• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ دنوں پاکستان سمیت کئی ممالک پر ممکنہ امریکی سفری پابندیاں عائد ہونے کی خبریں زیر گردش رہیں مگر امریکی محکمہ خارجہ کی اس وضاحت کے بعد ان افواہوں نے دم توڑ دیا کہ امریکی ویزے کے جائزے کا عمل مکمل ہونے کی کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اپنے شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے اور ویزا عمل میں یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ امریکہ آنے والے مسافر قومی سلامتی اور پبلک سیفٹی کیلئے خطرہ نہ ہوں تاہم امریکی محکمہ خارجہ اس سلسلے میں کوئی حتمی تاریخ بتانے سے قاصر رہا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یہ افواہیں زیر گردش رہیں کہ پاکستان سمیت 43 ممالک کا نام امریکی سفری پابندیوں کے حوالے سے زیر غور ہے اور ان افواہوں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب کچھ روز قبل نیویارک ٹائمز اور روئٹرز نے شہ سرخیوں کے ساتھ یہ خبر شائع کی کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی سفری پابندی کی زد میں آنے والے 43 ممالک کو 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی کیٹگری ریڈ لسٹ ہے جس میں افغانستان، ایران، لیبیا، یمن اور شمالی کوریا سمیت 11 ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کے شہریوں کے ویزے پر مکمل پابندی عائد ہوگی اور ان ممالک کے شہریوں کے ویزے معطل کئے جائیں گے۔ دوسری کیٹگری اورنج لسٹ ہے جس میں پاکستان، روس اور سوڈان سمیت 10 ممالک کو شامل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ان ممالک کے شہریوں کے امیگرینٹ اور سیاحتی ویزے محدود کئے جائیں گے جبکہ تیسری ییلو کیٹگری میں 22ممالک شامل ہیں جن کے شہریوں کو کاروبار کیلئے امریکہ آنے کی اجازت ہوگی تاہم سیکورٹی خدشات دور کرنے اور ممکنہ سفری پابندی روکنے کیلئے 60 دن کی مہلت دی جاسکتی ہے۔ اخبار کا دعویٰ تھا کہ اس لسٹ کی حتمی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت جلد دیں گے۔ بعد ازاں ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ داعش دہشت گرد شریف اللہ کی امریکہ حوالگی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان کے بارے میں رویے میں نرمی دیکھنے میں آئی جس پر انہوں نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور لسٹ پر نظرثانی کی ہدایت کی جس سے پاکستان کیلئے امریکی ویزے کے جائزے کا عمل تاخیر کا شکار ہوا۔ حالیہ پیشرفت کے بعد پاکستان کے اورنج لسٹ سے ییلو لسٹ میں شامل کئے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں تاہم بھارت کی اب بھی یہ کوشش ہے کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا جائے۔

ممکنہ امریکی سفری پابندیوں نے امریکی مسلمان برادریوں میں بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ توسیع شدہ سفری پابندیاں غیر متناسب طور پر مسلم اکثریتی ممالک کو نشانہ بناتی ہیں جس سے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں امتیازی سلوک کو تقویت ملتی ہے۔ امریکی پالیسی کی تبدیلی نے پہلے ہی طلبا اور پیشہ ور افراد کیلئے غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس اینڈ اسکالرز آفس نے ٹریول ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں متاثرہ ممالک بالخصوص پاکستان کے طلبا پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر پر نظر ثانی کریں کیونکہ انہیں دوبارہ داخلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے پاکستانی شہریوں اور دیگر افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ کے فیصلے کو حتمی شکل دینے تک سفر سے گریز کریں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ممکنہ اقدامات امیگریشن کریک ڈان کا حصہ ہیں جس کا اعلان انہوں نے امریکی صدارت کا حلف اٹھاتے وقت کیا تھا۔ اس حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ امریکہ میں مقیم گرین کارڈ ہولڈرز کے گرد بھی گھیرا تنگ کررہی ہے اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ گرین کارڈ ہولڈرز کو امریکہ میں مستقل رہائش کا حق حاصل نہیں، آئندہ مہینوں میں بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی متوقع ہے۔ ان کے بقول گرین کارڈ ہولڈرز امریکی شہریوں جیسے حقوق کے حقدار نہیں اورانکے نزدیک یہ معاملہ بنیادی آزادی اظہار کا نہیں بلکہ قومی سلامتی کا ہے، امریکی شہری ان لوگوں سے مختلف حقوق رکھتے ہیں جو گرین کارڈ ہولڈر ہیں ۔ حالیہ دنوں میں اسٹوڈنٹ ویزے کے حامل افراد پر بھی سختی میں اضافہ ہوا ہے اور مسلمان اسٹوڈنٹس کو امریکہ کی معروف یونیورسٹیوں سے ملک بدر کردیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا نام کسی امریکی کیٹگری میں شامل نہیں لیکن آنے والا وقت اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا پاکستان امریکی سفری پابندی سے مکمل طور پر بچ سکتا ہے اور اسے کس لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ صورتحال پاکستانی شہریوں اور امریکی مسلمانوں کیلئے غیر یقینی صورتحال ہے جنہیں ڈر ہے کہ امریکہ کے سفری اقدامات سے ان کی نقل و حرکت اور انسانی حقوق متاثر ہونگے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کیخلاف ممکنہ امریکی سفری پابندی امریکہ کا ایک سیاسی فیصلہ ہے اور حکومت پاکستان کو اس حوالے سے لائحہ عمل طے کرنیکی ضرورت ہے۔ ٹرمپ صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد امریکہ سے متعدد غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کئے جانے کے باوجود بھارت کا نام امریکی سفری پابندی کی کسی کیٹگری میں شامل نہیںجس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا ممکنہ اقدام امتیازی اور غیر منصفانہ ہے۔

تازہ ترین