• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید، خوشی 'ایثار اور محبت کی علامت ایک ایسا تہوارہے جس کے ساتھ مبارک کا لفظ ہمیشہ کیلئے جڑ گیا ہے لیکن اس سے جڑے جوش و خروش اور شادمانی کی کیفیت ماند پڑ گئی ہے۔ہم سب نے اپنی یاد کی پوٹلی میں بچپن کی عید کا جو منظرنامہ سنبھال رکھا ہے وہ زیادہ خوبصورت ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ہم مصنوعی زندگی کے قیدی نہیں تھے۔بھلا اونچی فضا میں اڑتے پرندوں کو صیاد کی چالوں اور جالوں سے کیا خوف۔ ہم اپنی پوری توانائی سے جینا جانتے تھے ، کھل کر اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے تھے۔حالات و واقعات کی بے معنی فکرمندی پالنے کے بجائے اپنے خیالوں میں بولنے والا خوشی کا طوطا پالتے تھے۔اس سے ہماری باتیں سن کر پوری رت کھلکھلا اٹھتی تھی۔

نئے کپڑوں اور جوتوں کا تصور خوابناک ہوتا تھا۔عیدی کے سِکے قارون کے خزانے سے بھاری محسوس ہوتے تھے، گھر میں پکنے والے پکوان بانٹنے کی عجب سرشاری ہوتی تھی۔ عید کے موقع پر سجنے والی خاص دکانوں کی مٹھائیاں اور کھلونے بہت بھلے لگتے تھے اور سب سے زیادہ خوش کن اپنے ابا اماں اور بہن بھائیوں کے ساتھ قریبی علاقے میں روایتی میلے میں شرکت ہوتی تھی جہاں قسم قسم کے جھولے ، سرکس اور کھابے دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔ پھر وہ بھاگ دوڑ ،ہلا گلا،رونق میلے میڈیا کی چمتکار کی نذر ہو گئے۔

رفتہ رفتہ نہیں ایک دم ہی رت بدل گئی۔ہم بڑے اپنے بچوں کو عید میلوں میں لے جانے کے بجائے ان کے ہاتھوں میں کسی کھیل کا ریموٹ دے کر خود ٹیلی وژن اسکرین کے سامنے جامد ہونے لگے۔ رشتہ داروں کے گھر آنے جانے کے بجائے سو کر عید گزارنے کا دور آیا تو عید بھی اپنے رنگ ترنگ اٹھا کر ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ گئی۔

اگر غور کیا جائے تو دو تین وجوہات ایسی ہیں جو ہمیں عید کے خوش رنگ ہنگاموں سے دور کرنے کا باعث بنیں ان میں ایک تو ہماری تساہل پسندی کی عادت ہے جسے ہم نے خود پر حکمرانی کا درجہ دے رکھا ہے ، دوسرا خوشی اور غم سے بے نیاز ہو کر مصنوعی زندگی گزارنے کی عادت ہے جسے رفتہ رفتہ اپناتے ہوئے ہم اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ کوئی حادثہ ہمیں رلاتا ہے نہ خوشخبری ہنساتی ہے۔

تیسرا ہم نئے کپڑے جوتوں سے جڑی خوشی کی طرح رنگوں اور موسموں سے جڑے ذائقوں سے بھی ناطہ توڑ کر ایک جیسی فضا کے عادی ہو چکے ہیں۔ ہم نے حیران ہونا چھوڑ دیا ہے حیرانی میں چھپی خوشی نرالے احساس سے لبریز ہوتی ہے۔ حیرانی کا عنصر ہمیں چہکاتا اور متحرک کرتا ہے۔ہماری بہت ساری بیماریوں کا سبب ہماری خاموشی تنہائی اور تساہل پسندی ہے ، روح کے تمام دکھ ہماری ذات کی الجھنوں اور فطرت سے دوری کے سبب ہیں۔جس طرح آسمان پر اڑنے والے پرندے کو پنجرے میں قید کرکے کمرے میں رکھ دیا جائے۔ ہم نے وجود کو خود ایک محدود پنجرے میں بند کیا ہوا ہے ، جس کے چہکنے اور ہنسنے رونے پر پابندی عائد ہے ،دل کھول کر ہنسنے سے ہمارے بہت سے زنگ آلود پرزے زنگ جھاڑ کر کھلکھلا اٹھتے ہیں ،رونے سے نہ صرف ہمارے اندر کی دھلائی ہوتی ہے بلکہ نظر کے سامنے کا منظر بھی شفاف ہو جاتا ہے۔آئیے یہ عید بچوں کی طرح منا کر دیکھیں ان کی طرح خوش ہوں ،ان کی طرح بے وجہ ہنسیں قہقہے لگائیں ، کھیلیں ،روٹھیں اور پھر مّن جائیں۔

عید ہمارا مذہبی ہی نہیں ثقافتی تہوار بھی ہے ہمیں اس کو دونوں حوالوں سے زندہ رکھنا اور بھرپور بنانا ہے ،پچھلے کچھ سال سے عید کے موقع پر بڑے شہروں میں بھی خصوصا عید میلے لگنا شروع ہوگئے ہیں جن میں بچوں کی پسند کے جھولے ، کھلونےاور بہت کچھ ہوتا ہے لیکن گاؤں کی عیدیں ماند پڑ گئی ہیں ، وہاں نہ اب پہلے والی عید کی رونقیں ہیں نہ جدید الیکٹرانک جھولے۔گاؤں میں بھی عید کے رنگوں کو برقرار رکھنے کیلئے اہل گاؤں کو کوشش کرنی چاہئے۔درختوں پر رسے کی پینگوں کے گرد لڑکیوں کے ہجوم والا دلکش منظر زندہ رہنا چاہیے ، پینگ کی اپنی خوبصورتی اور لطف ہے جو انسان کو پرندے کی طرح ہوا میں اڑاتی اور خوشیوں سے سرشار کرتی ہے، خاندانوں کا مل کر عید منانے کا اپنا حسن ہے۔ بچوں اور بڑوں کی محفلوں کے رنگ توانائی سے بھرے ہوتے ہیں۔ہمیں صرف خوراک اور دوائیاں توانائی نہیں دیتیں اپنوں کا احساس قربت، خوشی اور توانائی بھی دیتا ہے۔آئیے عید کے تین دن روٹین کی زندگی گزارنے کی بجائے کچھ الگ کرنے کا سوچیں ، خاندان کے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور خود بھی کچھ وقت کیلئے بچے بن جائیں۔سارے دکھ درد ہوا میں اڑا کر اپنے وجود کو ہلکا پھلکا کر لیں۔

تازہ ترین