• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شوال کے چاند نے یک دم بہت واضح شکل میں نظر آ کر پاکستانیوں کو کتنے اندھیروں سے نکال دیا۔کتنے مسائل کو حل کر دیا ۔

میں 29 واں روزہ کھول کر چھت پر جارہا تھا کہ چاند خود دیکھ سکوں ۔گزشتہ برسوں کی طرح بہت سے خدشات تھے۔ توہمات تھے۔ خبر نہیں نظر آئے گا کہ نہیں۔ اب بصارت رہی نہ بصیرت۔ یہ بھی اندازہ نہیں کہ ہم ہلال عید دیکھنے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں یا نہیں۔ اگر عام پاکستانی یہ قابلیت رکھتے تو پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں اتنی رویت ہلال کمیٹیاں کیوں بنتیں ۔بڑے بڑے جید علماء اور مفتیوں کو زحمت کیوں دی جاتی۔ اسلام آباد کراچی لاہور کوئٹہ پشاور کمیٹیوں کیلئے افطار ڈنر کے اہتمام کیوں کیے جاتے۔ ملک میں دو دو تین تین عیدیں کیوں ہوتیں۔

ابھی سیڑھیاں پوری چڑھی بھی نہیں تھیں کہ چاند کی جھلک آنکھوں میں اترنے لگی ۔اس دن پاکستان میں زیادہ تر شہروں قصبوں بستیوں میں مطلع بالکل صاف تھا ۔آسمان بہت ہی نیل گوں تھا ۔رمضان بہت ہی مشکل اور اداس گزرا تھا ۔کتنی قیامتیں برپا ہوئیں کتنا خون بہا۔ ان وارداتوں کے پیچھے جو بھی تھے ملک دشمن یا دشمن ملک وہ عید کو بھی اتنا ہی خونیں بنانا چاہتے ہوں گے۔

ہلال عید نے ہمیں پکارا بلایا کہ دیکھو میں یہاں ہوں پوری تمکنت اور شوکت کے ساتھ ۔بے ساختہ ہاتھ دعا کیلئے اٹھ گئے۔ لاکھ لاکھ شکر خدائے بزرگ و برتر کا۔ خالق و مالک حقیقی کا کہ اتنا واضح غیر مبہم ہلال بھیج کر بے یقینی پھیلانے والوں کے سارے منصوبے برباد کر دیے۔ قیاس آرائیوں کے کارخانے یک دم بند ہو گئے۔ نمازیوں کو یقین دلا دیا گیا کہ شوال کا مہینہ شروع ہو گیا ہے اب اس کشمکش میں نہ رہیں کہ تراویح ہوگی یا نہیں۔ وہ سارے لامتناہی سلسلے رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاس پر اجلاس، میڈیا کی بے قراری، واہگہ سے گوادر تک سارے گھرانوں میں بے چینی، دکانداروں تاجروں کی حیرتیں حسرتیں۔چاند کی اس ایک جھلک کے پیچھے پورا ایک سسٹم کار فرما تھا۔

محکمہ موسمیات کے ماہرین سب یہ کہہ رہے تھے کہ چاند کی پیدائش ہو گئی ہے نظر آئے گا۔ طبیعیات بھی پس منظر میں تھی روحانیت بھی ۔سائنس بھی اور مذہب بھی۔ہم چاند دیکھ کر سب ایک دوسرے کو چاند مبارک کہنے میں لگ گئے لیکن مجھ جیسے طالب علم یہ سوچ رہے تھے کہ اتنے سفاک قریے میں، ان خون ریزیوں کے درمیان، خوف کی فضاؤں میں اچانک یہ جو ایک کھلی حقیقی روشنی دیکھنے کو ملی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گراں قدر تحفہ ہے ۔پتہ نہیں اس صابر و شاکر قوم کے تجزیہ کار،اینکر پرسن، مورخ، اساتذہ، علماء اس پر غور کریں گے کہ نہیں کہ اس بھٹکتے دور میں رحیم و کریم نے اس نعمت سے کیوں نوازا ہے۔ اب واہگہ سے گوادر تک عام پاکستانیوں کی ایک ہی سوچ ہے یا آج کل کی اصطلاح میں سب پاکستانی ایک صفحے پر ہیں۔ انہیں آپس میں رنگ نسل اور فرقے اور زبان کے حوالے سے مستقل لڑوانے والے مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ ہلال عید کا اس طرح واضح ہو کر سندھ، بلوچستان 'کے پی کے، پنجاب، گلگت، ازاد جموں و کشمیر میں نظر آنا بھی قوم کی استقامت کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ہلال سب کو اتنا ہی بڑا اور اتنا ہی روشن دکھائی دیا ۔کسی کو کسی پر فوقیت نہیں تھی۔ کوئی نامعلوم یا گرے ایریا نہیں تھا۔ سب کچھ اظہر من الشمس، سورج کی طرح ظاہر۔

وی لاگرز کی شعلہ بیانیاں دھری رہ گئیں۔ بیان بازوں کے ارادے ماند پڑ گئے ۔تجزیہ کار جنہیں اندھیرے میں بہت دور کی سوجھتی ہے، دم بخود رہ گئے۔ درباری جس طرح مدح خوانی کے اسکرپٹ بنا رہے ہوتے ہیں۔ اصل حقائق کو چھپا کر جو بادشاہ سلامت کو اپنی اور اولادوں کی وفاداری کا یقین دلا رہے ہوتے ہیں ان کی حسرتیں حسرتیں ہی رہ گئیں۔

اپنی چھت پر اس تاریخی ہلال عید کی روشن حقیقت دیکھنے کے لمحے سے میں بار بار یہ دعا کر رہا ہوں کہ کاش ہمارے حکمران، ہمارے فیصلہ ساز ،ہمارے منتظمین اس نظارے سے سبق حاصل کریں یہ تو درست ہے کہ ہم المیے سے کوئی سبق نہیں سیکھتے۔ کتنے عظیم سانحے گزر چکے۔ کتنا خون بہ چکا۔ لیکن اس طربیے سے ،اس خوشخبری سے آسمان کی اس روشنی سے ہی کچھ سیکھیں کہ کسی ایسے واضح منظر کیلئے اسباب کا جائزہ لینا بہت ضروری ہوتا ہے اور اسباب جس نتیجے کیلئے اچھے یا برے، اس پر یقین کرنا اس کیلئے تیاریاں کرنا اور لوگوں کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ اس وقت بھی واہگہ سے گوادر تک خاص طور پر بلوچستان میں اور خیبر پختون خوا میں جو صاف اور کھلا نظر آ رہا ہے۔ اس کی شہادت دینے میں کسی کو بھی کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے۔ شہادت کسی قلعے میں دینا ہو کسی چھوٹی عدالت میں یا بڑی میں یا تاریخ کی عدالت میں یا اپنے ضمیر کی عدالت میں جو دیکھا ہے جو اصل ہے اس کی شہادت دیں۔ یہ نظارے یہ اطلاعات یہ معلومات آپ کے پاس امانت ہیں ان کو من و عن حقدار کے حوالے کرنا ہی اصل ذمہ داری ہے۔ اس کے برعکس گواہی دینا امانت میں خیانت ہے۔

بلوچستان میں ایسے ہلال نظر آتے رہتے ہیں۔ سندھ میں ہلال تو کیا قمر بھی بہت واضح اور روشن ہیں۔ کے پی کی میں ایسے ہلال اور ستارے دکھائی دے رہے ہیں۔ پنجاب میں تو دھند بالکل چھٹ رہی ہے۔ یکم شوال کی جھلک نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ روشنی بہت ضروری ہے۔ روشنی ہلکی ہو یا زیادہ نا گزیر ہے ۔ بعض اوقات ایک ہلال سے بھی اتنی روشنی مل سکتی ہے جو چودھویں کا چاند بھی نہیں پھیلا سکتا اب یہ نہیں ہوگا کہ روشنی طبع کسی کیلئے بلا بن جائے ۔

تاریک طینتاں ہمہ درناز و نعمت اند

اے روشنی طبع تو بر من بلا شدی

تاریک طینت سب ناز و نعمت میں ہیں اے میری طبیعت کی روشنی تو میرے لیے بلا بن گئی۔

شوال 1446کے چاند نے سب کو یکساں روشن دکھائی دے کر واضح کر دیا ہے کہ اب روشنی طبع کی بالادستی ہے اب تاریک طینت ناز و نعم میں نہیں پلیں گے۔ سوشل میڈیا پر خبریں بلکہ نظارے دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کو پھر بھی مستند نہیں سمجھا جاتا۔ خبر سچی بھی ہو تو معتبر نہیں مانا جاتا کیونکہ وہاں کوئی روشن طبع والا ایڈیٹر نہیں ہے ۔جہاں کوشش ہو نتیجہ وہیں نکلتا ہے۔

ہلال عید نے یہ مژدہ بھی دیا ہے کہ اب تذبذب کا غلبہ نہیں رہے گا۔ روشنی سب تک یکساں پہنچے گی۔ سب کیلئے سماجی انصاف بھی ہو گا۔ قانون کا نفاذ بھی سب کیلئے برابر ہوگا۔ ایک سسٹم جنم لے رہا ہے جو اسباب نظر آرہے ہیں نتیجہ ان کے مطابق ہی ہوگا۔

کہنے والے کہہ گئے ہیں اگر دن کی روشنی میں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا تو اس میں روشنی کا کیا قصور۔

تازہ ترین