار زبانوں پرمشتمل ڈکشنری بھی مرتّب کر چُکے ہیں۔ گزشتہ دنوں اُن کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی، جس کا احوال جنگ،’’سنڈے میگزین‘‘ کے قارئین کی نذر ہے۔

س: اپنے خاندان اور تعلیم و تربیت سے متعلق کچھ بتائیں؟

ج: 1971ء میں ضلع کچھی کے گاؤں، جلال ہان میں پیدا ہوا۔ پرائمری تعلیم جیکب آباد سے مکمل کرکے مِڈل اور میٹرک کے لیے ڈیرہ مُراد جمالی جانا ہوا۔ انٹرمیڈیٹ اوستا محمّد، بی اے اور ایم اے ابلاغِ عامّہ، بلوچستان یونی ورسٹی سے کیے۔2011ء میں پرسٹن یونی ورسٹی، اسلام آباد سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 

خاندانی پیشہ گزارے لائق زمین داری رہی، اس کے باوجود والد محمد ایوب پُھژ بلوچ نے واپڈا میں ملازمت اختیار کی۔ ایک بھائی، محمّد مقیم کیسکو میں ملازم ہے، محمّد داؤد کی ڈیرہ مُراد جمالی میں چکّی ہے۔ محمّد اکرم محکمۂ زراعت میں آفیسر ہیں، چھوٹا بھائی محمّد وسیم زیرِ تعلیم ہے، جب کہ مَیں بحیثیت ڈپٹی ڈائریکٹر، زرعی تحقیقاتی کاؤنسل میں خدمات سرانجام دے رہا ہوں۔ میرے بیٹے ماجد علی، فہد پناہ، سعد پناہ، بالاچ پناہ اسلام آباد کی مختلف یونی ورسٹیز میں زیرِ تعلیم ہیں۔

س: تعلیم اور ملازمت میں ہجرت کے مراحل کیسے لگے؟

ج: تعلیم مختلف شہروں میں حاصل کرنے کی وجہ کہیں تعلیمی سہولتوں میں کمی، تو کہیں قبائلی جھگڑوں کی وجہ سے رکاوٹیں رہیں۔ ملازمت تو مجبوری اور ذمّے داری ہے، کرنی ہی پڑتی ہے، خواہ جہاں بھی تعیّناتی ہو۔ باقی زندگی کے نشیب وفراز سے بہت کچھ سیکھا۔ 

میری اَن تھک محنت دیکھ کر میرے بچّوں نے بھی اچھی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ چھوٹے اور بڑے شہروں کی ناقص اور کہیں معیاری زندگی کا تجزیہ کرنے میں اُنہیں آسانی میسّر آئی، اُنہیں یہ بھی ادراک ہوا کہ ترقّی کے لیے ہجرت کے فوائد سمجھنا لازم ہے۔

نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے..... عکّاسی: رابرٹ جیمس
نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے..... عکّاسی: رابرٹ جیمس

س: آپ صحافت سے بھی وابستہ رہے؟

ج: جی ہاں۔ طالبِ علمی کے زمانے میں اخبارات کے ذریعے علاقے کے مسائل اجاگر کرتا رہا۔ کوئٹہ میں انگریزی روزنامہ’’بلوچستان ایکسپریس‘‘سے باقاعدہ منسلک رہا۔ نام وَر صحافی صدیق بلوچ(مرحوم)نے قدم قدم پر رہنمائی کی،جب کہ ایک موقعے پر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان سے بھی وابستہ رہا۔

س: آپ کی اصل شہرت بحیثیت ادیب ہے، اب تک آپ کی کتنی کتابیں چَھپ چُکی ہیں؟

ج: میری ایک درجن کے قریب کتابیں شایع ہو چُکی ہیں۔’’لاہوت لامکاں‘‘ کے نام سے ایک سفرنامہ ہے۔ بلوچی خواتین کی زندگی پر مبنی’’ بلوچ عورت تاریخی تناظر‘‘ میں مارکیٹ میں آچُکی ہے۔ اِسی طرح بلوچی ادب کی قیامِ پاکستان کے بعد کی تاریخ، اکادمی ادبیات پاکستان کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ 

اردو، بلوچی، سندھی، براہوی لغت مرتّب کرچُکا ہوں۔ درّۂ بولان کی اہمیت، حیثیت اور تاریخ پر بھی ایک کتاب لکھی ہے۔ کئی تراجم بھی کیے ہیں۔ یہ کتابیں اردو، بلوچی اور براہوی زبانوں میں ہیں۔

س: مختلف تنظیموں سے بھی آپ کی وابستگی رہی؟

ج: مَیں بلوچی اکیڈمی کا جنرل سیکرٹری رہا ہوں۔ نصیر آباد ادبی مجلس کا بانی چیئرمین ہوں اور اِس وقت ترقّی پسند مصنّفین، اسلام آباد کا صدر ہوں۔

س: اِتنے کام کیسے کر لیتے ہیں؟

ج: مَیں سوتا کم، جاگتا زیادہ ہوں۔ طالبِ علمی کے زمانے ہی سے تنظیمی حوالوں سے مُلک بَھر میں گھومتا رہا اور جس جس حیثیت میں جہاں جہاں کام کیا، اُسے چیلنج سمجھ کر کیا۔ 

بلوچستان میں مخدوش حالات کے باوجود بلوچی اکیڈمی کے زیرِ اہتمام انٹرنیشنل سیمینارز منعقد ہوئے۔ مَیں نے نصیر آباد اور دیگر شہروں میں فیسٹیولز کروانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

س: بلوچی اکیڈمی کب قائم ہوئی اور اس کے اغراض و مقاصد کیا ہیں؟

ج: یہ اکیڈمی 1961ء میں قائم ہوئی اور اب تک اس کے زیرِ اہتمام600کے قریب اہم کتب شائع ہوچُکی ہیں۔ نایاب کتب کی اشاعت کے علاوہ تمام اضافِ ادب میں جدید تقاضوں کے مطابق تحقیقی و تخلیقی کام ہوا۔ پہلی مرتبہ ایک ضخیم اردو، بلوچی ڈکشنری مرتّب کی گئی ہے۔

نیز، اردو، بلوچی اور براہوی زبان میں کلاسک ادب کے تراجم کیے گئے ہیں۔ بلوچی زبان دنیا بَھر میں جہاں جہاں بولی جاتی ہے یا یوں کہیں کہ دنیا بَھر کے کتب خانوں میں اِس ادارے کی کتابیں موجود ہیں۔ جن کالجز اور یونی ورسٹیز میں یہ زبان پڑھائی جاتی ہے یا تحقیق کا کام ہوتا ہے، اکیڈمی کی کتب اُن کی دسترس میں ہیں۔

س: لوک وَرثہ، اکادمی ادبیات، ریڈیو، ٹی وی اور بے شمار ادبی اداروں کے باوجود بعض زبانوں کے معدوم ہونے کا خطرہ کیوں ہے؟

ج: یہ ادارے نہ ہوتے، تو یقیناً بعض زبانیں اب تک معدوم ہوچُکی ہوتیں۔ اِن اداروں نے زبانوں کی ترقّی کے لیے کام تو کیا ہے، مگر جب تک مادری زبانوں میں بنیادی تعلیم کو ایک مضمون کے طور پر نصاب کا حصّہ نہیں بنایا جاتا، زبانوں کے معدوم ہونے کی تلوار لٹکتی رہے گی۔ 

بلوچستان میں اِس وقت ادبی اداروں کو مناسب فنڈز مہیّا نہ کرنے، پی ٹی وی اور ریڈیو کی غیر فعالیت، کالجز اور یونی ورسٹیز میں اساتذہ کی تن خواہوں کی عدم فراہمی جیسے مسائل پریشانی کا باعث ہیں۔ محض چند سیمینارز، کبھی کبھار اہلِ قلم کانفرنسز یا فیسٹیولز کے انعقاد سے علمی و ادبی ذمّے داریاں پوری نہیں ہوتیں، اس کے لیے مستقل بنیادوں پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔

س: ادبی اداروں اور ادیبوں کو قریب کیسے لایا جاسکتا ہے؟

ج: سب سے پہلے تو ادیبوں یا کتابوں پر غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں۔نیز، پبلشرز کو کاغذ سمیت ہر سطح پر آسانیاں دی جائیں کہ چھپائی کو درپیش مشکلات کی وجہ سے کتابیں منہگی ہوتی جا رہی ہیں۔ کاغذ منہگا ہونے کی وجہ سے اِس وقت اخبارات کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ 

علم و ادب اور صحافت کو صنعت کا وہ درجہ حاصل نہیں رہا، جس سے عوام کا تعلق جُڑ سکے۔ جو شعبہ مُلک میں بے گانگی کا خاتمہ کر سکتا ہو، عوام کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہو، لوگوں کو بڑے پیمانے پر روزگار مہیّا کرتا ہو، زرِ مبادلہ کمانے کا ذریعہ بنتا ہو، اُس کی ایسی بے قدری پر افسوس تو ہوتا ہے۔

س: حکومت کو ادب سے کیا مسئلہ ہے؟

ج: حکومتیں بلاوجہ کتاب اور قلم سے خوف زدہ ہیں، یہ خوف تو بادشاہوں کو ہوا کرتا تھا۔ اُن کے زمانے میں اگر سوشل میڈیا ہوتا، تو شاید وہ سوشل میڈیا کی بے ترتیبی سے بچنے کے لیے اس صنعت کو زیادہ سے زیادہ فروغ دیتے، جیسا کہ اب بعض ممالک میں دیا جارہا ہے۔ 

باقی سیاسی معاملات اور جمہوریت کے حوالے سے ہمارے ہاں جن خطرات کی بات کی جاتی ہے، اُن میں علم و ادب کو خوا مخواہ گھسیٹا جاتا ہے، حالاں کہ سب جانتے ہیں کہ ان مسائل اور مشکلات کی وجوہ کچھ اور ہیں۔ بہرحال، جدید ٹیکنالوجی اور تیز رفتار ترقّی کے لیے علم و ادب کا فروغ انتہائی اہم ہے۔

س: زبانوں میں ہم آہنگی کیسے پیدا ہوسکتی ہے؟

ج: مختلف زبانوں اور اُن کے بولنے والوں کا احترام سب سے اہم ہے۔ بلوچستان کی طرح دیگر صوبوں میں بھی مختلف زبانیں بولنے والوں کو علمی و ادبی منصوبوں کا حصّہ بنایا جائے۔ دیکھیں،جرائم کی کوئی زبان نہیں ہوتی۔ حسد، تعصّب، انتشار سب سے بڑھ کر بدعنوانی میں علم و ادب کے کردار کو کوئی کیسے منفی ثابت کرسکتا ہے۔ دنیا بَھر میں ادب کو فروغ دے کر قومیں اپنا مقام بلند کررہی ہیں۔ 

علم و ادب نہ صرف درس وتدریس کی بنیاد ہے، بلکہ آج تو فلم، مصوّری، ثقافت، سیّاحت کے فروغ اور اس سے وابستہ تجارت کے ان سہاروں کو دنیا بھر میں اہمیت دی جارہی ہے۔ جہاں علم و ادب ہے، وہاں تخلیقی صلاحیتیں بھی مثالی ہیں۔ یہ شعبہ ذہن کی کنجی کہلاتا ہے، ایسا ہوگا، تو زبانوں اور زبان بولنے والوں میں ہم آہنگی پیدا ہوگی۔

س: اب تک کون کون سے ایوارڈز حاصل کر چُکے ہیں؟

ج: حکومتِ بلوچستان کی جانب سے مجھے ایکسی لینس ایوارڈ دیا گیا۔ ادارۂ ثقافت بلوچستان کی جانب سے کتابوں پر مست توکّلی ایوارڈ کے علاوہ علّامہ اقبال ایوارڈ اور بعض دیگر تنظیموں کی جانب سے بھی ایوارڈز ملے ہیں۔

س: کبھی بیرونِ مُلک بھی جانا ہوا؟

ج: 2015ء میں قلم کاروں کے ایک وفد کے ساتھ چین کا ادبی دَورہ کیا تھا، جس میں دیگر صوبوں کے قلم کار بھی شامل تھے۔

س: بلوچی ادب کا مستقبل کیسا لگ رہا ہے؟

ج: بلوچی ادب میں اداروں کے علاوہ انفرادی طور پر بھی بے شمار ادیب کام کر رہے ہیں، جیسے کہ نام وَر ناول نگار، منیر بادینی اب تک تقریباً126 ناول لکھ چُکے ہیں اور بھی بہت سے ادیب ہیں۔ اخبارات و رسائل چَھپ رہے ہیں۔ موسیقی، فلم اور ڈراما بھی اس کا حصّہ ہیں۔ 

مکران کے نوجوان فلمیں بنا رہے ہیں۔ بلوچی موسیقی کے پروموٹرز موسیقی کے فروغ اور فن کاروں کی خدمات کے اعتراف میں بڑے بڑے پروگرامز تربیت دے رہے ہیں۔ بلوچی اکیڈمی کے زیرِ انتظام گوگل تک رسائی، کتب خانوں کے قیام اور اسکالرز کے لیے تحقیقی جرنل کی چَھپائی جیسے اہم کام دیکھ کر ایک گونا اطمینان ملتا ہے۔

س: بحیثیت صدر ترقّی پسند مصنّفین، ادبی بکھراؤ کو کیسے سمیٹیں گے؟

ج: میری کوشش اور خواہش ہے کہ مُلک بَھر کے ادیب مِل جُل کر کام کریں۔ ماضی کے اختلافات اور غلط فہمیوں کا کسی نہ کسی طرح ازالہ ہو۔ علم و ادب کو دوبارہ فروغ ملے۔ادیب معاشرے میں ماضی کی طرح ایک بار پھر اپنا کردار ادا کریں۔ رسائل اور ادبی جرائد پڑھنے، لکھنے لکھانے کے ماحول کو عوام میں دوبارہ مقبول بنایا جائے۔ 

سوشل میڈیا کی بے ترتیبی کو ختم کرنے کے لیے شعر و ادب کا ذائقہ توجّہ حاصل کرسکے۔ سب سے بڑھ کر ہر سطح پر بے اعتباری کا خاتمہ ہو۔ہم جب تک شعروادب کی زبان میں بات نہیں کریں گے، عوام کی تلخیاں زائل نہیں ہوں گی۔ اسمبلیوں سمیت مختلف فورمز پر گالم گلوچ کی بجائے خُوب صُورت محاوروں، اشعار اور اقوالِ زرّیں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار ہو۔ فکری بنیادوں پر مباحثے ہوں اور دوسروں کو قائل کرنے کے لیے لاتعلقی کا خاتمہ ہو۔

س: کیا آپ کے دوسرے صوبوں کے ادبیوں سے بھی روابط ہیں؟

ج: ذاتی حیثیت میں ہیں، لیکن اب ارادہ ہے کہ مختلف صوبوں کے ترقّی پسند مصنّفین سے ملا جائے اور اُنہیں مِل جُل کر کام پر آمادہ کیا جائے تاکہ علم وادب کے خلاف سازشیں روکی جاسکیں۔ ترقّی کو انسانی اقدار کے ساتھ جوڑنے کی سعی کی جائے، دنیا بَھر میں معصوم انسانوں پر ہونے والے مظالم پر لکھا جائے۔

س: ادب اور سیاست کی راہیں الگ کیوں ہو رہی ہیں؟

ج: ادب ہی سے سیاسی فکر پختہ ہوتی ہے، تمام ممالک میں بیک وقت کئی زبانیں بولی جاتی ہیں اور مذہب کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارے ہاں لسانی اور مذہبی تفرقہ بازی سے ہر سطح پر سماجی تنزّلی ہوئی ہے۔ ہمیشہ سیاست اور ادب کا رشتہ ٹوٹنے سے فکری ناپختگی کا مسئلہ درپیش رہا ہے۔ 

جب تک ادب اور ادیب کو سنجیدہ نہیں لیا جاتا، قومی مسائل کا ادراک نہیں ہوسکتا اور نہ ہی کسی سطح پر رسّہ کشیوں سے نجات مل سکتی ہے۔ ادب سچ کا سامنا کرنے اور جھوٹ سے پرہیز کی عادت ڈالتا ہے، لہٰذا قلم کے سچ اور اس سے جڑی سچّائی ہی سے نجات کا راستہ نکلتا ہے۔