• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ کالم میں بلوچستان کے حوالے سے کچھ گزارشات کی تھیں۔ کچھ احباب نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس پر مزید گفتگو ہو، خاص طور پر اس تصور پر کہ بلوچستان میں مسلح کارروائیاں کرنیوالے عناصر کے سرپرستوں کے ذہن میں کیا کوئی اور بھی منصوبہ بندی ہو سکتی ہے اور اس زمینی حقیقت کے ا ظہر من الشمس ہونے کے باوجود کہ وہ پاکستان کی جغرافیائی سالميت کو گزند نہیں پہنچا سکتے مگر پھر بھی خون آلود کرنے پر گامزن ہیں، آخر ہدف کیا ہے؟ اور یہ تصور کہ ہدف کوئی اور ہے یا ہو سکتا ہے، آپ کیوں سمجھتے ہیں؟ بات واضح ہے کہ کوئی بھی ہوش مند رہنما ایسی کوئی حکمت عملی اختیار نہیں کرتا جو اس کے حامی افراد کو لا حاصل مشقت میں ڈال دے۔ بلوچستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس میں حالات کو خراب کرنے کی کوشش کے حوالے سے اقدامات سے مقاصد حاصل کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جاتی رہی ہے۔ اور اس کی تاریخ آزادی کے وقت سے ہی اس حوالے سے واضح نظر آتی ہے۔ انڈیا آزادی کے ساتھ ہی حیدر آباد دکن کی ریاست کو بھارت میں ضم کرنے کیلئے باؤلا ہوا جا رہا تھا مگر اس کو فوجی کارروائی کا کوئی موقع ميسر نہیں آ رہا تھا حالانکہ یہ ایک طے شدہ حقیقت تھی کہ حیدر آباد دکن یا کوئی بھی دیسی ریاست نو آبادیاتی دور کے خاتمے کے بعد اپنی نام نہاد خود مختاری کو برقرار نہیں رکھ سکےگی۔ وی پی مینن انڈیا کے سیکرٹری آف اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ تھے اور انکے حوالے سے آل انڈیا ریڈیو نے یہ خبر 27مارچ 1948ءکو نشر کی کہ خان آف قلات نے انڈیا میں شمولیت کیلئےدرخواست کی تھی جو مسترد کر دی گئی ہے۔ یہ شوشہ صرف اسلئے چھوڑا گیا تھا کہ پاکستان جلد بازی یا گھبراہٹ کے عالم میں قلات پر کوئی فوجی کارروائی کردے اور انڈیا کو حیدر آباد دکن پر فوجی کارروائی کا جواز مل جائے کہ اگر ایک دیسی ریاست کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو دوسری کے ساتھ کیوں نہیں؟ یہ خبر نشر کرنے کے حوالے سے معروف بلوچ مؤرخ میر گل خان نصیر کہتے ہیں کہ یہ سفید جھوٹ تھا۔ اس سفید جھوٹ کے اتنے گہرے اثرات مرتب ہوئے کہ خان آف قلات کو فوری طور پر خود انڈیا کےاس دعوے کی تردید کرنا پڑی ، اس مختصر سی گفتگو سے بات واضح ہوجاتی ہے کہ انڈیا کے مقاصد میں بلوچستان نہیں تھا مگر بلوچستان کے نام کو استعمال کر کے انڈیا اور مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ جب ون یونٹ قائم کیا گیا تو بجا طور پر بلوچ عوام میں اس بات کا احساس پیدا ہوا کہ ون یونٹ کے قیام سے کہیں ان کی تہذیب و ثقافت کو گزند نہ پہنچ جائے۔ پھر افسرشاہی کا رویہ دورِ نو آبادیات کی مانند ہی تھا۔ خیال رہےکہ افسر شاہی کے رویہ کی شکایات صرف بلوچستان تک محدود نہیں تھیں، مسئلہ پورے پاکستان کا تھا بلکہ آج بھی ہے مگر بلوچستان میں غیر بلوچ افسران کی وجہ سے یہ تاثر قائم ہوا کہ ان افسران میں علاقائی تعصب بھی موجود ہے ۔ ان حالات میں 17دسمبر 1957کو قلات میں بلوچ سرداروں کا جرگہ ہوا جنہوں نے ایک چھ نکاتی میمورنڈم خان آف قلات کو پیش کیا۔ خان آف قلات نے 44 رکنی وفد کی ملاقات کا بندوبست صدر اسکندر مرزا سے کیا اور اس ملاقات میں صدر اسکندر مرزا نے یہ بھانپ لیا کہ اگر ان کی بات نہ سنی گئی تو بلوچ علاقے شورش کا شکار ہو جائینگے۔ اسکندر مرزا اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اگر 1956ءکے آئین کے تحت عام انتخابات منعقد ہو گئے تو وہ صدر کے عہدے پر براجمان نہیں رہ سکیں گے اور وہ ہر قیمت پر عہدہ بچانا چاہتے تھے ۔ بلوچستان کی بے چينی میں ان کو اپنی کامیابی نظر آنے لگی اور ميمورنڈم میں پیش کئے گئے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کو بڑھاوا دے کر وہ 1956ءکے آئین سے جان چھڑا کر مارشل لا نافذ کرنے کی حکمت عملی تیار کرنے لگے۔ قصہ کوتاہ 1958ءتک حالات کو جان بوجھ کر اس حد تک خراب ہونے دیا یا خراب ظاہر کیا گیا کہ قلات میں فوجی آپریشن کر ڈالا ، مارشل لا تو لگ گیا مگر در حقیقت اس مارشل لا کے پہلے شکار خود اسکندر مرزا بنے۔ خان آف قلات کے بیٹے پرنس یحییٰ راوی ہیں کہ خان آف قلات نے قائد اعظم سے کہا تھا کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی نہیں کھڑا ہوگا تو ہم کھڑے ہونگے، پرنس یحییٰ نے خان آف قلات کو انگریز کی ایک پیش کش کا ذکر کیا ہے کہ انگریز نے ان کے والد کو آفر کی تھی کہ آپ ہمیں بندر گاہ، پسنی اور کوئٹہ چھاؤنی دے دیں تو آپ اردن کی طرح ایک آزاد ملک ہونگے مگر خان نے ان سے کہا کہ ہمیں اردن نہیں چاہئے ہم ایک ملک بنا رہے ہیں ۔ پرنس یحییٰ یہ بھی کہتے ہیں کہ میرے والد کی انگریز کی نظر میں اچھی حیثیت تھی مگر جب انہوں نے پاکستان کی بات کی تو وہ انگریز کی بلیک لسٹ میں آگئے۔ خان آف قلات میر احمد یار خان کے بیٹے کی گواہی خان آف قلات کے پاکستان کے حوالے سے خدمات کو واضح کر دیتی ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ انڈیا میں تاج برطانیہ کے ماتحت دیسی ریاستوں کے معاملات بہت پیچیدہ تھے ان میں اپنے حوالے سے مختلف تصورات قائم تھے جن کا استعمال ابتدا سے ہی شروع ہو گیا تھا ۔ انگریز کے چلے جانے کے بعد ان تمام ریاستوں کا انضمام کوئی اگلے ہی دن پاکستان یا انڈیا سے نہیں ہو گیا تھا۔ اس میں مختلف وقت لگا مگر اس وقت کو ایسے بیان کرنا جیسے یہ کوئی علیحدہ سے آزادی تھی معاملات سے ناواقفيت یا جان بوجھ کر شرارت پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔ القصہ، وی پی مینن کا سفید جھوٹ ہو یاا سکندر مرزا کی حکمت عملی کے ون یونٹ سے پیدا ہوئی شکایات کو رفع کرنے کی بجائے معاملات خراب ہونے دیے جائیں صرف حالات کے اپنے حق میں استعمال کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ اس وقت بھی تجزیہ صرف اس کا کرنا چاہئے کہ حالات کو خراب کرکے کون اور کیا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فوائد کوئی غیر ملکی طاقت اٹھانا چاہتی ہے، اس کے ساتھ کوئی ملک میں موجود طاقت فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور کیا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے؟ جب ہم اس ’’کیا‘‘ کا جواب حقیقت میں حاصل کرلیں گے تو ’’اس کو کیسے روکنا ہے‘‘ کے سوال کا جواب بھی تلاش کر سکیں گے۔ اور اگر اس ’’کیا‘‘ کو نہ سمجھ سکے تو پھر صرف چند خواتین کے دھرنے کو بھی عالمی خبر بننے سے نہیں روک سکیں گے۔

تازہ ترین