ہم سب اکثر بھول جاتے ہیں کہ ہم سب اپنی اپنی پابندیاں اور حد بندیاں لیکر پیدا ہوتے ہیں۔ جو لوگ اپنی حدود سے واقف ہوتے ہیں، اپنی اپنی حدود سے آگاہ ہوتے ہیں وہ لوگ اپنی عمر ان حدود کے اندر رہتے ہوئے اطمینان سے گزاردیتے ہیں۔ دیکھا دیکھی وہ آسمانوں پر کمند ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ ناممکن کو ممکن بنانے کی سعی میں اپنی زندگی اجیرن نہیں کرتے۔
تھپیڑوں میں ڈوبتے ابھرتے وہ سیکھ جاتے ہیں کہ ان کی اپنی حدود طے ہیں۔ وہ اپنی حدود کو پار نہیں کرسکتے۔ اوسان بولٹ کی طرح ہر شخص ایک سو میٹر نو سیکنڈز کے اندر نہیں دوڑ سکتا۔ آپ ہمالیہ کو ہلا نہیں سکتے۔ بریانی چاہےکتنی لذیذ کیوں نہ بنی ہو، آپ بریانی کی پوری دیگ نہیں کھا سکتے۔ سنا ہے کہ گاما پہلوان، رستم زمان جھٹکے سے پانچ سو کلو وزن ایک ہاتھ سے اٹھا سکتا تھا۔ ایسا کوئی کام ہم اور آپ خواب میں بھی نہیں کرسکتے۔ بروجن داس پہلے ایشیائی تھے جو فرانس سے انگلینڈ تک انگلش چینل تیر کر پہنچے تھے۔ یہ بروجن داس کا عالمی ریکارڈ ہے۔ بروجن داس چھ مرتبہ انگلش چینل تیر کر انگلینڈ سے فرانس اور فرانس سے انگلینڈ پہنچے تھے۔ یہ بھی ان کا عالمی ریکارڈ ہے۔ حیرت انگیز کارنامے بروجن داس نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سرانجام دیئے تھے۔ بروجن داس خود تاریخ تھے۔ آپ اور میں تاریخ میں ردوبدل نہیں کرسکتے۔
اگر کبھی آپ نے تاریخ سے کھلواڑ کرنے کی کوشش کی تو پھر یہ آپ کی کھلواڑ آپ تک محدود رہے گی۔ بروجن داس نہ ہندوستانی تھے۔، نہ ہی وہ بنگلہ دیشی تھے۔ وہ پاکستانی تھے۔ انہوں نے حیرت انگیز کارنامے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں کرکے دکھائے تھے۔ اس وقت تک ہم نے پاکستان توڑا نہیں تھا۔ یہ بات میں نے تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے لکھی ہے۔ میں واضح کر دوں کہ پاکستان توڑنے اور بنگلہ دیش بننے میں بہت بڑا حصہ ہم مغربی پاکستان والوں کا تھا۔ بے نیازی کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ کسی مغربی پاکستان والے کو یاد تک نہیں کہ بنگلہ دیش کبھی مشرقی پاکستان تھا اور چوبیس برس ہم ایک ہی ملک کے دو حصے تھے۔ آپ کچھ بھی کرڈالیں۔ بورجن داس پاکستانی تھا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ہندو تھا۔ اور اس نے عالمی ریکارڈ بنائے تھے۔ آپ بروجن داس کو اپنا کہنے سے انکار نہیں کرسکتے۔ بروجن داس تاریخی حقیقت ہے۔ اور تاریخی حقیقت کے آپ منکر نہیں ہوسکتے۔ آپ کو بروجن داس کو قبول کرنا پڑے گا۔ آپ کو بروجن داس پر فخر کرنا پڑے گا۔ آپ تاریخ سے نہیں لڑسکتے۔
لوگوں نے تاریخ سے لڑنے اور تاریخ سے بدلہ لینے کے آسان طریقے تلاش کرلئے ہیں۔ آپ کو کدالیں اور بیلچے اٹھانے نہیں پڑتے۔ ساتھیوں کو جنونی رکھنے کے لئے نئے پرانے نعرے لگانے نہیں پڑتے۔ کسی کی عبادت گاہ کو ملیامیٹ کرنے کے لئے آپ کو عبادت گاہ کی بنیادیں اکھاڑنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ آپ تاریخ کا ستیاناس بڑی خاموشی سے کر گزرتے ہیں۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ ہم بڈھے کھوسٹوں کو چپ کرانے کے لئے ان کے پاس نایاب دلائل ہوتے ہیں۔ کہتے ہیں ، آپ کی پیدائش چونکہ غلامی کے دور میں ہوئی تھی اسلئے آپ آزادی اور اس کے منطقی اثرات سے واقف نہیں ہیں۔ ہم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے ہیں، اسلئے ہم تاریخ میں ردوبدل کا حق رکھتے ہیں۔ اور پھر آزادی کے بعد پیدا ہونے والوں نے وہ کچھ کر دکھایا کہ جو کسی کے خواب و خیال میں نہیں تھا۔ اسلئے ہندوستان میں تاج محل کو مندر سمجھنے اور کہنے والوں کی سوچ پر مجھے تعجب نہیں ہوتا۔ ایسی انوکھی سوچ رکھنےوالوں کی دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان میں کمی نہیں ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والوں میں دونوں ممالک خود کفیل ہیں، کوئی وجہ تو ہے کہ دونوں ممالک چھہتر ستتر برسوں میں ایک رات سکھ کی نیند سونے سے محروم رہے ہیں۔ لگاتار جاگتے رہنے سے دونوں ممالک چڑچڑے رہتے ہیں۔ کبوتروں اور بطخوں میں ان کو ایک دوسرے کے جاسوس دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں ممالک تاریخ سے کھلواڑ کرنے کی سزا بھگت رہے ہیں۔
کراچی میں تاریخ کے منکروں نے رام باغ کے شروع میں الف کا اضافہ کرکے اسے آرام باغ بنا دیا تھا۔ تاریخ کے ہندوستانی منکروں نے لکھنؤ میں مغل دور کے بنے ہوئے آرام باغ سے الف اخذ کر کے رام باغ بنا دیا۔ کراچی میں بندر روڈ پر ایک چھوٹا سا پارک ہوا کرتا تھا۔ اور اب بھی ہے۔ چھوٹے سے پارک کا نام تھا۔ شوجی پارک۔ ایم اے جناح روڈ کا تاریخی نام تھا بندر روڈ۔ اپنے دور میں بندر روڈ کراچی کا سب سے بڑا، معتبر اور صاف شفاف روڈ تھا، کیماڑی سے ٹکری یعنی مزارقائد تک بنا ہوا انگریزوں کا بڑا کارنامہ تھا۔ سمندر کے نمکین پانی سے آپ تعمیراتی کام نہیں کرسکتے۔ دریائے سندھ کراچی سے چالیس میل پہلے سمندر میں جاگرتا ہے۔انگریز نے ڈملوٹی کے قریب پانچ کنویں بنوائے اور دریائے سندھ کا پانی مشینوں اور پائپوں کے ذریعے کراچی لایا گیا جس سے کراچی کا شہر بنا۔ بندر روڈ بنا۔
بندر روڈ پر مولو مسافر خانہ کے سامنے خوبصورت چھوٹا سا شوجی پارک تھا۔ تاریخ کے دشمن دھوکہ کھا گئے۔ انہوں نے شوجی پارک کو شیوا جی پارک سمجھا۔ انہوں نے شوجی پارک کا نام تبدیل کرکے اورنگزیب کے دیرینہ دشمن شیوا جی کو شکست دی اور پارک کا نام رکھا اورنگزیب عالمگیر پارک۔ کراچی میونسپل کارپوریشن اور مہٹہ پیلس کے بعد کراچی کی سب سے زیادہ خوبصورت ڈی جے سائنس کالج کی عمارت ہے، دیارام جیٹھ مل کالج، تاریخ کے دشمنوں نے دیارام جیٹھ مل کالج کا نام تبدیل کرکے دور جدید کالج رکھنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ناکامی کے بعد ان سے اور کچھ تو نہیں ہوسکا، تاریخ کے دشمنوں نے کالج میں سنگ مرمر کے سلیبوں پر کالج کو بنوانے والے نامور لوگوں کے ناموں پر کالک پھیر دی ہے تاکہ نام پڑھنے میں نہ آئیں۔ ان ناموں میں زیادہ تر نام انگریز، ہندو اور پارسیوں کے ہیں۔ نام مٹانے سے آپ تاریخ کو مٹا نہیں سکتے۔ آپ کیسے ثابت کرو گے کہ ڈی جے کالج سو سال پہلےنہیں، بلکہ انیس سو سینتالیس کے بعد آپ نے بنوایا تھا۔