بلقیس متین
مملکتِ خداداد، اسلامی جمہوریۂ پاکستان ہمیں اپنے اسلاف کی بیش بہا قُربانیوں کے نتیجے میں نصیب ہوا ہے۔ اِس وطن کے حصول کے لیے لازوال قُربانیاں دی گئیں۔ اَن گنت جانوں کے نذرانے پیش کیےگئے۔ کسی نے اپنا گھربار، مال ومتاع کھوئی، تو کسی نے اپنی عِصمت تک آزادی کے لیے لُٹادی۔
قیامِ پاکستان کےلیے قُربانیاں دینے والی نسل میں سے زیادہ تر لوگ آج اس دُنیا سے رُخصت ہوچُکے ہیں اور جو گِنے چُنے حیات ہیں، وہ یقیناً اپنی آنکھوں سے اس مُلک کی روز بہ روز دِگرگوں ہوتی حالت دیکھ کر خُون کے آنسو روتے ہوں گےکہ جن لوگوں نے جدوجہدِ آزادی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا، اُن کی ارواح تو اس قوم کو 14اگست یعنی آزادی کا جشن مناتے دیکھ کر تڑپ ہی جاتی ہوں گی۔
آج ہماری قوم، بالخصوص نوجوان نسل موبائل فون اورسوشل میڈیا کے سحرمیں ڈوبی ہوئی ہے اور یومِ آزادی منانےکے لیے بھی اِن ہی کا سہارا لیاجاتا ہے۔ اس ضمن میں عموماً یومِ آزادی کے موقعے پر فیس بُک، ٹوئٹر، واٹس ایپ یا انسٹا گرام وغیرہ پر جشنِ آزادی سے متعلق کوئی اسٹیٹس یا ملّی نغمہ لگا کر سمجھا جاتا ہے کہ بس حق ادا ہوگیا یا پھر فیس پینٹنگ کرکے، باجے بجا کر اور پٹاخے پھوڑ کر14اگست منانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ویسے تو اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی مُلک بَھر میں جابجا سبز و سفید رنگ کی جھنڈیاں اور جشنِ آزادی سے متعلق بےشُمار دیگر اشیاء کے،جن میں ملبوسات، زیورات، غُبارے، بیجز، کی چینز، گلاسز، چُوڑیاں اور ہر سائز کے باجے قابلِ ذکر ہیں، اسٹالز سج جاتے ہیں۔ بچّے مَن پسند اشیاء کی مَن مانی قیمت پر خریداری کرتے ہیں۔ کوئی پرچمی رنگ ملبوسات، تو کوئی دیگر ایکسیسریز پہن کر یہ دن مناتا ہے، جب کہ اگست کی 13 تاریخ کی رات بارہ بجتے ہی نوجوان اپنی موٹرسائیکلز کے سائلینسر نکال کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔
ون وِیلنگ کرکے اور ہارن، باجے بجا بجا کر، پٹاخے پھوڑ پھوڑ کے بوڑھوں، بیمار افراد کا جیناحرام کردیتے ہیں۔ یاد رہے، اس قدر بےہودہ انداز میں یومِ آزادی منانا مہذّب اقوام کا شعارتو ہرگز نہیں اور جشنِ آزادی پر اِس قسم کی حرکات اُس پاک لہو کی توہین ہے، جوجدوجہدِآزادی میں ہمارے بزرگوں نے بہایا تھا۔
آج سے دس، پندرہ برس قبل جشنِ آزادی منانے کا انداز یک سَر مختلف تھا۔ تب جشنِ آزادی کے موقعے پر بچّے جھنڈیاں آٹے کی لئی کی مدد سے ڈوریوں پرلگا کراُن سے پوری پوری گلیاں سجاتے تھے۔ ہر چند کہ ایک گھر سے دوسرے گھر تک جھنڈیوں کی لڑی پہنچانا ایک مشکل کام ہوتا تھا، لیکن جذبۂ حُبّ الوطنی سے سرشار بچّے بخوشی یہ کام کرلیتے اور جب دِن بَھر کی مشقّت کے بعد رات کو موم بتّیاں اور دیے روشن کرتے، تو اُن کی دن بَھر کی تھکان دُور ہوجاتی۔
اِسی طرح گلی محلّوں کی سطح پر یومِ آزادی کے حوالے سے مختلف مقابلوں کا انعقاد ہوتا، جن میں بچّے آزادی کے ترانے، ملّی نغمے گاتے، تقاریر کرتے اور ان مقابلوں کی تیاری کافی دن پہلے سے شروع ہوجایا کرتی تھی، پھر مقابلوں میں جیتنے والے بچّوں کو انعام دے کر حوصلہ افزائی کی جاتی۔ اُس زمانے میں اسکولز میں بھی یومِ آزادی نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا تھا۔ بچّوں میں ٹافیاں، شیرینی تقسیم کی جاتی۔ بچّے یومِ آزادی سے متعلقہ مختلف ٹیبلوز، نغموں اور تقریری مقابلوں میں حصّہ لیتے۔
علاوہ ازیں، ٹاؤن اور محلّوں کی سطح پر مصوّری اور مضمون نویسی کے مقابلے بھی منعقد ہوتے، جن میں تحریکِ پاکستان سے متعلق تصاویر اور مضامین وغیرہ شامل ہوتے۔ یوں جدوجہدِ آزادی کے دوران پیش آنے والی تکالیف یاد دلا کر بچّوں کو آزادی کی قدر وقیمت کا احساس دلایا جاتا اور اس بات کا اِعادہ کیا جاتا کہ یہ آزادی ہمیں پلیٹ میں رکھ کر نہیں دی گئی تھی، بلکہ بہت کٹھن مراحل سے گزر کر حاصل ہوئی ہے۔ سو، ہمیں اس کی بےحد قدر کرنی چاہیے اور یوں ہر یومِ آزادی ایک یادگار دن بن جاتا۔
اب یہ ہماری ذمّے داری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو یہ یاد دلائیں کہ ماضی میں جشنِ آزادی کس قدرعقیدت واحترام اور ملّی و قومی جذبے کے ساتھ منایا جاتا تھا۔ اس موقعے پر اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شُکرادا کیا جاتا تھا، کیوں کہ ہمارا مذہب بھی ہمیں نعمتوں کا شُکر ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانا چاہیے کہ آزادی جیسی نعمت پراللہ تعالیٰ کا شُکر ادا کرنے کے لیے یومِ آزادی کا آغاز شُکرانے کے نوافل ادا کر کےکیا جائے اور اس کے ساتھ ہی قیامِ پاکستان کے شہداء کے لیے ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا جائے۔ نیز، اس روز ہمیں صدقِ دل سے یہ دُعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو تا قیامت قائم رکھے اور جو اقوام، قابض افواج کے خلاف اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں، اُنہیں بھی کام یابی حاصل ہو۔
نیز، جشنِ آزادی کے موقعے پر ہمیں اپنے گھروں پر سبز ہلالی پرچم لہرانے چاہئیں اور سبز رنگ کی لائٹس اور غُباروں سے گھروں کو سجانا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا مانگنی چاہیے کہ یہ سبز ہلالی پرچم ہمیشہ اِسی طرح آزاد فضاؤں میں سربلند رہے، جب کہ ایک فرض شناس شہری کے طور پر اس مقدّس پرچم اور جھنڈیوں کو زمین پر گرنے اور سڑکوں، گلیوں میں بےحُرمتی سے بچانے کے لیے ضروری ہےکہ اُنہیں اگلے دن اُتار کرمحفوظ کرلیا جائے۔ یاد رہے، مہذّب اقوم اپنے شُہدا کی قُربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیتیں اور ہمیں بھی اس بات کا ثبوت دینا ہے کہ ہم ایک مہذّب قوم ہیں اور ہمیں اپنی آزادی ہر چیزسے زیادہ عزیز ہے۔