گجرات کے تھانہ صدر سرائے عالمگیر پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 3 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
گرفتار ملزمان سے لاکھوں روپے مالیت کی شراب اور غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
ملتان کی حدود میں آج شام تک سیلاب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے، 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔
کراچی میں 11 اور 12ربیع الاوّل کو ہیوی ٹریفک پر پابندی عائد کردی گئی۔
شہباز شریف چینی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، پاک چین تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات ہوگی۔
کراچی کے علاقے فقیرا گوٹھ میں گھر کے اندر فائرنگ سے ڈھائی سالہ بچی جاں بحق جبکہ اس کی ماں زخمی ہوگئی، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان پڑوسی اور ماں بیٹی کے رشتے دار ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ لاہور اب مکمل طور پر محفوظ ہے۔
میری ٹائم ذرائع کے مطابق کرائے پر حاصل ایک اور جہاز 'پی الکیلی' ایک ماہ بعد پی این ایس سی کو ملے گا۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے ترک مسلح افواج کے یومِ فتح کی تقریب میں شرکت کی۔
جرمنی کے نئے قونصل جنرل تھامس ایبرہارڈ شلزے نے کراچی میں اپنے عہدے کا باضابطہ طور پر چارج سنبھال لیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ نئے ڈیمز اور ریزر وائربنانے سمیت جو کچھ کرنا پڑا کریں گے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کو امدادی سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، انہیں بتایا گیا کہ متاثرین کے لیے 13 ریلیف کیمپ بنائے گئے ہیں، متاثرین کو طبی سہولتیں اور کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔
دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہے، اور پانی کی سطح میں کمی ہورہی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔
این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج میں 6 تا 7 ستمبر کے دوران 8 لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک کا بہاؤ متوقع ہے، کوٹری بیراج میں8 تا 9 ستمبر کے دوران 8 سے 10 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ متوقع ہے، 12 سے 13 ستمبر ہائی الرٹ رہے گا۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کےلیے 30 لاکھ ڈالرز کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے۔
راولپنڈی اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ ٹو کیس کی کل ہونے والی سماعت ملتوی کردی گئی۔
ایرانی صدر نے سیلاب سے جاں بحق افراد کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، ایرانی صدر نے وزیراعظم کے ساتھ گفتگو میں سیلاب متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا۔