• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: ثانیہ انور

بچّے: عثمان، ایان، جیسپر، امان، رمان، جیسن، جسٹن

ملبوسات: Tiny Toes

اسٹائلنگ: Bege salon and Studio

عکاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

بچپنے کی نٹ کھٹ شرارتیں، چلبلا پن اور معصوم مسکراہٹیں ہم سب کو بچّوں کی ایک حیران کُن، تعجب خیز دنیا میں لے جاتی ہیں اور پھراُن کی مسحورکن محبت گویا ہمیں محصور سا کر دیتی ہے۔ بےفکری، لاپروائی اورکھلنڈرے پن کے باوجود، جو بچپن کا خاصّہ ہیں، بچّوں کی ہر ایک سے بےغرض الفت و چاہت، اُن کےلیے خوشی و مسرت کے لامتناہی امکانات کھولےرکھتی ہے۔ بےساختگی، سادہ دلی کے پیکر بچّے، جن کو خُوش ہونے کے لیے بہت زیادہ چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی، اُن کا دنیا کو دیکھنے کا انداز جداگانہ، برتنے کا سلیقہ الگ ہی ہوتا ہے۔ بقول ندا فاضلی ؎ بچّوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو… چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے۔

مشتاق احمد یوسفی کتاب ’’شام ِشعر یاراں‘‘ میں اپنی مخصوص بذلہ سنجی، حسِ مزاح کا سہارا لیتے ہوئے نرالی خواہش اور ڈر دونوں کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’بچّوں میں بس ایک ہی خرابی ہے کہ بڑے ہوجاتے ہیں۔ کاش! قدرت نے اِنہیں بچپن ہی میں منجمد کرنے کی کوئی صُورت پیدا کی ہوتی تاکہ یہ ہمیشہ کھلکھلاتے رہتے۔ 

الہڑ باتیں کرتے اور ماں باپ کو ان کی جوانی کی فکرنہ کرنی پڑتی۔‘‘ شاید یوسفی صاحب کو اندرونِ خانہ یہ فکربھی دامن گیر تھی کہ عموماً بچےّ بڑے ہوکر بعنیہ ماں باپ پرچلےجاتے ہیں اور جوان ہو کرانہی کی جیسی حرکتیں بھی کرتے ہیں۔ ہر چند کہ یہ ہنسی مذاق کی بات ہے، مگر حقیقتاً صرف تفریحِ طبع کے لیے نہیں ہے۔ سچ یہی ہے کہ بچّے وہی کرتے ہیں، جو اپنے بڑوں کو کرتا دیکھتے ہیں۔ 

یعنی سادہ الفاظ میں اُن کی تربیت کے لیے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔ ان کو آفاقی اخلاقی دائرے، مذہبی حدود کے ساتھ ثقافتی اورمعاشرتی قیود سمجھانے کے لیے ہمیں خُود عملی نمونہ بننا ہوگا۔ جرمن ادیب، گویٹے اپنے ناول ’’ولہیلم مائیسٹر‘‘ میں تعلیم وتربیت کے تصوّر پر بحث کرتے ہوئے قدرت کی عطا کردہ صلاحیتیں تسلیم کرنے کے باوجود کہتے ہیں کہ ’’ہر شخص کی نظر اتنی تنگ ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کی تربیت خُود اپنی ذات کے نمونے پر کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں نیک اور پاک باز افراد کی صحبت سے بہرہ مند فرد سہولتوں کے بغیر، مگر مکمل اور مسرور زندگی بسر کر پاتا ہے۔‘‘

خیر، والدین نہ صرف اولاد کی طِفلانہ حرکتوں کا لُطف لیتے ہیں بلکہ اُن کا پَھلنا پُھولنا اُن کے لیے اور زیادہ خوشی و طمانیت کا باعث ہوتا ہے۔ بڑے ہوتے نونہالوں کی جسمانی تن درستی کے ساتھ ذہنی وجذباتی صحت بھی بہت اہم ہے، یہاں مزاح نگار یونس بٹ کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ’’آج کے بچّے اتنے بچّے نہیں ہیں۔

انہیں وہ سب میسّر ہے، جو ان کے والدین کو اُن کے زمانے میں مہیا نہ تھا، مثلا ڈیپریشن، السر، آلودگی اور ٹینشن۔‘‘ اِن دگرگوں حالات میں تعلیم کے علاوہ موثر گفتگو کے ذریعے نئی چیزیں سیکھنے کی حوصلہ افزائی کر کے اُن کی صلاحیتیں ابھاری اور خُود اعتمادی کے فروغ کے لیے چھوٹی موٹی ذمّےداریاں سوپنی جا سکتی ہیں۔ تاکہ وہ عملی زندگی کے آداب، چیلنجزسے واقفیت ہی حاصل نہ کریں، اُن سے بہتر طور پر نمٹ بھی پائیں۔ لیکن یاد رہے، بچّوں کو صرف پیار نہیں، اکرام بھی دینا ہے، خصوصاً ٹین ایجرز پر اپنا فیصلہ مسلّط کرنے کی بجائے اُنھیں مشورہ دیا جائے اور لیا بھی جاسکتا ہے۔ یقین مانیے، مایوسی نہیں ہوگی۔

تو بھئی، آج کی یہ بزم اُنہی بیل بوٹوں کے نام ہے، جو کچھ ہی عرصے میں تناور درخت بن کر اپنا خُوب سایہ پھیلائیں گے۔ ذرا دیکھیں تو بچّوں کے حُسن و بانکپن نے سورج کی نرم روشنی اورجاں فزا ہریالی کے ساتھ مل کر منظر کو کیسا دل کش کردیا ہے۔ نئےکپڑوں کی چاہت و خوشی میں مست بھائیوں، کزنز اور دوستوں کے ساتھ لُطف اُٹھاتے یہ لڑکے، ہر طرح کی مسابقت سے دُور کیسے ایک دوسرے کی دوستی میں مگن، پُرشوق نگاہوں سے اِک دوجے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ 

ہر ایک کا اپنا منفرد انداز، نرالی چھب ہے۔ خود اعتمادی، سادگی دیکھنے والوں کو محظوظ کر رہی ہے، تو سنجیدگی و متانت احساسِ ذمّےداری بھی اجاگر کررہی ہے۔ اِن سجیلے ماڈلز پر یہ جدید تراش خراش کے روایتی کُرتے پاجامے اور واسکٹس کس قدر جچ رہی ہیں۔ بنیادی مردانہ رنگ تصوّر کیے جانے والے سفید، بادامی، آسمانی، کالے، نیلے، ہلکے پستہ گرین اور کریم رنگ کے ملبوسات کے ساتھ ہلکا گلابی رنگ بھی اپنی بہار دکھا رہا ہے،جنہیں مختلف رنگ کی پھول دار، گچھے ہوئے پرنٹس کی واسکٹس کے ساتھ اسٹائل کیا گیا ہے۔ 

یوں تو ہلکےرنگوں کےکُرتے، پاجاموں کے ساتھ گہرے رنگوں کی واسکٹس اور گہرے رنگوں کے ملبوسات کے ساتھ ہلکے رنگوں کی واسکٹس جچتی ہیں، مگر یہاں سفید اور آسمانی رنگ پوشاکوں پر ہم رنگ یا قدرےشوخ رنگوں کے واسکٹس منتخب کی گئی ہیں، جو دیکھنے میں بہت خوش نُما معلوم ہورہی ہے۔ سیاہ رنگ ڈریس کو گلابی اورعنابی رنگ واسکٹس کے ساتھ کنٹراسٹ کیا گیا ہے، تو سادہ میرون اور کیمل کلرواسکٹ کو گہرے رنگوں کے ساتھ اپنا کرایک نیا ہی آہنگ دے دیا گیا ہے۔

ویسے ان واسکٹس کو مختلف رنگوں کے ملبوسات کے ساتھ ادل بدل کے بھی پہنا جاسکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کُرتے، پاجامے اگر واسکٹس کے ساتھ اہم مواقع جیسے عیدین، شادی بیاہ یا مختلف تقریبات وغیرہ میں پہنےجاسکتے ہیں، تو موسم اور موقع محل کو مدنظررکھ کر بغیر واسکٹ کے جمعے یا روزمرہ میل ملاقات میں بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ساتھ میں پشاوری چپلیں اور کیژول جوتے منتخب کیے گئے ہیں۔ ویسے یہ اسٹائلش کُرتے، پاجامے نہ صرف آرام دہ اور دیرپا ہیں بلکہ روایتی ہونے کے سبب ’’سدابہار‘‘ ( ہمیشہ فیشن میں اِن) بھی ہیں۔ آپ بھی اپنے باغ کے رنگارنگ پھولوں کے لیے یہ حسین و دل نشین رنگ وانداز بےجھجک منتخب کیجیے کہ بقول بشیر بدر ؎ اُڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں … پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید