ڈی آئی جی کوئٹہ اعتزاز احمد گورایہ کا کہنا ہے کہ ریاست کی طرف سے اجازت نہیں کہ سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا جائے، احتجاج حق ہے، مگر عوامی گزرگاہ کو بند کرنا، املاک کو نقصان پہنچانا کسی کا حق نہیں۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا تھا کہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹرین حملے کے بعد آپریشن میں دہشت گردوں کو مارا گیا، پانچ لوگوں کی لاشیں سول اسپتال لائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ لاشوں کی شناخت اور لینے کا حق ورثاء کا ہے، بی وائی سی کے لوگ اسی رات لاشیں لینے پہنچے، اسپتال انتظامیہ کو مار پیٹ کے لاشیں وہاں سے اٹھائی گئیں۔ لاشوں کو راستے میں روکا گیا اور واپس لایا گیا۔
انکا کہنا تھا کہ بی وائی سی کی جانب سے دو لاشوں کے ساتھ پھر دھرنا دیا گیا، پُرامن احتجاج کا کہا تھا، سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے، آپٹک فائبر کو جلایا گیا۔
ڈی آئی جی کوئٹہ نے کہا کہ یہ سب کچھ 19 مارچ کو ہوا کہ جس دن صدر مملکت کوئٹہ تشریف لائے تھے۔ ایک بچہ آئس کریم بیچتا تھا، جس کی لاش کے ساتھ دھرنا دیا گیا۔
اعتزاز احمد گورایہ کا کہنا تھا کہ بی وائی سی کی جانب سے دو لاشوں کے ساتھ پھر دھرنا دیا گیا، ان تمام واقعات کی بنیاد پر امن وامان کی صورتحال پیدا کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ بہت سارے نوجوان گرفتار کیے گئے، ان کو بعد میں رہا کیا گیا، ان کے والدین کا کہنا تھا کہ ہمارے بچے تو اسکول کے لیے گئے تھے۔
انکا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ سارے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، لوگوں کی املاک کو پہنچنے والے نقصان پر انتظامیہ ان کے ساتھ ہے۔
اس موقع پر ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا کسی بھی سیاسی جماعت اور گروہ کا حق ہے، احتجاج کی جگہ کے تعین کا فیصلہ انتظامیہ کے پاس ہے، خلاف ورزی پر انتظامیہ کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف ایکشن لینا پڑا۔